Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
jigar ki jusatajuo — cover art

Song lyrics

jigar ki jusatajuo

📜 Lyrics

اُن کو جِگَر کی جُستَجُو، اُن کی نَظَر کو کیا کَروں مُجھ کو نَظَر کی آرزُو، اَپنے جِگَر کو کیا کَروں (اُن کو جِگَر کی جُستَجُو، اُن کی نَظَر کو کیا کَروں) (مُجھ کو نَظَر کی آرزُو، اَپنے جِگَر کو کیا کَروں) رات ہی رات میں تَمام، طے ہُوئے عُمر کے مَقام ہو گَئی زِندَگی کی شام، اَب مَیں سَحَر کو کیا کَروں وَحْشَتِ دِل فُزوں تو ہے، حال مِرا زَبوں تو ہے عِشق نَہیں جُنوں تو ہے، اُس کے اَثَر کو کیا کَروں رات ہی رات میں تَمام، طے ہُوئے عُمر کے مَقام ہو گَئی زِندَگی کی شام، اَب مَیں سَحَر کو کیا کَروں فَرش سے مُطْمَئِن نَہیں، پَست ہے نا پَسَند ہے عَرش بَہُت بُلَند ہے، ذَوقِ نَظَر کو کیا کَروں ہائے کوئی دَوا کَرو، ہائے کوئی دُعا کَرو ہائے جِگَر میں دَرد ہے، ہائے جِگَر کو کیا کَروں رات ہی رات میں تَمام، طے ہُوئے عُمر کے مَقام ہو گَئی زِندَگی کی شام، اَب مَیں سَحَر کو کیا کَروں اَہلِ نَظَر کوئی نَہیں، اِس لیے خُدْ پَسَند ہوں آپ ہی دیکھتا ہوں مَیں، اَپنے ہُنَر کو کیا کَروں تَرکِ تَعَلُّقات پَر، گِر گَئی بَرقِ اِلتِفات راہ گُزَر میں مِل گَئے، راہ گُزَر کو کیا کَروں مُجھ کو نَظَر کی آرزُو، اَپنے جِگَر کو کیا کَروں... ہائے جِگَر میں دَرد ہے، ہائے جِگَر کو کیا کَروں... اَب مَیں سَحَر کو کیا کَروں...

💡 Meaning & story

Composed by Mohammad Farooq Composed by Mohammad Farooq Written by Hafeez Jalandhari 1900-1982 غزل کا مرکزی خیال یہ غزل انسانی جذبات کے اس الجھے ہوئے پہلو کی عکاسی کرتی ہے جہاں انسان ایک طرف محبوب کی توجہ کا طلبگار ہوتا ہے، تو دوسری طرف زندگی کے تیزی سے گزر جانے اور اپنے فن کی ناقدری پر اداس ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی کیفیت کا بیان ہے جس میں انسان خود کو حالات اور عشق کے سامنے بے بس پاتا ہے۔ اشعار کا مفہوم ان کو جگر کی جستجو... میرے اور محبوب کے درمیان چاہتوں کا عجیب تضاد ہے۔ محبوب میرے صبر اور حوصلے (جگر) کا امتحان لینا چاہتا ہے، جبکہ میری خواہش ہے کہ وہ مجھ پر محبت کی ایک نظر ڈالے۔ میں اس صورتحال میں بے بس ہوں کہ اپنے دل کا کیا کروں اور ان کی نظر کا کیا کروں۔ رات ہی رات میں تمام... زندگی کا سفر اتنی تیزی سے گزر گیا جیسے بس ایک ہی رات کا قصہ ہو۔ اب جب کہ زندگی کی شام (آخری وقت) آ پہنچی ہے، تو اب میں نئی صبح یا نئی امید کا انتظار کر کے کیا کروں؟ وحشت دل فزوں تو ہے... میرے دل کی بے قراری حد سے بڑھ چکی ہے اور میری حالت بہت خراب ہے۔ لوگ اسے عشق نہیں تو دیوانگی (جنون) کہتے ہیں، لیکن نام جو بھی ہو، میں اس کی شدت اور اثر سے خود کو کیسے بچاؤں؟ فرش سے مطمئن نہیں... میری سوچ، معیار اور ذوقِ جمال اتنا بلند ہے کہ یہ دنیا (فرش) مجھے بہت معمولی لگتی ہے، اور آسمان (عرش) تک میری پہنچ نہیں۔ میں دو انتہاؤں کے درمیان پھنس گیا ہوں، اپنے اس اعلیٰ ذوق کا کیا کروں؟ ہائے کوئی دوا کرو... یہ شعر محبت کے شدید درد اور تڑپ کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر فریاد کر رہا ہے کہ دل میں عشق کا ایسا روگ لگ گیا ہے جس کی شدت ناقابلِ برداشت ہے، کوئی تو اس درد کی دوا یا دعا کرے۔ اہل نظر کوئی نہیں... اس دنیا میں سچے فن اور ہنر کو پرکھنے والے لوگ باقی نہیں رہے۔ جب کوئی قدردان ہی نہیں تو میں اپنے فن کی خود ہی تعریف کر لیتا ہوں۔ آخر کوئی اپنے ہنر کو ضائع تو نہیں کر سکتا۔ ترک تعلقات پر... میں نے تو محبوب سے تمام رشتے توڑنے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا، مگر راستے میں اچانک وہ مل گئے اور ان کی ایک محبت بھری نظر نے میرے سارے ارادے خاک میں ملا دیے۔ اب میں اس راستے کو کیا کہوں جس نے ہمیں دوبارہ آمنے سامنے لا کھڑا کیا؟ سامعین کے لیے پیغام "یہ غزل ان تمام لوگوں کے دلوں کی ترجمانی کرتی ہے جنہوں نے زندگی میں کبھی محبت کی بے بسی اور وقت کی تیز رفتاری کو محسوس کیا ہو۔