📜 Lyrics
اُنہوں نے ہم سے
ہماری نَسْل اور کِردار پُوچھا
میں نے جُھک کے ہنس کے بس اتنا بولا
آپ کے راز مَحفوظ ہیں، فکر نہ کریں
آپ کی کتاب کا ہر صفحہ میں نے جلتا دیکھا
Family tree پہ داغ بھی ہیں، پھول بھی
میرے لہجے میں مِٹی بھی ہے، اصول بھی
تو کیا ہوا جو نہ میں تیرے سانچے میں فِٹ
میری دھڑکن پہ لکھا ہے، میں ہوں مُکَمّل، legitimate
تُو پوچھے میرا خُون، میرا معیار
میں بولوں میرا درد، میرا پیار
جو ہونا تھا، سب ہو چُکا ہے
میرا سر اونچا، دل ابھی تک سچا ہے
آپ کے راز مَحفوظ ہیں
لا تَعلُّقی کے بعد بھی
میں نے دُشمنوں کو بھی دُعا دی
کیونکہ دوستی میری کمزوری نہیں (اوہ اوہ)
Personal anthem، میرے زخموں کی beat
میں گِرا بھی تھا اکثر، مگر ہاتھ نہ پھیلے کسی طرف
جتنے label لگائے، میں نے توڑے سب
کہہ دیا خود سے، تو ہی کافی ہے، بس
Love بھی ملا، آدھا سچا، آدھا جھوٹ
کسی نے حرفوں سے کِیا قتل، کسی نے چُپ سے چھُوٹ
پر میں نے دل کو سمجھایا، تُو بدلہ نہیں
تُو بس آئینہ ہے، جو بھی آئے، اُس کو دِکھا دے صحیح
تو پوچھے میرا خُون، میرا معیار
میں بولوں میرا درد، میرا پیار
جو ہونا تھا، سب ہو چُکا ہے
میرا سر اونچا، دل ابھی تک سچا ہے
آپ کے راز مَحفوظ ہیں
لا تَعلُّقی کے بعد بھی
میں نے دُشمنوں کو بھی دُعا دی
کیونکہ دوستی میری کمزوری نہیں
جس نے چھوڑا، اُس کا بھی سچ میرے پاس
میں نے تالے نہیں ڈالے، بس بڑھا دی اپنی کلاس (ہاں)
میری غلطیاں، میرے میڈل
میرے آنسو، میرے pedal
اِنہی پہ چڑھ کے میں اوپر گیا، اوپر گیا (ہو)
تُو پوچھے میرا خُون، میرا معیار
میں بولوں میرا درد، میرا پیار
جو ہونا تھا، سب ہو چُکا ہے
میرا سر اونچا، دل ابھی تک سچا ہے
آپ کے راز مَحفوظ ہیں
لا تَعلُّقی کے بعد بھی
میں نے دل کھول کے یہ بات لکھی
میری نسل، میرا کردار
خُدا کے حَوالے، ڈر نہیں، اب پیار ہی پیار ہی
💡 Meaning & story
Reimagine by Mohammad Farooq
• خود اعتمادی اور اصلیت: یہ گانا اپنی ذات پر بھروسہ رکھنے اور اپنے پس منظر کو فخر کے ساتھ قبول کرنے کے بارے میں ہے۔ اگرچہ لوگ آپ کی نسل یا کردار پر سوال اٹھائیں، لیکن آپ کو کسی کے بنائے ہوئے معیار یا سانچے میں ڈھلنے کی ضرورت نہیں ہے۔
• معافی اور حوصلہ: اس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جب لوگ دھوکہ دیں یا تنقید کریں، تو بدلہ لینے کے بجائے انہیں معاف کرنا اور ان کے راز محفوظ رکھنا ایک مضبوط انسان کی نشانی ہے۔ دشمنوں کو دعا دینا کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی ہے۔
• تکالیف کو طاقت بنانا: گانے کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنی غلطیوں اور آنسوؤں کو کمزوری سمجھنے کے بجائے انہیں آگے بڑھنے کا زینہ بنانا چاہیے تاکہ وہ زندگی میں مزید بلند مقام حاصل کر سکے۔