Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Raasta Rookeen — cover art

Song lyrics

Raasta Rookeen

📜 Lyrics

چَلو سَمجھائیں دِل کو بے دِلی کا راستہ روکیں ہو مُمکِن جِس طَرَح اُس بے بسی کا راستہ روکیں بے بسی کا راستہ روکیں... بے بسی کا راستہ روکیں... کَہیں جا کُنجِ گُل میں چھپ گَئے ہونگے وہ بیچارے نَہیں مُمکِن کہ جُگْنو چاندنی کا راستہ روکیں چاندنی کا راستہ روکیں... چاندنی کا راستہ روکیں... کَروں میں زَخم دِل کے چاک تو کَہتے ہیں کیا کہنے نَہ بانٹیں غَم نَہ میری شاعِری کا راستہ روکیں شاعِری کا راستہ روکیں ... شاعِری کا راستہ روکیں... یہ بَیٹھے سوچتے ہیں خارِ گُل کے چار سُو کَیسے صبا، شَبنَم، مَہَک، تِتْلِی کِسی کا راستہ روکیں کِسی کا راستہ روکیں... کِسی کا راستہ روکیں... تُو ہی ہَم بے وسیلوں کا خُدایا ہے وسِیلہ بَس ہَمیں دے حَوصَلہ مُشکِل گھڑی کا راستہ روکیں گھڑی کا راستہ روکیں... گھڑی کا راستہ روکیں... رَچْی ہے تیرگی جِن کے دِماغوں میں دِلوں میں بھی یہی تو لوگ ہیں جو روشنی کا راستہ روکیں روشنی کا راستہ روکیں ... روشنی کا راستہ روکیں... قَمَر اُس دیس کا خوش حال کَیسے آدمی ہوگا یَہاں تو آدمی ہی آدمی کا راستہ روکیں آدمی کا راستہ روکیں ... آدمی کا راستہ روکیں ... آدمی کا راستہ روکیں

💡 Meaning & story

Reimagine by Mohammad Farooq written by Qamar Farid Chesti مرکزی خیال / مجموعی مفہوم یہ غزل قمر فرید چشتی صاحب کے گہرے مشاہدے اور معاشرتی شعور کی عکاس ہے۔ اس کا مرکزی موضوع مایوسی سے نکل کر امید کا دامن تھامنا، معاشرتی بے حسی، حسد، اور سچائی کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا بیان ہے۔ شاعر نے اپنے سامعین کو یہ پیغام دیا ہے کہ برائی اور تاریکی چاہے کتنی ہی منظم کیوں نہ ہو، وہ سچائی، روشنی اور فطری حسن کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اشعار کی تفصیلی تشریح (سامعین کے لیے) چلو سمجھائیں دل کو بے دلی کا راستہ روکیں ہو ممکن جس طرح اس بے بسی کا راستہ روکیں تشریح: شاعر خود کلامی اور ترغیب کے انداز میں کہتا ہے کہ ہمیں حالات کے سامنے ہتھیار ڈال کر مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی میں جب بے بسی اور اداسی حاوی ہونے لگے، تو یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے دل کو حوصلہ دیں اور ہر ممکن کوشش کر کے اس مایوسی کا راستہ روکیں۔ یہ شعر زندگی میں رجائیت (امید) اور مسلسل جدوجہد کا درس دیتا ہے۔ کہیں جا کُنجِ گل میں چھپ گئے ہونگے وہ بیچارے نہیں ممکن کہ جگنو چاندنی کا راستہ روکیں تشریح: یہ ایک انتہائی خوبصورت تمثیلی شعر ہے۔ شاعر حق اور باطل کی کشمکش کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ سچائی اور حق کی کامل روشنی (چاندنی) کے سامنے جھوٹ اور باطل (جگنو) کی کوئی حیثیت نہیں۔ جس طرح جگنوؤں کے لیے چاند کی روشنی کو روکنا ناممکن ہے اور وہ شرما کر پھولوں کے گوشوں (کنجِ گل) میں چھپ جاتے ہیں، اسی طرح باطل کبھی سچ کا راستہ نہیں روک سکتا۔ کروں میں زخم دل کے چاک تو کہتے ہیں کیا کہنے نہ بانٹیں غم نہ میری شاعری کا راستہ روکیں تشریح: اس شعر میں شاعر نے معاشرے کی بے حسی اور فنکاروں/شاعروں کے ساتھ روایتی سلوک پر طنز کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب میں اپنے دل کے سچے دکھ اور تکالیف کو شاعری میں ڈھال کر پیش کرتا ہوں، تو لوگ داد (واہ واہ) دیتے ہیں۔ وہ میرے دکھ کو محسوس کر کے میرا غم نہیں بانٹتے، بلکہ میری تکلیف کو محض ایک فن سمجھ کر اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ بیٹھے سوچتے ہیں خار گل کے چار سو کیسے صبا، شبنم، مہک، تتلی کسی کا راستہ روکیں تشریح: شاعر نے حسد کرنے والوں کو پھول کے گرد موجود کانٹوں سے تشبیہ دی ہے۔ کانٹے اس سازش میں مصروف رہتے ہیں کہ وہ کسی طرح تازہ ہوا، شبنم کے قطروں، خوشبو اور تتلیوں کو پھول تک پہنچنے سے روک دیں۔ مگر فطرت کا حسن اور محبت اپنا راستہ بنا ہی لیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حاسدین اور برے لوگ اچھائی اور خوبصورتی کی راہ میں جتنی بھی رکاوٹیں کھڑی کریں، وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ تو ہی ہم بے وسیلوں کا خدایا ہے وسیلہ بس ہمیں دے حوصلہ مشکل گھڑی کا راستہ روکیں تشریح: یہ شعر بارگاہِ الٰہی میں ایک عاجزانہ دعا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے پروردگار! اس دنیا میں ہم بے سہاروں اور کمزوروں کا آسرا صرف تیری ذات ہے۔ ہمیں اتنی ہمت، استقامت اور حوصلہ عطا فرما کہ ہم زندگی کی کٹھن منزلوں اور مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں اور مصیبتوں کے آگے بند باندھ سکیں۔ رچی ہے تیرگی جن کے دماغوں میں دلوں میں بھی یہی تو لوگ ہیں جو روشنی کا راستہ روکیں تشریح: شاعر ان لوگوں کی نشاندہی کر رہا ہے جو معاشرے میں جہالت، تعصب اور برائی کے علمبردار ہیں۔ وہ لوگ جن کے دل اور دماغ بغض اور تاریکی سے بھر چکے ہیں، دراصل وہی معاشرے میں علم، شعور، اور ترقی (روشنی) کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ قمر اس دیس کا خوش حال کیسے آدمی ہوگا یہاں تو آدمی ہی آدمی کا راستہ روکیں تشریح: غزل کے اس مقطع میں شاعر نے ایک بہت بڑی معاشرتی تلخی کو بے نقاب کیا ہے۔ قمر فرید چشتی صاحب اپنے قلمی نام کے ساتھ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کا انسان کیسے ترقی اور خوشحالی کی منزل پا سکتا ہے، جب کہ یہاں سب سے بڑی رکاوٹ کوئی اور نہیں بلکہ خود انسان ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے ہیں اور ایک دوسرے کی ترقی سے جل کر ان کے راستے بند کرتے ہیں۔ جب تک یہ روش نہیں بدلے گی، خوشحالی ممکن نہیں۔