💡 Meaning & story
Reimagine by Mohammad Farooq
written by Muzaffar Hanfi 1936 2020
• دریائے شب کے پار اُتارے مجھے کوئی / تنہائی ڈَس رہی ہے پُکارے مجھے کوئی تشریح: شاعر نے رات (تاریکی، دکھ اور مصیبت) کو ایک دریا سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری تنہائی مجھے سانپ کی طرح ڈس رہی ہے، کاش کوئی مجھے اس اندھیری رات اور دکھوں کے دریا سے پار لگا دے۔ یہ دراصل ایک پکار ہے کہ کوئی آئے اور اسے اس شدید اکیلے پن سے نکالے۔
• گو جانتا ہوں سب ہی نشانے پہ ہیں یہاں / پاگل ہوں چاہتا ہوں نہ مارے مجھے کوئی تشریح: شاعر دنیا کی حقیقت بیان کر رہا ہے کہ اس دنیا میں ہر شخص موت اور دکھوں کے نشانے پر ہے۔ کوئی بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں، لیکن پھر بھی یہ انسانی فطرت اور میری دیوانگی ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی دکھ، تکلیف یا اذیت نہ پہنچائے۔
• مُٹّھی صدف نے بھینچ رکھی ہے کہ چُھو کے دیکھ / موتی پکارتا ہے اُبھارے مجھے کوئی تشریح: صدف (سیپ) نے اپنی مٹھی بند کر رکھی ہے۔ اس بند سیپ کے اندر چھپا ہوا قیمتی موتی پکار رہا ہے کہ کوئی مجھے اس خول سے باہر نکالے تاکہ دنیا میری چمک دیکھ سکے۔ یہ دراصل شاعر کے اندر چھپے ہوئے جذبات، صلاحیتوں یا اس کی اصل شخصیت کی طرف اشارہ ہے جو دنیا کے سامنے آنے کے لیے کسی کے سہارے کی منتظر ہے۔
• کانٹوں میں رکھ کے پھول ہَوا میں اُڑا کے خاک / کرتا ہے سو طرح سے اِشارے مجھے کوئی تشریح: اس شعر میں زندگی کے نشیب و فراز اور مقدر کے فیصلوں کی عکاسی ہے۔ حالات کبھی پھولوں کو کانٹوں میں الجھا دیتے ہیں اور کبھی سب کچھ خاک میں ملا دیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے قسمت یا کوئی پوشیدہ ہستی ان مختلف اور متضاد طریقوں سے شاعر کو زندگی کی حقیقتوں کے اشارے دے رہی ہے۔
• اب تک تو خُدکُشِی کا ارادہ نہیں کِیا / ملتا ہے کیوں ندی کے کِنارے مجھے کوئی تشریح: شاعر مایوسی کے عالم میں ندی کے کنارے کھڑا ہے لیکن کہتا ہے کہ میں نے ابھی زندگی ختم کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ پھر وہ حیران ہوتا ہے کہ ایسی سنسان جگہ اور اداسی کی حالت میں کوئی اسے کیوں ملنے آ رہا ہے؟ کیا یہ حالات ہیں جو اسے موت کی طرف دھکیل رہے ہیں یا کوئی اسے بچانے آ گیا ہے؟
• بِکھرا ہُوا ہوں وقت کے شانے پہ گرد سا / اِک زُلفِ پُر شِکن ہوں سنوارے مجھے کوئی تشریح: شاعر خود کو وقت کے کندھے پر پڑی ہوئی اس دھول (گرد) کی طرح محسوس کرتا ہے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور جو بکھری رہتی ہے۔ وہ خود کو الجھی ہوئی زلف (بالوں) سے تشبیہ دیتے ہوئے تمنا کرتا ہے کہ کاش کوئی محبت کرنے والا آئے اور اسے سنوار دے، یعنی اس کی بے ترتیب اور بکھری ہوئی زندگی کو محبت سے ترتیب دے۔
یہ غزل انسان کے اندر کی اس خواہش کی ترجمانی کرتی ہے جہاں وہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کسی ایسے شخص کی تلاش میں رہتا ہے جو اسے سمجھے اور اسے زندگی کے دکھوں سے نکال لے۔
Lyrics & Meaning