📜 Lyrics
سفر کی گرد قدموں پر، دل میں نیا اک عزم ہے
دنیا نے چاہا توڑنا، کیسا یہ اس کا وہم ہے
میں نے سہے ہیں وار سب، ہر درد میں نے پی لیا
وہ سوچتے تھے مٹ گیا، پر میں دوبارہ جی لیا
اب دیکھو میرا عروج تم، قدموں میں کیسی جان ہے
میں ٹوٹتا، جھکتا نہیں، میری الگ پہچان ہے
بھٹی میں مشکل وقت کی، کندن بنا ہوں آج میں
چلتا ہوں اپنی موج میں، کرتا ہوں خود پہ راج میں
میں چلتا ہوں تنہا یہاں، چٹان سا کھڑا ہوں میں
چٹان سا کھڑا ہوں میں
بنایا میں نے نام خود، زمین پہ اڑا ہوں میں
زمین پہ اڑا ہوں میں
مجھ پر نہ کوئی قید ہے، نہ کوئی میرا ساتھ ہے
میں آگ ہوں، فولاد ہوں، میری الگ ہی بات ہے
میری الگ ہی بات ہے
یہ زخم میرے جسم پر، جیسے لباسِ فخر ہیں
کہتے تھے سب "تو ہار جا"، میری جیت کا اب سحر ہیں
وعدہ جو خود سے تھا کیا، میں نے اسے پورا کیا
شک کی اڑا کر دھجیاں، میں نے نیا رستہ لیا
اب دیکھو میرا عروج تم، قدموں میں کیسی جان ہے
میں ٹوٹتا، جھکتا نہیں، میری الگ پہچان ہے
بھٹی میں مشکل وقت کی، کندن بنا ہوں آج میں
چلتا ہوں اپنی موج میں، کرتا ہوں خود پہ راج میں
میں چلتا ہوں تنہا یہاں، چٹان سا کھڑا ہوں میں
چٹان سا کھڑا ہوں میں
بنایا میں نے نام خود، زمین پہ اڑا ہوں میں
زمین پہ اڑا ہوں میں
مجھ پر نہ کوئی قید ہے، نہ کوئی میرا ساتھ ہے
میں آگ ہوں، فولاد ہوں، میری الگ ہی بات ہے
میری الگ ہی بات ہے
جو گر پڑوں تو اٹھ کھڑا، جھک جاؤں تو کروں وار میں
چوٹوں سے ہی تعمیر ہوں، چھپتا نہیں دراڑ میں
میں دل کسی کا جیتنے، آیا نہیں، میں شاہ ہوں
سر ہے بلند، دل سخت ہے، میں خود ہی اپنی راہ ہوں
میں چلتا ہوں تنہا یہاں، چٹان سا کھڑا ہوں میں
(چٹان سا کھڑا ہوں میں)
بنایا میں نے نام خود، زمین پہ اڑا ہوں میں
(زمین پہ اڑا ہوں میں)
مجھ پر نہ کوئی قید ہے، نہ کوئی میرا ساتھ ہے
میں آگ ہوں، فولاد ہوں، میری الگ ہی بات ہے
میری الگ ہی بات ہے
💡 Meaning & story
Written & composed by Mohammad Farooq
یہ گانا ہمت، استقامت (Resilience) اور خود اعتمادی کا ایک انتہائی طاقتور ترانہ ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے جس نے زندگی کی سخت ترین مشکلات کا اکیلے سامنا کیا اور ان سے ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہو کر ابھرا۔
اس گانے کے چند اہم پہلو یہ ہیں:
• کٹھن حالات سے مقابلہ: شاعر بتاتا ہے کہ دنیا نے اسے گرانے اور مٹانے کی پوری کوشش کی، لیکن اس نے ہر چوٹ اور ہر وار برداشت کیا اور ہار ماننے کے بجائے دوبارہ کھڑا ہو گیا۔
• تنہائی کی طاقت اور خود مختاری: گانے کے بول ("میں چلتا ہوں تنہا یہاں"، "مجھ پر نہ کوئی قید ہے") واضح کرتے ہیں کہ اس شخص کو کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اپنی بنیادوں پر چٹان کی طرح کھڑا ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتا ہے۔
• زخموں کو فخر سمجھنا: اس نے اپنے ماضی کے زخموں اور تکلیفوں کو اپنی کمزوری کے بجائے اپنی جیت اور فخر کی علامت بنا لیا ہے۔ جن لوگوں نے اسے پیچھے ہٹنے کا کہا، اس نے اپنے عروج سے ان کے شکوک و شبہات کو غلط ثابت کر دیا۔
• نہ ٹوٹنے والا ارادہ: "آگ اور فولاد ہونا" اور "مشکل وقت کی بھٹی میں کندن بننا" اس بات کی علامت ہے کہ وہ اب ایک ایسا نڈر اور مضبوط انسان بن چکا ہے جو گرنے پر دوبارہ اٹھنا اور پلٹ کر وار کرنا جانتا ہے۔
مختصر الفاظ میں: یہ ایک ایسے جنگجو مزاج انسان کی کہانی ہے جو اپنی ذات پر مکمل یقین رکھتا ہے، کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں جیتا، اور ہر مشکل کو اپنی طاقت بنا کر اپنا راستہ خود تراشتا ہے۔