📜 Lyrics
زُلف بِکھری، پسینے میں تر، مُسکراتے لب اور مست!
چاک گِریباں، غزل خواں، اور صراحی ہے در دست
زُلف بِکھری، پسینے میں تر، مُسکراتے لب اور مست!
چاک گِریباں، غزل خواں، اور صراحی ہے در دست
آنکھوں میں مستی سی چھائی، لبوں پہ تھا افسَوس عیاں
آدھی رات کو کل میرے سرہانے، آ کے بیٹھا وہ مہرباں
میرے کانوں کے قریب آ کے وہ، دُکھ بھری آواز میں بولا
"اے میرے پُرانے عاشق! کیا تیری نیند نے تُجھے ہے گھیر لیا؟"
اے میرے پُرانے عاشق! کیا تُو سو رہا ہے؟
اے میرے پُرانے عاشق! کیا تُو سو رہا ہے؟
زُلف بِکھری، پسینے میں تر، مُسکراتے لب اور مست!
چاک گِریباں، غزل خواں، اور صراحی ہے در دست
عاشقوں کو جو پلائی جائے، ایسی راتوں کی شراب
عشق کا کافر ہو گا وہ، جو نہ ہو بادہ پرست جناب!
جا اے زاہد! ہم مے کشوں پہ، یوں تو طعنہ زنی نہ کر
روزِ ازل سے اِس کے سوا، ملا نہیں کوئی تُحفہ اِدھر
آدھی رات کو کال کی اُس نے، آواز بھاری، روتا ہُوا
آنکھیں لال اور گیلی، تھکا ہارا، شِکوے کرتا ہُوا
ہاتھ میں بوتل، پیر لڑکھڑاتے، نشے میں وہ جُھومتا
آ کے بیٹھا میرے پاس، چپ چاپ، بنا پوچھے وہ بولا!
میرے کانوں پہ جھک کر بولا: "سو رہا ہے یا جاگ رہا؟ بول نا یار!"
"وقت کم ہے، ابھی تو رات شروع ہوئی، اور یہ جام ہے تیار!"
گلاس تھمایا میرے ہاتھ میں، بولا: "پی جا اسے! — اب کچھ نہ سوچ میرے یار!"
جو بھی اُس نے ہمارے پیمانے میں ڈالا، ہم نے بس پِی لیا
چاہے ہو وہ جنت کی شراب، یا ہو دُنیا کا بادہِ مست!
اے میرے پُرانے عاشق! کیا تُو سو رہا ہے؟
زُلف بِکھری، پسینے میں تر، مسکراتے لب اور مست!
چاک گِریباں، غزل خواں، اور صراحی ہے در دست
جامِ مے کی ہنسی، اور محبوب کی یہ اُلجھی زُلفیں
ایسی کتنی ہی توبہ ٹوٹیں، جیسے حافظ کی ٹوٹی توبہ...
جیسے حافظ کی ٹوٹی توبہ...
زُلف بِکھری، پسینے میں تر، مُسکراتے لب اور مست!
چاک گِریباں، غزل خواں، اور صراحی ہے در دست
💡 Meaning & story
اس گیت کی مختصر تشریح:
• کلاسیکی اور جدید امتزاج: یہ گیت روایتی غزل کی علامتوں (جیسے بکھری زلفیں، چاک گریباں) اور جدید دور کے ریپ کا ایک منفرد ملاپ ہے، جس میں عشق اور مستی کا دلکش منظر کھینچا گیا ہے۔
• محبوب کا درد اور بے تکلفی: اس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے ایک اداس اور نشے میں چور محبوب آدھی رات کو عاشق کے پاس آ کر اس کی نیند توڑتا ہے اور اسے اپنے جذبات میں شریک کرتا ہے۔
• دنیاوی تنقید سے بغاوت: گیت میں طعنہ زنی کرنے والوں (زاہد) کو مسترد کرتے ہوئے عشق اور مے کشی کو روزِ ازل کا تحفہ اور عاشقوں کا مقدر قرار دیا گیا ہے۔
• توبہ کا ٹوٹنا: آخر میں عظیم فارسی شاعر حافظ شیرازی کا حوالہ دے کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ محبوب کے حسن اور جامِ عشق کے سامنے بڑی سے بڑی توبہ بھی دم توڑ دیتی ہے۔