💡 Meaning & story
Composed by Mohammad Farooq
written by Ibn-E-Safi 1928 -1980
غزل کی تشریح اور مفہوم
• تغافل اور اپنائیت کی طلب: شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگرچہ تم سے محبت کا کوئی باضابطہ رشتہ نہیں ہے، لیکن پھر بھی کوئی نہ کوئی تعلق یا لگاؤ ہونا چاہیے۔ اگر تم مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتے تو کم از کم دشمنی کا ہی کوئی رشتہ جوڑ لو تاکہ کسی نہ کسی بہانے تم سے نسبت تو قائم رہے۔
• دل کی حیثیت: شاعر دل کو ایک کھلونا قرار دیتا ہے جسے حوادثِ روزگار نے اسے تھما دیا ہے۔ وہ محبوب سے کہتا ہے کہ یہ تمہارے کھیلنے کی چیز ہے، چاہے اس سے کھیلو یا اسے توڑ دو، کم از کم اس سے تمہارا جی تو بہلتا ہے۔
• رقیبوں کا ذکر اور شکوہ: شاعر طنزاً اور حسرت سے کہتا ہے کہ کل تم غیروں (رقیبوں) کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے اور سب کے سامنے تھے۔ اب اس بات پر کوئی نہ کوئی عذر یا بہانہ تراش کر صفائی پیش کرو۔
• عشق کی بے پناہ چاہت: شاعر اپنے محبوب کو باور کراتا ہے کہ اس دنیا میں میری طرح تمہاری چاہت کرنے والا اور کوئی نہیں ہے۔ اس لیے اتنا ظلم نہ کرو اور میرے دل کو مزید مت دکھاؤ۔
• حسن اور عشق کا تقابل: شاعر ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب حسن پردہ دار اور حیا میں مستور تھا، تب عشق دل کا خون بن کر اس کی خوبصورتی اور رنگینی کو بڑھاتا تھا۔ لیکن اب زمانہ بدل چکا ہے؛ حسن ایک بہتی ہوئی گنگا بن گیا ہے (جہاں سب کے لیے رسائی ہے) اور عشق ایک کاغذ کی ناؤ کی طرح ہے جو کسی بھی وقت ڈوب سکتی ہے۔
• نصیحت اور ہوش کی طرف واپسی: غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنے بے قابو دل کو مخاطب کرتا ہے کہ راتیں کٹ چکی ہیں اور عشق کی تمام اذیتیں برداشت ہو چکی ہیں، اب اے دل! ہوش میں آ جاؤ اور اس درد بھری دنیا کی حقیقت کو سمجھ لو۔
Lyrics & Meaning