Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Yousaf na thay — cover art

Song lyrics

Yousaf na thay

📜 Lyrics

یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازوؤں میں ہے اب کہ مقابلے پہ میرے یار آ گئے میرے یار آ گئے.. آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی طاقوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فراز وہ بھی تو زیرِ سایہ دیوار آ گئے زیرِ سایہ دیوار آ گئے. وہ بھی تو زیرِ سایہ... آ گئے...

💡 Meaning & story

احمد فراز کی یہ غزل اردو ادب کے بہترین شاہکاروں میں سے ایک ہے۔ اس غزل میں شاعر نے انسانی نفسیات، دنیا کی بے حسی، اپنوں کے دیے گئے دکھ اور زندگی کے تلخ حقائق کو انتہائی خوبصورتی اور دردمندی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ یہاں اس غزل کے ہر شعر کی مکمل اور تفصیلی تشریح پیش کی جا رہی ہے: مطلع (پہلا شعر) یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے ہم خواب بیچنے سرِ بازار آ گئے تشریح: اس شعر میں شاعر دنیا کی بے حسی اور اپنی سادگی کا ذکر کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہمیں لگا کہ اس دنیا میں ہمارے دکھ درد بانٹنے والے، ہمارے احساسات کو سمجھنے والے اور ہمارے خوابوں کی قدر کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ اسی خوش فہمی میں ہم اپنے قیمتی خواب، جذبات اور امیدیں لے کر دنیا کے سامنے (سرِ بازار) آ گئے کہ شاید کوئی انہیں اپنا لے، لیکن حقیقت میں دنیا کو کسی کے خوابوں یا غموں سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسرا شعر یوسف نہ تھے مگر سرِ بازار آ گئے خوش فہمیاں یہ تھیں کہ خریدار آ گئے تشریح: یہ شعر ایک تاریخی تلمیح (حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ) پر مبنی ہے۔ حضرت یوسف کو ان کی بے پناہ خوبصورتی کی وجہ سے مصر کے بازار میں بیچا گیا تھا اور ان کے بے شمار خریدار تھے۔ شاعر نہایت عاجزی سے کہتا ہے کہ ہم میں حضرت یوسف جیسی خوبصورتی، کمال یا کشش تو نہیں تھی، لیکن پھر بھی ہم اپنا آپ لے کر دنیا کے بازار میں کھڑے ہو گئے۔ یہ ہماری سب سے بڑی غلط فہمی تھی کہ شاید اس دنیا میں ہماری بھی کوئی قدر و قیمت ہو گی اور کوئی ہمیں بھی اپنا سمجھے گا۔ تیسرا شعر اب دل میں حوصلہ نہ سکت بازوؤں میں ہے اب کہ مقابلے پہ میرے یار آ گئے تشریح: یہ اس غزل کا انتہائی درد ناک شعر ہے جس میں اپنوں سے ملنے والی تکلیف کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی کی مشکلات سے لڑتے لڑتے اب میرے اندر نہ تو کوئی ہمت باقی رہی ہے اور نہ ہی جسم میں لڑنے کی کوئی طاقت ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ عین اس وقت، جب میں بالکل ٹوٹ چکا ہوں، میرے اپنے ہی دوست اور عزیز میرے مدِمقابل (دشمن بن کر) کھڑے ہو گئے ہیں۔ غیروں سے تو میں لڑ سکتا تھا، لیکن اپنوں سے لڑنے کی طاقت مجھ میں نہیں ہے۔ چوتھا شعر آواز دے کے چھپ گئی ہر بار زندگی ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آ گئے تشریح: اس شعر میں زندگی کی حقیقت اور سراب کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ زندگی نے ہمیں بار بار دھوکہ دیا۔ جب بھی زندگی نے ہمیں کوئی امید دلائی یا خوشی کا جھانسہ دیا، ہم نے اپنی سادگی اور معصومیت میں اس پر مکمل یقین کر لیا۔ لیکن ہر بار وہ امید جھوٹی نکلی، خوشی ایک دھوکہ ثابت ہوئی اور زندگی ہمیں آواز دے کر چھپ گئی، بالکل ایسے جیسے کوئی کسی کو پکار کر غائب ہو جائے۔ پانچواں شعر ہم کج ادا چراغ کہ جب بھی ہوا چلی طاقوں کو چھوڑ کر سرِ دیوار آ گئے تشریح: 'کج ادا' کا مطلب ہے باغی، ضدی یا مختلف انداز والا۔ یہ شعر ہمت، بہادری اور حالات کے سامنے ڈٹ جانے کا بہترین استعارہ ہے۔ شاعر خود کو ایک ایسے باغی چراغ سے تشبیہ دے رہا ہے جو طوفانوں سے ڈر کر طاق (محفوظ جگہ) میں چھپنے کے بجائے، جب بھی تیز ہوا (مخالفت یا مشکل وقت) چلی، تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے دیوار کے سرے پر آ گیا۔ یعنی ہم نے مشکل حالات کا ڈٹ کر اور کھلے عام مقابلہ کیا، بزدلوں کی طرح چھپے نہیں۔ مقطع (آخری شعر) سورج کی روشنی پہ جنہیں ناز تھا فرازؔ وہ بھی تو زیرِ سایہ دیوار آ گئے تشریح: غزل کے آخری شعر میں احمد فراز دنیا کی بے ثباتی اور وقت کی طاقت کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جنہیں اپنے عروج، طاقت، حسن یا دولت (جسے سورج کی روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے) پر بہت غرور اور تکبر تھا، بالآخر وقت نے انہیں بھی زوال کا شکار کر دیا۔ آخر کار، وہ بھی اپنی ساری چمک دمک کھو کر ایک دن دیوار کے سائے میں (یعنی پناہ مانگنے پر یا موت کی تاریکی میں) آ گئے۔ یہ شعر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کا عروج اور طاقت ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہے۔