Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Ek Aarzu — cover art

Song lyrics

Ek Aarzu

📜 Lyrics

دُنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب! کیا لُطف انجمن کا جب دل ہی بُجھ گیا ہو شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا ایسا سکُوت جس پر تقریر بھی فدا ہو مرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو آزاد فکر سے ہوں، عُزلت میں دن گزاروں دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو لذّت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو گُل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو ہو ہاتھ کا سَرھانا، سبزے کا ہو بچھونا شرمائے جس سے جلوت، خلوت میں وہ ادا ہو مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بُلبل ننھّے سے دل میں اُس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو صف باندھے دونوں جانب بُوٹے ہرے ہرے ہوں ندّی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو ہو دل فریب ایسا کُہسار کا نظارہ پانی بھی موج بن کر، اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو آغوش میں زمیں کی سویا ہُوا ہو سبزہ پھِر پھِر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو پانی کو چھُو رہی ہو جھُک جھُک کے گُل کی ٹہنی جیسے حَسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو مہندی لگائے سورج جب شام کی دُلھن کو سُرخی لیے سنہری ہر پھُول کی قبا ہو راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم اُمّید اُن کی میرا ٹُوٹا ہوا دِیا ہو بجلی چمک کے اُن کو کُٹیا مری دکھا دے جب آسماں پہ ہر سُو بادل گھِرا ہوا ہو پچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی مؤذِّن مَیں اُس کا ہم نوا ہوں، وہ میری ہم نوا ہو کانوں پہ ہو نہ میرے دَیر و حرم کا احساں روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو پھُولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے رونا مرا وضو ہو، نالہ مری دُعا ہو اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو ہر دردمند دل کو رونا مرا رُلا دے بے ہوش جو پڑے ہیں، شاید انھیں جگا دے

💡 Meaning & story

علامہ اقبال کی مشہور نظم "ایک آرزو" دراصل دنیا کی مادی اور شور و غل سے بھری زندگی سے اکتاہٹ اور فطرت کے قرب میں روحانی سکون کی تلاش کا ایک انتہائی خوبصورت اظہار ہے۔ اس نظم میں شاعر اپنے رب کے حضور التجا کرتا ہے کہ اسے پہاڑوں کے دامن میں ایک چھوٹی سی تنہا جھونپڑی عطا ہو جائے، جہاں دنیا کے غموں اور فکروں سے دور ایک گہرا اور پرسکون سناٹا چھایا ہو۔ وہ چاہتا ہے کہ مادی آسائشوں کے بجائے سبزہ اس کا بستر اور اپنا بازو اس کا تکیہ ہو، جبکہ بہتے چشموں کی جھنکار اور چڑیوں کے چہچہے اس کی روح کو موسیقی کی سی تسکین بخشیں۔ فطرت کے دلکش مناظر کے ساتھ اس کی اتنی گہری دوستی ہو کہ بلبل جیسے پرندے بھی اس سے بے خوف ہو جائیں۔ اپنی ذات کے سکون کے ساتھ ساتھ، اقبال کے دل میں انسانیت کی ہمدردی کا یہ عالم ہے کہ وہ خواہش کرتے ہیں کہ رات کی تاریکی اور طوفانوں میں ان کی کٹیا کا ٹوٹا ہوا دیا تھکے ہارے اور بھٹکے ہوئے مسافروں کے لیے امید اور رہنمائی کی کرن بنے۔ روایتی رسم و رواج کی پابندیوں سے بالاتر ہو کر، شاعر فطرت کے مظاہر میں ہی اپنا روحانی تعلق تلاش کرتا ہے؛ وہ چاہتا ہے کہ صبح کے وقت کوئل کی آواز اس کے لیے اذان کا کام دے، شبنم کے قطرے پھولوں کا وضو ہوں، اور خدا کے حضور بہنے والے اس کے اپنے آنسو ہی اس کی سچی دعا اور عبادت بن جائیں۔ نظم کے اختتام پر اقبال کی سب سے عظیم آرزو یہ ہے کہ اس تنہائی اور سوز و گداز سے نکلی ہوئی ان کی یہ پردرد آواز اتنی بلند اور پراثر ہو کہ وہ غفلت کی نیند سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑ کر جگا دے اور ہر دردمند انسان کے دل میں بیداری اور احساس کی ایک نئی تڑپ پیدا کر دے۔