Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Andheri raat — cover art

Song lyrics

Andheri raat

📜 Lyrics

اندھیری رات کو یہ معجزہ دکھائیں گے ہم چراغ اگر نہ جلا تو دِل کو جلائیں گے ہم ہماری کوہ کنی کے ہیں مختلف معیار پہاڑ کاٹ کے رَستے نئے بنائیں گے ہم جنونِ عشق پہ تنقید اپنا کام نہیں گُلوں کو نوچ کے کیوں تِتِْلیاں اُڑائیں گے ہم ہماری کوہ کنی کے ہیں مختلف معیار پہاڑ کاٹ کے رَستے نئے بنائیں گے ہم بہت نڈھال ہیں سستا تو لیں گے پل دوپل اُلجھ گیا کہیں دامن تو کیوں چُھڑائیں گے ہم اگر ہے موت میں کچھ لُطف تو بس اتنا ہے کہ اُس کے بعد خُدا کا سُراغ پائیں گے ہم ہمیں تو قبر بھی تنہا نہ کر سکے گی ندیم کہ ہر طرف سے زمیں کو قریب پائیں گے ہم چراغ اگر نہ جلا تو دل کو جلائیں گے ہم... رَستے نئے بنائیں گے ہم...

💡 Meaning & story

"سامعینِ محترم! احمد ندیم قاسمی کی یہ غزل محض شاعری نہیں، بلکہ انسانی عزم، حوصلے اور خودداری کا ایک روشن منشور ہے۔ یہ غزل ہمیں سکھاتی ہے کہ جب باہر کے چراغ بجھ جائیں، تو اپنے اندر کی روشنی کو کیسے جگانا ہے، اور کیسے مشکلات کے پہاڑ کاٹ کر اپنی منزل کے راستے خود بنانے ہیں۔ آئیے اس لازوال کلام کے سحر میں ڈوبتے ہیں..." غزل کا مرکزی خلاصہ (Theme) یہ غزل مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلانے، اپنی مدد آپ کرنے (Self-reliance)، اور عشق و لگن کی انتہا کا اظہار ہے۔ احمد ندیم قاسمی صاحب اس غزل میں عزم و حوصلے کی بات کرتے ہیں کہ حالات کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں، سچا انسان اپنی ہمت اور قربانی سے راستے خود بناتا ہے۔ اشعار کا آسان اور خوبصورت مفہوم شعر ۱: اندھیری رات کو یہ معجزہ دکھائیں گے ہم چراغ اگر نہ جلا تو دِل کو جلائیں گے ہم مفہوم: اگر حالات موافق نہ ہوں، چاروں طرف اندھیرا (ناامیدی) ہو اور روشنی کی کوئی بیرونی امید (چراغ) باقی نہ رہے، تو ہم ہار نہیں مانیں گے۔ ہم اپنی ہی جان اور دل کی بازی لگا کر (قربانی دے کر) عزم و حوصلے کی روشنی پیدا کریں گے اور اندھیرے کو شکست دیں گے۔ شعر ۲: ہماری کوہ کنی کے ہیں مختلف معیار پہاڑ کاٹ کے رَستے نئے بنائیں گے ہم مفہوم: (کوہ کنی = پہاڑ کھودنا، جیسے فرہاد نے شیریں کے لیے پہاڑ کاٹا تھا)۔ شاعر کہتے ہیں کہ مشکلات سے لڑنے کا ہمارا انداز روایتی نہیں بلکہ منفرد ہے۔ ہم پرانی لکیر کے فقیر نہیں بنیں گے، بلکہ بڑی سے بڑی مشکل (پہاڑ) کو اپنے عزم سے کاٹ کر ترقی اور کامیابی کی بالکل نئی راہیں خود پیدا کریں گے۔ شعر ۳: جنونِ عشق پہ تنقید اپنا کام نہیں گُلوں کو نوچ کے کیوں تِتِْلیاں اُڑائیں گے ہم مفہوم: سچی محبت، جنون اور جذبے پر نقطہ چینی کرنا ہمارا شیوہ نہیں۔ ہم اتنے بے حس نہیں ہیں کہ خوبصورتی کو تباہ کریں۔ ہم پھولوں کو اجاڑ کر تتلیوں کو بے گھر کرنے جیسے بے رحم کام نہیں کر سکتے؛ ہم تو حسن اور جذبے کی حفاظت کرنے والے لوگ ہیں۔ شعر ۴: بہت نڈھال ہیں سستا تو لیں گے پل دوپل اُلجھ گیا کہیں دامن تو کیوں چُھڑائیں گے ہم مفہوم: زندگی کے سفر اور جدوجہد میں تھکن فطری ہے۔ اگر ہم تھک کر پل دو پل کے لیے آرام (سستانا) کر بھی لیں، اور اس دوران زندگی کی رعنائیاں یا محبت ہمیں اپنی طرف راغب کر لے (دامن الجھ جائے)، تو ہم اس خوبصورت احساس سے دامن چھڑا کر بھاگیں گے نہیں، بلکہ اس کا احترام کریں گے۔ شعر ۵: اگر ہے موت میں کچھ لُطف تو بس اتنا ہے کہ اُس کے بعد خُدا کا سُراغ پائیں گے ہم مفہوم: موت کا خوف ہم پر غالب نہیں آ سکتا۔ اگر موت میں کوئی کشش یا خوبصورتی ہے، تو وہ صرف یہ ہے کہ یہ مادی دنیا کے حجاب اٹھا دے گی اور انسان اپنے اصل خالق (خدا) کی حقیقت اور معرفت کو پا لے گا۔ یہ صوفیانہ رنگ کا ایک بہترین شعر ہے۔ شعر ۶ (مقطع): ہمیں تو قبر بھی تنہا نہ کر سکے گی ندیم کہ ہر طرف سے زمیں کو قریب پائیں گے ہم مفہوم: ندیم قاسمی صاحب فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد قبر کی تنہائی بھی ہمیں اکیلا نہیں کر سکے گی، کیونکہ مٹی میں ملنے کے بعد ہم اس کائنات اور زمین کے ذرے ذرے کا حصہ بن جائیں گے۔ زمین ہمیں گلے سے لگا لے گی، اس لیے ہم خود کو کائنات کی آغوش میں پائیں گے۔