Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Farishte sa chehra — cover art

Song lyrics

Farishte sa chehra

📜 Lyrics

اِس معصوم چہرے سے دھوکہ نہ کھا ٹھہر جائے روشنی، تو بن سکتی ہے سزا باہر سے دکھتا ہے تجھ کو سکون پر تُو نے نہ دیکھا اندر کا جنون کانچ یا مٹی سے نہ بنی ہوں میں کالی راتوں سے تراشی گئی ہوں میں بِنا تالیوں کے بھی کھڑی رہ سکوں خاموشی نہیں کمزوری، میں کامل ٹھہراؤ ہوں ریشم سی جِلد، فولادی اِرادہ بِنا اِجازت، ہر قدم ہے سدا فرشتہ سا چہرہ، دوزخ کی خبر نہ میں ٹوٹتی ہوں، نہ جُھکتا ہے سر نہ دُھندلی پڑتی، نہ ہوتی فنا میں یہاں رہنے آئی ہوں، یہی میری جگہ داخل ہوتی ہوں میں بِنا کسی شور ہواؤں کا رُخ مڑ جاتا ہے میری اور تُجھے احساس ہوتا ہے بدلاؤ کا نام دینے سے پہلے اِس ٹھہراؤ کا قابو میں رکھنے کا بھی اپنا مزہ ہے کیا راز کھولنا، کیا رازِ بقا ہے تُجھے پریشان کرتا ہے میرا یقین میرا خود پہ قابو، جیسے کوئی توہین آگ سے گُزرے تو سونا بچے طوفان میں بھی سکون ہی جچے گُزری ہوں میں ان دونوں سے ہی بِنا نظریں جھکائے، کھڑی ہوں یہیں فرشتہ سا چہرہ، دوزخ کی خبر نہ میں ٹوٹتی ہوں، نہ جُھکتا ہے سر نہ دُھندلی پڑتی، نہ ہوتی فنا میں یہاں رہنے آئی ہوں، یہی میری جگہ بنی ہوں میں خاموش اِنقلابوں میں نِکھری ہوں میں ضبط کے عذابوں میں ہر اِک زخم نے پھر سے لِکھی ہے میرے نام کی جو بنیاد رکھی ہے نازک سمجھا تو تیری خطا ہے یہ سوچ اور ٹھہراؤ میری ادا ہے سوچی سمجھی۔ مکمل۔ فرشتہ سا چہرہ، دوزخ کی خبر نہ میں ٹوٹتی ہوں، نہ جُھکتا ہے سر نہ دُھندلی پڑتی، نہ ہوتی فنا میں یہاں رہنے آئی ہوں، یہی میری جگہ

💡 Meaning & story

Reimagine by Mohammad Farooq • پہلا حصہ (Verse 1): شروعات میں ہی متنبہ کیا گیا ہے کہ معصوم چہرے کو دیکھ کر دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔ یہ کردار کانچ یا مٹی کی طرح نازک نہیں ہے جسے آسانی سے توڑا جا سکے، بلکہ یہ "کالی راتوں" (یعنی کڑی آزمائشوں اور مشکل ترین حالات) سے گزر کر تراشا گیا ہے۔ اس کی خاموشی اس کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مکمل اور مضبوط ٹھہراؤ ہے۔ • کورس (Chorus): یہ اس کلام کا سب سے طاقتور اور مرکزی حصہ ہے: "فرشتہ سا چہرہ، دوزخ کی خبر نہ میں ٹوٹتی ہوں، نہ جُھکتا ہے سر" اس کا مطلب ہے کہ بظاہر وہ فرشتے جیسی معصوم ہے لیکن اس کے ارادے بے حد سخت ہیں۔ وہ کسی بھی قسم کے کٹھن حالات میں ٹوٹنے، جھکنے یا مٹنے والی نہیں ہے۔ اس نے دنیا میں اپنا مقام بنا لیا ہے اور وہ اپنا حق جانتی ہے۔ • دوسرا حصہ (Verse 2): اس بند میں کردار کی مضبوط موجودگی (Aura) کا ذکر ہے۔ وہ جب کسی جگہ داخل ہوتی ہے تو بغیر شور کیے بھی ہوائیں اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہیں۔ اس کا خود پر کمال کا کنٹرول اور اعتماد اس قدر پختہ ہے کہ بعض اوقات دوسروں کو یہ اعتماد ایک توہین یا چیلنج محسوس ہونے لگتا ہے۔ • تیسرا حصہ (Pre-Chorus & Bridge): یہاں سونے کی مثال دی گئی ہے کہ جس طرح سونا آگ میں تپ کر خالص ہوتا ہے، ویسے ہی وہ طوفانوں اور مشکل وقت کا ڈٹ کر مقابلہ کر کے یہاں تک پہنچی ہے۔ اس کے ہر زخم نے اسے گرانے کے بجائے ایک نئی اور مضبوط بنیاد دی ہے۔ اسے محض ایک نازک وجود سمجھنا دیکھنے والے کی سب سے بڑی بھول ہے۔ اس کا یہ سکون اور خاموشی ایک سوچی سمجھی اور مکمل طاقت ہے۔ مجموعی پیغام یہ کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کے اندر ہوتی ہے۔ خاموشی، ضبط اور ٹھہراؤ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک طاقتور ترین ہتھیار ہے۔