💡 Meaning & story
written & Composed by Mohammad Farooq
کوئی ہمدم نہ رہا، کوئی سہارا نہ رہا ہم کسی کے نہ رہے، کوئی ہمارا نہ رہا یہ اس غزل کا مطلع ہے جس میں انتہائی گہری تنہائی اور بے بسی کا ذکر ہے۔ ساؤنڈ کلاؤڈ کے سامعین کے لیے یہ شعر ایک ایسے شخص کی کیفیت بیان کرتا ہے جس کا دنیا سے تعلق اس حد تک ٹوٹ چکا ہے کہ اب نہ وہ کسی کا دعویدار ہے اور نہ کوئی اسے اپنا ماننے والا ہے۔
ڈُوبتی ناؤ تھی اور مَوجِ حوادِث تھی شَدید دُور تک چشمِ طَلَب میں کوئی کِنارا نہ رہا زندگی کو ایک ڈوبتی ہوئی کشتی سے تشبیہ دی گئی ہے جو مصیبتوں کی طوفانی لہروں میں پھنس چکی ہے۔ امید بھری نگاہیں دُور دُور تک تلاش کے باوجود کوئی ایسا کنارہ نہیں پا رہیں جہاں سکون یا پناہ مل سکے۔
جس کی خاطِر یہ سہے ہم نے زمانے کے سِتَم اُس کی نظروں میں بھی اب کوئی اِشارہ نہ رہا یہاں یہ شکوہ ہے کہ جس شخص کی محبت کی خاطر دنیا بھر کی تکلیفیں اور طعنے برداشت کیے، اب اس کی آنکھوں میں بھی ہمدردی یا محبت کا کوئی اشارہ باقی نہیں بچا۔ اپنوں کی اس بے رخی نے سب سے زیادہ تکلیف دی ہے۔
ہم نے جس خواب کو سینے سے لگایا تھا کبھی اُس حسیں خواب کا اب کوئی نَظارہ نہ رہا انسان زندگی میں کچھ خوبصورت خواب دیکھتا ہے اور ان سے جینے کی امید باندھتا ہے۔ اس شعر میں انھی امیدوں کے ٹوٹنے کا درد ہے کہ وہ خواب جو کبھی دل کے بہت قریب تھے، اب ان کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہی۔
زِندگی کٹتی ہے اب گِن کے فَقَط سانسوں کو دردِ ہِجراں کے سِوا کوئی گُزارا نہ رہا اب زندگی جینے کا نام نہیں رہا بلکہ صرف سانسیں گن کر وقت گزارنے کا نام بن چکی ہے۔ محبوب سے جدائی کے درد نے پوری زندگی کو گھیر لیا ہے اور اب اسی درد کے ساتھ جینے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
اِک وُہی شخص تھا جو جینے کی وجہ تھا میری وہ جو بِچھڑا تو کوئی زیست کا چارا نہ رہا زندگی میں ایک ہی شخص تھا جس کی وجہ سے جینے کی امنگ تھی۔ جب وہ ہم سفر ساتھ چھوڑ گیا تو زندگی بے معنی ہو گئی اور زندہ رہنے کا کوئی بہانہ یا علاج نہیں بچا۔
عشق کے کھیل میں سب کچھ ہی لُٹا بیٹھے ہیں ہم اب ہمارے لِیے باقی کوئی خَسارا نہ رہا عشق کے اس سفر میں ہم اپنا سب کچھ گنوا چکے ہیں۔ جب انسان کے پاس ہارنے کے لیے کچھ بچے ہی نہ تو اسے مزید کسی نقصان کا ڈر نہیں رہتا۔ یہ مکمل سپردگی اور تباہی کی کیفیت ہے۔
آسماں رویا میری زِیست کی تارِیکی پر میری قِسمت کا چمکتا کوئی سِتارہ نہ رہا زندگی میں اتنی تاریکی اور اداسی چھا گئی ہے کہ جیسے آسمان بھی اس حال پر رو رہا ہو۔ خوش قسمتی اور امید کا جو ستارہ کبھی تقدیر میں چمکتا تھا، وہ اب بجھ چکا ہے۔
کس سے کہیے کہ یہاں کیا ہے اَذِیّت فارُوقؔ اِس بھرے شہر میں اب کوئی بھی پیارا نہ رہا اس مقطع میں یہ احساس نمایاں ہے کہ دل کے درد اور اذیت کا ذکر اب کس سے کیا جائے؟ یہ شہر لوگوں سے بھرا ہوا ہے، ہجوم ہر طرف ہے، لیکن اس ہجوم میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جسے اپنا کہا جا سکے اور جس کے سامنے دل کا حال رکھا جا سکے۔
Lyrics & Meaning