Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
khushi ka aik lamha — cover art

Song lyrics

khushi ka aik lamha

📜 Lyrics

خُوشی کا ایک لَمحہ چاہیے تھا گَھڑِی بَھر ساتھ تیرا چاہیے تھا مِلا تھا میں مَہینوں بَعد تُم سے تُمہیں سِینَے سے لَگْنا چاہیے تھا خُوشی کا ایک لَمحہ چاہیے تھا گَھڑِی بَھر ساتھ تیرا چاہیے تھا ہاں، گَھڑِی بَھر ساتھ تیرا چاہیے تھا مَیں دُنیا گُھومنے بے کار نِکْلَا تِری آنکھوں کو تَکْنَا چاہیے تھا ہمیشہ ہَم نے کی تیری تَمَنّا ہَمیں کَب تیرے جَیسا چاہیے تھا خُوشی کا ایک لَمحہ چاہیے تھا گَھڑِی بَھر ساتھ تیرا چاہیے تھا تُجھے سَونپَا تھا اَپنا آپ میں نے تو پِھر مَحفوظ رکھنا چاہیے تھا اُسے اَحوال بَتلانا ہے اَپنا کوئی زخمی پَرِندہ چاہیے تھا تُمہارے عِشق نے مارا ہے جِس کو مُجھے وہ شخص زِنْدَہ چاہیے تھا دَغَا کَر کے بھی کِتنے مُطْمَئن ہو تُمہیں تو ڈُوب مرنا چاہیے تھا خُوشی کا ایک لَمحہ چاہیے تھا گَھڑِی بَھر ساتھ تیرا چاہیے تھا اُسے بَخْشَا گَیا پِھر ہِجر جِس کو جَوانی میں بُڑھاپا چاہیے تھا سَبھی اَچّھے ہوں کَب چاہا تھا میں نے مُجھے اِک دوست اَچّھا چاہیے تھا پَھنْسے ہیں اَب وہی مُشکِل ڈَگَر میں جِنہیں آسان رَستہ چاہیے تھا کوئی بَیوَاہ کے دُکھ کو کیا سمجھتا سَبھوں کو گَھر میں حِصَہ چاہیے تھا میں سَمجھا وہ مِری خَاطر کھَڑی ہے... میں سَمجھا وہ مِری خَاطر کھَڑی ہے! مَگَر اُس کو تو رکشا چاہیے تھا (ہاں، اُس کو تو رکشا چاہیے تھا)

💡 Meaning & story

Composed by Mohammad Farooq writer Aamir Atta غزل کا مفہوم اور شاعرانہ تجزیہ یہ غزل انسانی جذبات، محبت کی حسرتوں، شکوے، معاشرے کی تلخ حقیقتوں اور آخر میں ایک انتہائی شاندار مزاحیہ موڑ (Plot twist) کا ایک بہترین اور دلچسپ امتزاج ہے۔ شاعر نے بڑی خوبصورتی سے سنجیدہ اور دکھی جذبات کو بیان کرتے کرتے آخر میں سامعین کو مسکرانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس غزل کو ہم مختلف حصوں اور موضوعات میں سمجھ سکتے ہیں: 1. محبت کی تڑپ اور معصوم خواہشات ابتدائی اشعار میں شاعر ایک سچے عاشق کی طرح اپنی محرومیوں کا ذکر کر رہا ہے۔ وہ محبوب سے کوئی بڑی ڈیمانڈ نہیں کرتا، محض "خوشی کا ایک لمحہ" اور "گھڑی بھر کا ساتھ" مانگتا ہے۔ مہینوں بعد ملنے پر محبوب کی سرد مہری پر وہ شکوہ کناں ہے کہ اتنی مدت بعد ملنے پر کم از کم گلے تو لگنا چاہیے تھا۔ شاعر کے نزدیک محبوب کی آنکھیں پوری دنیا کی سیاحت اور نظاروں سے زیادہ قیمتی ہیں۔ سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اسے محبوب کے "جیسا" کوئی اور نہیں چاہیے تھا، بلکہ اسے صرف اور صرف اپنا محبوب ہی چاہیے تھا۔ 2. عشق میں تباہی اور بے وفائی کا دکھ غزل کے درمیانی اشعار میں شاعر کا لہجہ تھوڑا تلخ اور شکوے والا ہو جاتا ہے۔ اس نے اپنا دل، اپنی ذات محبوب کے حوالے کر دی تھی، لیکن اس امانت کی حفاظت نہیں کی گئی۔ وہ دھوکہ دینے والے کی بے حسی پر حیران ہے اور طنز کرتا ہے کہ دغا دینے کے بعد بھی وہ شخص کتنا مطمئن ہے، جبکہ اسے تو ندامت سے ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ عشق نے شاعر کے اندر کے انسان کو اندر سے ختم کر دیا ہے اور اب وہ اپنے دل کا حال سنانے کے لیے کسی "زخمی پرندے" (یعنی اپنے جیسے کسی دکھ کے مارے شخص) کی تلاش میں ہے جو درد کی زبان سمجھتا ہو۔ 3. معاشرتی المیے اور تلخ حقائق یہ کلام صرف عشق تک محدود نہیں رہتا بلکہ شاعر معاشرے کی خود غرضی پر بھی گہری چوٹ کرتا ہے۔ • بیوہ کا دکھ: اس شعر میں وہ معاشرے کی حقیقت دکھاتا ہے کہ جب کسی کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو رشتے داروں کو اس کے غم یا درد سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی، سب کو صرف مکان اور جائیداد میں اپنے حصے کی فکر ہوتی ہے۔ • سچے دوست کی تلاش: شاعر کہتا ہے کہ اس نے کبھی یہ تمنا نہیں کی کہ دنیا کے سارے لوگ اچھے ہو جائیں، اس کی خواہش تو محض اتنی تھی کہ اسے کوئی ایک "سچا دوست" مل جائے۔ 4. چونکا دینے والا مزاحیہ اختتام (The Punchline) غزل کا آخری شعر پوری غزل کی دکھی اور سنجیدہ فضا کو ایک دم بدل کر رکھ دیتا ہے۔ عشق کی ناکامی اور دنیا کے دکھ درد بیان کرتے کرتے شاعر بتاتا ہے کہ وہ سڑک پر کھڑی ایک لڑکی کو دیکھ کر خوش فہمی کا شکار ہو گیا کہ شاید وہ اس کی محبت میں وہاں منتظر کھڑی ہے۔ لیکن حقیقت کی دنیا کا سامنا تب ہوا جب پتا چلا کہ وہ کسی عاشق کے لیے نہیں، بلکہ محض ایک "رکشے" کے انتظار میں کھڑی تھی! حرفِ آخر: یہ غزل بیک وقت انسان کو رلاتی بھی ہے، سوچنے پر مجبور بھی کرتی ہے اور آخر میں ایک بھرپور قہقہہ لگانے کا موقع بھی دیتی ہے۔ شاعر نے بہت سادگی سے انسان کی خوش فہمیوں اور حقیقت کے فرق کو واضح کیا ہے۔