Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
sab kuchh apna hai — cover art

Song lyrics

sab kuchh apna hai

📜 Lyrics

اِس دُنیا میں اَپنا کیا ہے کہنے کو سَب کُچھ اَپنا ہے سَب کُچھ اَپنا ہے اِس دُنیا میں اَپنا کیا ہے سَب کُچھ اَپنا ہے سَب کُچھ اَپنا ہے یوں تو شَبنَم بھی ہے دَریا یوں تو دَریا بھی پیاسا ہے دَریا بھی پیاسا ہے دَریا بھی پیاسا ہے یوں تو ہِیرَا بھی ہے کَنْکَر یوں تو مِٹّی بھی سونا ہے مِٹّی بھی سونا ہے مِٹّی بھی سونا ہے اِس دُنیا میں اَپنا کیا ہے کہنے کو سَب کُچھ اَپنا ہے سَب کُچھ اَپنا ہے منہ دیکھے کی باتیں ہیں سَب کِس نے کِس کو یاد کِیّا ہے کو یاد کِیّا ہے کو یاد کِیّا ہے تیرے ساتھ گَئی وہ رونق اَب اِس شَہر میں کیا رَکھا ہے میں کیا رَکھا ہے بات نَہ کَر صُورَت تو دِکھا دے تیرا اِس میں کیا جاتا ہے میں کیا جاتا ہے میں کیا جاتا ہے اِس دُنیا میں اَپنا کیا ہے کہنے کو سَب کُچھ اَپنا ہے سَب کُچھ اَپنا ہے دِھیَان کے آتش دان میں ناصرؔ بُجھے دِنوں کا ڈھیر پڑا ہے کا ڈھیر پڑا ہے کا ڈھیر پڑا ہے

💡 Meaning & story

Reimagine & composed by Mohammad Farooq written by Nasir Kazmi 1925 - 1972 • دنیا کی بے ثباتی اور ملکیت کا دھوکہ: شاعر آغاز میں ہی ایک بڑی حقیقت بیان کرتا ہے کہ اس دنیا میں حقیقت میں ہمارا کچھ بھی نہیں ہے، یہ سب فانی ہے۔ حالانکہ ظاہری طور پر ہم ہر چیز پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ • نظریے اور اہمیت کا فرق: شبنم کا قطرہ اور دریا، ہیرا اور مٹی—یہ سب محض دیکھنے کے زاویے اور انسان کی اپنی حالت کی عکاسی ہیں۔ کبھی ایک حقیر قطرہ بھی دریا جیسی وسعت اور اہمیت اختیار کر لیتا ہے اور کبھی ایک بڑا دریا بھی پیاسا (یعنی نامکمل اور بے سکون) لگتا ہے۔ انسان کی قدر و قیمت بھی حالات اور دیکھنے والے کی نظر پر منحصر ہے؛ جو چیز کسی کے لیے مٹی ہے، وہ کسی اور کے لیے سونا ہو سکتی ہے۔ • رشتوں کی حقیقت: دنیا میں لوگ صرف سامنے کی میٹھی باتیں کرتے ہیں (جسے منہ دیکھے کی باتیں کہا جاتا ہے)۔ پیٹھ پیچھے کوئی کسی کو سچے دل سے یاد نہیں کرتا۔ • ہجر کا دکھ اور تنہائی: محبوب کے جانے سے شہر کی ساری رونقیں اور دلکشیاں ختم ہو گئی ہیں اور اب اس شہر میں شاعر کے لیے کوئی کشش یا اپنائیت باقی نہیں رہی۔ وہ دل گرفتہ ہو کر کہتا ہے کہ محبوب بے شک بات نہ کرے، مگر ایک جھلک تو دکھا دے، اس میں اس کا کیا نقصان ہے۔ • ماضی کی یادیں (نوسٹیلجیا): مقطع میں ناصر کاظمی نے ایک بہت خوبصورت اور اداس کر دینے والی تشبیہ استعمال کی ہے: دھیان کے آتش دان میں ناصرؔ بجھے دنوں کا ڈھیر پڑا ہے یعنی ان کے ذہن اور سوچوں کے آتش دان میں اب کوئی آگ یا حرارت نہیں، بلکہ گزرے ہوئے اچھے دنوں (بجھے دنوں) کی راکھ کا ڈھیر پڑا ہے۔ اب صرف ماضی کی یادیں ہیں جو اداسی کا باعث ہیں۔