Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Ajnabi — cover art

Song lyrics

Ajnabi

📜 Lyrics

اجنبی رہنے دے مُجھ کو، مُجھے اَپنا نَہ بَنا میں تِری مانگ سِتاروں سے نَہیں بَھر سکتا مُجھے اَپنا نَہ بَنا مُجھے اَپنا نَہ بَنا تیرے دامن کو بَہاروں سے نَہیں بَھر سکتا میری بے رنگ فضاؤں میں کَہاں شام و سَحَر مُجھے اَپنا نَہ بَنا مُجھے اَپنا نَہ بَنا میرے تاریک گھروندے میں کَہاں تیرا گُزر میرے صَحرا سے گُلستانوں کی اُمّید نَہ کَر اُجڑی دُنیا سے شبستانوں کی اُمّید نَہ کَر اجنبی رہنے دے مُجھ کو، مُجھے اَپنا نَہ بَنا میری خَاطر یہ مَحَل اَور یہ محراب نَہ چھوڑ خواب گاہوں کے مُسرت سے بَھرے خواب نَہ چھوڑ روشنی چھوڑ کے دَر آ نَہ سیہ خانے میں شَمع روشن ہو بَھلا کیوں کِسی وِیرَانے میں میں تُجھے کوئی حسیں تاج نَہیں دے سکتا کَل تو کَل ہے میں تُجھے آج نَہیں دے سکتا اجنبی رہنے دے مُجھ کو، مُجھے اَپنا نَہ بَنا

💡 Meaning & story

مرکزی خیال (Theme): اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ سچی محبت صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ اس میں محبوب کی بھلائی بھی سوچی جاتی ہے۔ شاعر اپنی محبوبہ سے التجا کر رہا ہے کہ وہ اس سے دور رہے کیونکہ وہ اسے وہ آسائشیں، سکون اور خوشیاں نہیں دے سکتا جس کی وہ عادی ہے یا جس کی وہ حقدار ہے۔ شاعر اپنی غربت کا اعتراف کرتے ہوئے حقیقت پسندی سے کام لیتا ہے۔ بند وار آسان تشریح: پہلا حصہ: اجنبی رہنے دے مُجھ کو، مُجھے اَپنا نَہ بَنا میں تِری مانگ سِتاروں سے نَہیں بَھر سکتا تیرے دامن کو بَہاروں سے نَہیں بَھر سکتا مفہوم: شاعر اپنی محبوبہ سے کہتا ہے کہ ہمارے درمیان جو فاصلہ ہے اسے قائم رہنے دو، ہم اجنبی ہی بھلے ہیں۔ میں ایک عام اور غریب انسان ہوں، میں تمہاری مانگ ستاروں سے نہیں بھر سکتا (یعنی میں تمہیں ہیرے جواہرات، شان و شوکت اور مال و دولت نہیں دے سکتا)۔ میں تمہاری زندگی کو خوشیوں اور بہاروں سے نہیں سجا سکتا، اس لیے مجھے اپنا جیون ساتھی بنانے کا خیال دل سے نکال دو۔ دوسرا حصہ: میری بے رنگ فضاؤں میں کَہاں شام و سَحَر میرے تاریک گھروندے میں کَہاں تیرا گُزر میرے صَحرا سے گُلستانوں کی اُمّید نَہ کَر اُجڑی دُنیا سے شبستانوں کی اُمّید نَہ کَر مفہوم: شاعر اپنی خستہ حالی اور غریبی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میری زندگی میں کوئی رنگ اور رونق نہیں ہے۔ میری صبحیں اور شامیں بہت اداس ہیں۔ میرے تاریک اور چھوٹے سے کچے گھر میں تمہارا گزارہ ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ تم نے ہمیشہ آرام کی زندگی گزاری ہے۔ میری زندگی ایک خشک صحرا (ریگستان) کی طرح ہے، اس سے خوبصورت باغوں جیسی ہریالی اور خوشیوں کی توقع مت رکھو۔ میری دنیا پہلے ہی اجڑی ہوئی ہے، یہاں تمہیں محلات جیسی آرام دہ راتیں اور سکون نہیں مل سکتا۔ تیسرا حصہ: میری خَاطر یہ مَحَل اَور یہ محراب نَہ چھوڑ خواب گاہوں کے مُسرت سے بَھرے خواب نَہ چھوڑ روشنی چھوڑ کے دَر آ نَہ سیہ خانے میں شَمع روشن ہو بَھلا کیوں کِسی وِیرَانے میں میں تُجھے کوئی حسیں تاج نَہیں دے سکتا کَل تو کَل ہے میں تُجھے آج نَہیں دے سکتا مفہوم: شاعر اپنی محبوبہ کو سمجھاتا ہے کہ میرے لیے اپنے یہ شاندار محل اور خوشیوں سے بھری پرتعیش زندگی مت چھوڑو۔ تم ایک روشن اور خوشحال دنیا میں رہتی ہو، اسے چھوڑ کر میری غربت کے اندھیروں میں مت آؤ۔ بھلا کسی ویران اور اجڑی ہوئی جگہ پر شمع جلانے کا کیا فائدہ؟ میں تمہیں کوئی تاج یا بادشاہت (عیش و عشرت کی زندگی) نہیں دے سکتا۔ تمہارا آنے والا کل (مستقبل) سنوارنا تو بہت دور کی بات ہے، میں تو اتنے وسائل بھی نہیں رکھتا کہ تمہارے 'آج' (حال) کو بھی محفوظ اور خوشگوار بنا سکوں۔ یہ نظم دراصل ایک غریب عاشق کی بے بسی کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی محبت کو اس لیے ٹھکرا رہا ہے تاکہ اس کی محبوبہ کو مستقبل میں کوئی دکھ یا تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ یہ الفاظ قارئین کو محبت کے ایک ایسے زاویے سے روشناس کراتے ہیں جہاں قربانی اور حقیقت پسندی جذبات پر حاوی ہو جاتی ہے۔