Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Be Hijaaab — cover art

Song lyrics

Be Hijaaab

📜 Lyrics

بے حِجَاب آپ کے آنے کی ضَرُورَت کیا تھی یوں مِرے ہوش اُڑانے کی ضَرُورَت کیا تھی ضَرُورَت کیا تھی... ضَرُورَت کیا تھی... کے ضَرُورَت کیا تھی ہَم سے کَہنا تھا ڈبو دیتے سَفِینَہ اَپنا اِتنے طُوفان اُٹَھانے کی ضَرُورَت کیا تھی ضَرُورَت کیا تھی... ضَرُورَت کیا تھی... کی ضَرُورَت کیا تھی جَب سے آیا ہوں یَہاں مہرِ بہ لَب بَیٹھا ہوں مُجھ کو مَحفِل میں بُلانے کی ضَرُورَت کیا تھی ضَرُورَت کیا تھی... ضَرُورَت کیا تھی... کی ضَرُورَت کیا تھی اَپنے کِرْدَار و عمل پَر جو بھروسہ ہوتَا آپ کے ناز اُٹَھانے کی ضَرُورَت کیا تھی ضَرُورَت کیا تھی... ضَرُورَت کیا تھی... کی ضَرُورَت کیا تھی یوں بھی ہو سکتے تھے آباد تِرے وِیرَانے ہَم کو دیوانہ بنانے کی ضَرُورَت کیا تھی ضَرُورَت کیا تھی... ضَرُورَت کیا تھی... کی ضَرُورَت کیا تھی اَشک خون بَعد میں سرشارؔ بہانے تھے اَگَر خونِ عشاق بہانے کی ضَرُورَت کیا تھی ضَرُورَت کیا تھی... ضَرُورَت کیا تھی... کی ضَرُورَت کیا تھی

💡 Meaning & story

Reimagine Mohammad Fraooq written by Jaimini Sarshar 1904 - 1984 پہلا شعر بے حجاب آپ کے آنے کی ضرورت کیا تھی یوں مرے ہوش اڑانے کی ضرورت کیا تھی • تشریح: شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ تم اتنے پردے ہٹا کر (بے حجاب) سامنے کیوں آئے؟ تمہاری اس اچانک اور خوبصورت جلوہ گری سے میرے ہوش اڑ گئے ہیں، اتنی بڑی آزمائش میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی؟ دوسرا شعر ہم سے کہنا تھا ڈبو دیتے سفینہ اپنا اتنے طوفان اٹھانے کی ضرورت کیا تھی • تشریح: شاعر کہتا ہے کہ اگر تم میری زندگی یا دل کی کشتی کو غرق ہی کرنا چاہتے تھے، تو مجھ سے ایک بار کہہ دیتے، میں خود ہی اسے ڈبو دیتا۔ اس کے لیے طوفان اٹھانے اور اتنی زحمت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یعنی عاشق تو محبوب کے ایک اشارے پر سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھا۔ تیسرا شعر جب سے آیا ہوں یہاں مہر بہ لب بیٹھا ہوں مجھ کو محفل میں بلانے کی ضرورت کیا تھی • تشریح: یہاں شاعر اپنی خاموشی اور بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب سے میں اس محفل میں آیا ہوں، میرے ہونٹوں پر خاموشی کی مہر لگی ہوئی ہے (میں کچھ بول نہیں پا رہا)۔ جب میں نے بالکل خاموش ہی رہنا تھا، تو مجھے اس محفل میں بلانے کا کیا فائدہ تھا؟ چوتھا شعر اپنے کردار و عمل پر جو بھروسہ ہوتا آپ کے ناز اٹھانے کی ضرورت کیا تھی • تشریح: اس شعر میں عاجزی اور محبت کی بے بسی کا اظہار ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر ہمیں اپنے ہی کردار اور عمل پر مکمل بھروسہ ہوتا کہ ہم خود کو سنبھال لیں گے، تو ہمیں آپ کے ناز اٹھانے اور آپ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہ آتی۔ پانچواں شعر یوں بھی ہو سکتے تھے آباد ترے ویرانے ہم کو دیوانہ بنانے کی ضرورت کیا تھی • تشریح: شاعر کہتا ہے کہ تیری محبت کا ویران نگر کسی اور طریقے سے بھی آباد ہو سکتا تھا، اس کے لیے مجھے محبت میں پاگل (دیوانہ) بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ عشق کی اس راہ میں عاشق کا دل و دماغ اجڑ جاتا ہے، جسے شاعر نے ایک گلے کی صورت میں بیان کیا ہے۔ چھٹا شعر (مقطع) اشک خوں بعد میں سرشارؔ بہانے تھے اگر خون عشاق بہانے کی ضرورت کیا تھی • تشریح: مطلع یا مقطع میں تخلص استعمال کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب! اگر آخرکار تم نے عاشقوں کے خون پر ہی پلنا تھا اور بعد میں آنکھوں سے خون کے آنسو ہی بہانے تھے، تو پھر پہلے سے اتنی تکلیف دے کر عاشقوں کا خون بہانے کی کیا ضرورت تھی؟ یعنی انجام کار رونا ہی تھا تو ابتدا ہی کیوں کی گئی۔