Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Taqdeer — cover art

Song lyrics

Taqdeer

📜 Lyrics

تَقدیر جَب معاون تدبِیر ہو گَئی مِٹّی پہ کی نِگاہ تو اکسیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... تو اکسیر ہو گَئی دِل جاں نثار مَے ہے زباں تائب شراب اِس کشمکش میں رُوح کی تعزیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... کی تعزیر ہو گَئی چھینٹیں جو خون کی دامن قاتل میں رہ گئیں محشر میں میرے قلب کی تفسیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... کی تفسیر ہو گَئی یا قتل کیجئے مُجھے یا بخش دیجیے اَب ہو گَئی حضور جو تقصیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... جو تقصیر ہو گَئی شَبنَم اوڑھی گُلوں سے مِرا نقشہ کھنچ گَیا مُرجھا گَئی کلی مِری تصویر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... مِری تصویر ہو گَئی زندانیاں کاکل ہستی کدھر کو جائیں اِک زُلف سَب کے پاؤں کی زَنجیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... کی زَنجیر ہو گَئی میں کہہ چَلا تھا داور محشر سے حال دِل اِک سرمگیں نِگاہ گلو گیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... گلو گیر ہو گَئی بَس تَھم گَیا سفیر عمل کہہ کے یا نَصیب جِس جا پہ ختم مَنزِل تدبِیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... مَنزِل تدبِیر ہو گَئی توڑا ہے دَم اَبھی اَبھی بیمار ہِجر نے آئے مَگَر حضور کو تاخیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... کو تاخیر ہو گَئی جَب اَپنے آپ پَر ہَمیں قابُو مِلا رواںؔ آسان راز دَہر کی تفسیر ہو گَئی ہو گَئی... ہو گَئی... کی تفسیر ہو گَئی

💡 Meaning & story

Reimagine by Mohammad Farooq Written by Jagat Mohan Ala Ravan 1889 – 1934 جگموہن لال رواںؔ کی یہ غزل تقدیر و تدبیر کی کشمکش، انسانی جذبات اور عشق کی لطافتوں کا ایک انتہائی دلکش اور فکر انگیز مرقع ہے۔ اشعار کی تشریح و تفہیم • تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئی / مٹی پہ کی نگاہ تو اکسیر ہو گئی اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب انسان کی کوشش (تدبیر) کے ساتھ اس کی قسمت (تقدیر) بھی شامل ہو جائے تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ ایسے خوش نصیب وقت میں اگر انسان مٹی پر بھی نظر ڈالے تو وہ سونا یا کیمیا (اکسیر) بن جاتی ہے۔ • دل جاں نثار مے ہے زباں تائب شراب / اس کشمکش میں روح کی تعزیر ہو گئی یہاں انسانی نفسیات کی کشمکش بیان کی گئی ہے۔ دل عشق اور مستی پر جان چھڑکتا ہے، لیکن زبان دنیاوی مصلحتوں یا عقل کی وجہ سے اس سے توبہ کرتی ہے۔ دل اور دماغ کی اس جنگ میں اصل سزا (تعزیر) بے چاری روح کو بھگتنی پڑتی ہے۔ • چھینٹیں جو خوں کی دامن قاتل میں رہ گئیں / محشر میں میرے قلب کی تفسیر ہو گئی روزِ قیامت جب عاشق کے قتل کا مقدمہ پیش ہوا، تو اسے کچھ بولنے کی ضرورت نہ پڑی۔ قاتل (محبوب) کے دامن پر لگی خون کی چند چھینٹوں نے ہی عاشق کے سچے دل اور اس کی گہری محبت کی پوری کہانی بیان کر دی۔ • یا قتل کیجئے مجھے یا بخش دیجیے / اب ہو گئی حضور جو تقصیر ہو گئی عاشق اپنے محبوب کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھ سے جو گناہ یا خطا (تقصیر) ہونی تھی وہ ہو چکی ہے۔ اب یہ سراسر آپ کا اختیار ہے کہ مجھے اس جرم میں مار ڈالیں یا معاف کر دیں۔ • شبنم اوڑھی گلوں سے مرا نقشہ کھنچ گیا / مرجھا گئی کلی مری تصویر ہو گئی شاعر اپنی غمگین حالت کو فطرت سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ پھولوں پر پڑی شبنم دراصل میرے آنسوؤں کی عکاسی کر رہی ہے، اور ایک مرجھائی ہوئی کلی بالکل میری اداس اور ٹوٹی ہوئی تصویر پیش کر رہی ہے۔ • زندانیاں کاکل ہستی کدھر کو جائیں / اک زلف سب کے پاؤں کی زنجیر ہو گئی یہ شعر فلسفیانہ رنگ لیے ہوئے ہے۔ دنیا کی کشش اور زندگی کے جھمیلوں نے تمام انسانوں کو قیدی بنا لیا ہے۔ ہم سب اس دنیاوی زلف کے اسیر ہیں جو ہمارے پیروں کی بیڑی بن چکی ہے، اب اس قیدِ حیات سے فرار ممکن نہیں۔ • میں کہہ چلا تھا داور محشر سے حال دل / اک سرمگیں نگاہ گلو گیر ہو گئی میدانِ حشر میں جب میں خدا (داورِ محشر) کے سامنے اپنے محبوب کے ظلم کی شکایت کرنے ہی والا تھا، تو محبوب نے میری طرف ایک ایسی نشیلی اور گہری نگاہ ڈالی کہ میری آواز حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی (گلو گیر ہو گئی) اور میں لب نہ کشا کر سکا۔ • بس تھم گیا سفیر عمل کہہ کے یا نصیب / جس جا پہ ختم منزل تدبیر ہو گئی انسان کی محنت اور کوشش بس ایک خاص حد تک ہی ساتھ دیتی ہے۔ جہاں انسانی عقل اور تدبیر کی حد ختم ہوتی ہے، وہاں انسان بے بس ہو کر سب کچھ قسمت (نصیب) کے حوالے کر کے رک جاتا ہے۔ • توڑا ہے دم ابھی ابھی بیمار ہجر نے / آئے مگر حضور کو تاخیر ہو گئی محبوب سے جدائی میں تڑپنے والا عاشق بالآخر مر چکا ہے۔ محبوب اس کی عیادت کو آیا تو ضرور، لیکن اس کے آنے میں اتنی دیر ہو گئی کہ عاشق کی جان نکل چکی تھی۔ • جب اپنے آپ پر ہمیں قابو ملا رواںؔ / آسان راز دہر کی تفسیر ہو گئی مقطعے میں رواںؔ کہتے ہیں کہ جب انسان خود شناسی حاصل کر لیتا ہے اور اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے، تو اس کے لیے اس کائنات اور دنیا (دہر) کے تمام پوشیدہ رازوں کو سمجھنا بالکل آسان ہو جاتا ہے۔