📜 Lyrics
بہت خوبصورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم
کبھی میں جو کہہ دوں محبت ہے تم سے
تو مجھ کو خدا را غلط مت سمجھنا
کہ میری ضرورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم
ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری
ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری
جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن میں رکھ لوں
سجاؤں میں کلیوں سے راہیں تمہاری
نظر سے زمانے کی خود کو بچانا
کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا
کہ میری امانت ہو تم
بہت خوبصورت ہو تم
ہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہرا
ہے چہرا تمہارا کہ دن ہے سنہرا
اور اس پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرا
گلابوں سے نازک مہکتا بدن ہے
یہ لب ہیں تمہارے کہ کھلتا چمن ہے
بکھیرو جو زلفیں تو شرمائے بادل
فرشتے بھی دیکھیں تو ہو جائیں پاگل
وہ پاکیزہ مورت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم
جو بن کے کلی مسکراتی ہے اکثر
شب ہجر میں جو رلاتی ہے اکثر
جو لمحوں ہی لمحوں میں دنیا بدل دے
جو شاعر کو دے جائے پہلو غزل کے
چھپانا جو چاہیں چھپائی نہ جائے
بھلانا جو چاہیں بھلائی نہ جائے
وہ پہلی محبت ہو تم بہت خوبصورت ہو تم
💡 Meaning & story
"طاہر فراز صاحب کی یہ نظم سچی محبت اور پاکیزہ احساسات کا ایک نہایت خوبصورت اور سادہ اظہار ہے۔ اس میں شاعر اپنے محبوب کے سحر انگیز حسن کی تعریف کے ساتھ ساتھ اسے محض ایک کشش نہیں، بلکہ اپنی روح کی ضرورت اور زندگی کی امانت قرار دیتا ہے۔ یہ کلام اس والہانہ عشق کی عکاسی کرتا ہے جس میں عاشق اپنے محبوب کی راہوں کے تمام کانٹے اپنے دامن میں سمیٹ کر وہاں خوشیاں بچھانا چاہتا ہے۔ نظم کا ہر مصرع اس پہلی محبت کا ترجمان ہے جو چند لمحوں میں دل کی دنیا بدل دیتی ہے، کبھی مسکراہٹ بن کر لبوں پر سجتی ہے اور کبھی ہجر کی راتوں میں آنکھ سے چھلکتی ہے۔ مختصر یہ کہ، یہ اس سچے جذبے اور پاکیزہ محبت کی آواز ہے جسے لاکھ چاہنے کے باوجود نہ چھپایا جا سکتا ہے اور نہ ہی کبھی بھلایا جا سکتا ہے۔