Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Arz E Watan — cover art

Song lyrics

Arz E Watan

📜 Lyrics

خُدا کرے میری ارضِ پاک پر اُترے وہ فصلِ گُل جِسے اندیشہِ زوال نہ ہو یہاں جو پُھول کھلے وہ کِھلا رہے صدیوں یہاں خزاں کو گُزرنے کی بھی مجال نہ ہو یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے اور ایسا سبز کہ جِس کی کوئی مثال نہ ہو خُدا کرے میری ارضِ پاک پر اُترے وہ فصلِ گُل جِسے اندیشہِ زوال نہ ہو گَھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو خُدا کرے کبھی نا خَم ہو سرِ وقارِ وطن اور اُس کے حُسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو اور اُس کے حُسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو ہر ایک فرد ہو تہذیب وفن کا اوجِ کمال کوئی غریب نا ہو کوئی خستہ حال نہ ہو خُدا کرے کہ میرے اِک بھی ہم وطن کے لیے حیات جُرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو حیات جُرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو! خُدا کرے میری ارضِ پاک پر اُترے وہ فصلِ گُل جِسے اندیشہِ زوال نہ ہو وہ فصلِ گُل جِسے اندیشہِ زوال نہ ہو

💡 Meaning & story

احمد ندیم قاسمی کی یہ خوبصورت اور لافانی نظم دراصل ایک دعا ہے، جسے پاکستان کی ادبی اور سیاسی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ذیل اس نظم کا تفصیلی خلاصہ، گہرا مفہوم اور اس کا تاریخی پس منظر پیش کیا جا رہا ہے۔ نظم کا خلاصہ اور تشریح (تفصیلی مفہوم) یہ نظم روایتی حب الوطنی کے گیتوں سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اس میں صرف زمین کی تعریف نہیں کی گئی، بلکہ وطن کی مٹی، اس کی خودمختاری اور اس کے عوام کی خوشحالی کے لیے ایک مخلصانہ اور دردمندانہ دعا کی گئی ہے۔ ۱. پہلا بند: زوال سے پاک لافانی بہار کی دعا احمد ندیم قاسمی دعا کرتے ہیں کہ پاکستان پر ایک ایسی بہار کا نزول ہو جسے کبھی زوال کا ڈر نہ ہو۔ یہاں "پھول" اور "سبزہ" محض پودے نہیں ہیں، بلکہ یہ ملک کی ترقی، امن، خوشحالی اور یہاں کے نوجوانوں کی علامت ہیں۔ شاعر کی خواہش ہے کہ اس پاک دھرتی پر کبھی خزاں کا سایہ بھی نہ پڑے اور یہ ملک دنیا کے لیے ترقی کی ایک بے مثال مثال بن جائے۔ ۲. دوسرا بند: استقامت اور ملکی وقار دوسرے بند میں شاعر کہتے ہیں کہ یہاں ایسی بارانِ رحمت برسے کہ بنجر اور سخت پتھر بھی ہریالی اگلنے لگیں۔ علامتی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں کتنے ہی کٹھن اور نامساعد حالات کیوں نہ آئیں، یہاں کے لوگوں کی محنت سے وہ حالات بھی سازگار ہو جائیں۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ وطنِ عزیز کا وقار اور اس کا سر دنیا کے سامنے کبھی نہ جھکے اور وقت کی گردشیں (ماہ و سال) اس کے حسن اور آزادی کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔ ۳. تیسرا بند: سماجی انصاف اور انسانی وقار (نظم کا اصل روح) یہ بند نظم کا سب سے اہم اور دل کو چھو لینے والا حصہ ہے۔ قاسمی صاحب ایک ترقی پسند ادیب تھے، اس لیے وہ صرف زمین کی بات نہیں کرتے بلکہ اس زمین پر رہنے والے انسانوں کی بات کرتے ہیں۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ: • پاکستان کا ہر شہری علم، تہذیب، ادب اور ہنر کے اعلیٰ ترین مقام (اوجِ کمال) پر پہنچے۔ • ملک سے غربت، پسماندگی اور مفلسی کا خاتمہ ہو جائے۔ • سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی بھی پاکستانی کے لیے اس کی زندگی عذاب یا بوجھ نہ بنے، بلکہ ہر شخص کو عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہو۔ تاریخی پس منظر (History & Context) یہ نظم کب اور کیوں لکھی گئی؟ احمد ندیم قاسمی (1916ء - 2006ء) اردو ادب کی مشہور "ترقی پسند مصنفین کی تحریک" (Progressive Writers' Movement) کے روحِ رواں تھے۔ انہوں نے یہ نظم قیامِ پاکستان کے بعد کے سالوں میں لکھی اور یہ ان کے شعری مجموعے "اندیشۂ زوال" میں شامل ہے۔ اگرچہ اس کی کوئی ایک مخصوص تاریخ یا دن طے کرنا مشکل ہے، لیکن یہ نظم 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں کے درمیانی عرصے کے دوران منظرِ عام پر آئی اور مقبولِ عام ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان مختلف سیاسی بحرانوں، مارشل لا، اور معاشی ناہمواریوں سے گزر رہا تھا۔ نظم کا پس منظر اور قاسمی صاحب کی سوچ: قاسمی صاحب نے دیکھا کہ پاکستان جغرافیائی طور پر تو آزاد ہو چکا تھا، لیکن یہاں کا عام آدمی ابھی تک غربت، جہالت اور طبقہ واریت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا بھی سامنا تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ نظم صرف ایک شاعر کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک مصلح اور سچے محبِ وطن کی حیثیت سے لکھی۔ وہ اپنے وطن کو ایک ایسی فلاحی ریاست کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے جہاں سرحدیں بھی محفوظ ہوں اور سرحدوں کے اندر رہنے والے انسان بھی خوشحال ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گیت میں روایتی نعرے بازی کے بجائے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگی کہ "حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو"۔