Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Mujhe bhool jaa — cover art

Song lyrics

Mujhe bhool jaa

📜 Lyrics

میرے ساقیاَ مُجھے بُھول جَا میرے دِل رُبا مُجھے بُھول جَا نَہ وہ دِل رَہا نَہ وہ جِی رَہا نَہ وہ دَور عیش و خُوشی رَہا نَہ وہ ربط و ضبط دلی رَہا نَہ وہ اوج تشنہ لبی رَہا نَہ وہ ذوق بادہ کشی رَہا میں الم نواز ہوں آج کَل میں شکستہ ساز ہوں آج کَل میں سراپا راز ہوں آج کَل مُجھے اَب خَیال میں بھی نَہ مِلا مُجھے بُھول جَا مُجھے بُھول جَا مُجھے زِندَگی سے عزیز تر فقط ایک تیری ہی ذات تھی تِری ہَر نِگاہ مِرے لیے سبب سُکون حیات تھی میری داستان وَفا کَبھی تِری شرح حُسن صِفات تھی مَگَر اَب تو رنگ ہی اَور ہے نَہ وہ طرز ہے نَہ وہ طور ہے یہ سِتَم بھی قابلِ غور ہے تُجھے اَپنے حُسن کا واسطہ مُجھے بُھول جَا مُجھے بُھول جَا قَسَم اِضطرابِ حیات کی مُجھے خاموشی میں قَرار ہے میرے صحن گُلشَن عِشق میں نَہ خِزاں ہے اَب نَہ بَہار ہے یہی دِل تھا رونق اَنْجمَنْ یہی دِل چراغِ مزار ہے مُجھے اَب سُکون دگر نَہ دے مُجھے اَب نویدِ سَحَر نَہ دے مُجھے اَب فریب نَظَر نَہ دے نَہ ہو وہم عِشق میں مُبْتِلَا مُجھے بُھول جَا مُجھے بُھول جَا

💡 Meaning & story

Composed by Mohammad Farooq written by Shakeel Badayuni 1916 – 1970 شکیل بدایونی کی یہ نظم انسانی جذبات کی شکست و ریخت، ماضی کی محبت سے مکمل کنارہ کشی اور تنہائی کے کرب کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ • ماضی کا اختتام اور حال کی اداسی: شاعر اپنے محبوب (ساقی/دلربا) سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اب وہ پہلے والا انسان نہیں رہا۔ اس کے دل سے خوشی، محبت کی پرانی کشش اور عشق کا ذوق ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ ایک ٹوٹا ہوا ساز اور غم کا مجسمہ بن چکا ہے، اس لیے محبوب اسے اپنے خیالوں سے بھی مٹا دے۔ • عروجِ عشق کا اعتراف: ایک وقت تھا جب محبوب اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا اور اس کی ایک نگاہ شاعر کی زندگی کا سکون تھی۔ شاعر کی داستانِ وفا دراصل محبوب کے حسن ہی کی تشریح تھی، لیکن اب حالات، جذبات اور رنگ ڈھنگ یکسر بدل چکے ہیں۔ • خاموشی اور بے حسی میں سکون: شاعر زندگی کی بے چینیوں کی قسم کھا کر بتاتا ہے کہ اب اس کا سکون صرف تنہائی اور خاموشی میں پوشیدہ ہے۔ اس کے دل کا باغ اس قدر ویران ہو چکا ہے کہ اب وہاں خزاں اور بہار دونوں بے معنی ہیں۔ جو دل کبھی محفل کی جان ہوا کرتا تھا، اب وہ کسی مزار پر رکھے ہوئے تنہا اور اداس چراغ کی طرح ہے۔ • آخری التجا اور فریب سے گریز: وہ محبوب کو اسی کے حسن کا واسطہ دے کر التجا کرتا ہے کہ اب اسے محبت کے کسی نئے وہم، جھوٹی امید (نویدِ سحر) یا نظر کے دھوکے میں نہ الجھایا جائے اور اسے ہمیشہ کے لیے فراموش کر دیا جائے۔