Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Dahnak — cover art

Song lyrics

Dahnak

📜 Lyrics

آج بادل خُوب بَرسا اور بَرس کر کُھل گیا گُلستاں کی ڈَالی ڈَالی پَتّا پَتّا دُھل گیا دیکھنا کیا دُھل گیا سَارے کا سَارا آسماں اودا اودا نِیلا نِیلا پیارا پیارا آسماں ہَٹ گیا بَادل کا پَردہ مِل گئی کِرنوں کو رَاہ سَلْطَنَتْ پر اپنی پِھر خُورشید نے ڈالی نِگاہ دُھوپ میں ہے گَھاس پر پَانی کے قَطروں کی چَمک مَات ہے اِس وقت مَوتی اور ہِیرے کی دَمک دے رہی ہے لُطف کیا سرسبز پَیڑوں کی قطار اور ہری شاخوں پہ ہے رنگین پُھولوں کی بہار کیا پِرندے پھر رہے ہیں چہچہاتے ہر طرف راگنی برسات کی خُوش ہو کے گاتے ہر طرف دیکھنا وہ کیا اَچَنبھا ہے اَرے وہ دیکھنا آسماں پر اِن درختوں سے پَرے وہ دیکھنا یہ کوئی جَادو ہے یا سَچ مُچ ہے اِک رنگیں کماں وَاہ وَا کیسا بَھلا لگتا ہے یہ پیارا سماں کس مُصَوَرْ نے بَھرے ہیں رنگ ایسے خُوش نُما اِس کا ہر اِک رنگ ہے آنکھوں میں جیسے کُھب گیا اِک جَگہ کیسے اِکٹّھے کر دیے ہیں سات رنگ شَوخ ہیں ساتوں کے ساتوں اِک نہیں ہے مات رنگ ہے یہ قُدرت کا نَظارہ اور کیا کہئے اُسے بَس یہی جی چاہتا ہے دیکھتے رہئے اُسے نَنّھے نَنّھے جَمع تھے پانی کے کُچھ قَطرے وہاں اِن پہ ڈالا عَکس سُورج نے بَنا دِی یہ کَماں دیکھو دیکھو اب مِٹّی جاتی ہے وہ پیاری دَھنک دیکھتے ہی دیکھتے گُم ہو گئی ساری دَھنک پھر ہَوا میں مل گئی وہ سب کی سب کُچھ بھی نہیں آنکَھیں مَل مَل کر نہ دیکھو آؤ اَب کُچھ بھی نہیں

💡 Meaning & story

حفیظ جالندھری صاحب کی یہ خوبصورت نظم "بارش کے بعد کا موسم" قدرت کے ایک دلکش اور سحر انگیز منظر کی عکاسی کرتی ہے نظم کا خلاصہ (Summary) اس نظم میں شاعر نے برسات کے ختم ہونے کے بعد فطرت میں آنے والی خوشگوار تبدیلی اور آسمان پر چمکنے والی خوبصورت دھنک (قوسِ قزح) کا نقشہ کھینچا ہے۔ بارش برسنے کے بعد پوری کائنات صاف اور دھلی دھلی نظر آتی ہے۔ سورج کی کرنیں دوبارہ چمکتی ہیں، پرندے خوشی کے گیت گاتے ہیں اور زمین پر ہیرے موتیوں کی طرح چمکتے پانی کے قطرے بکھر جاتے ہیں۔ اس خوبصورت ماحول میں اچانک آسمان پر سات رنگوں کی ایک جادوئی کمان (دھنک) نمودار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ لیکن یہ نظارہ جتنا خوبصورت ہوتا ہے، اتنا ہی عارضی بھی ہوتا ہے، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دھنک ہوا میں غائب ہو جاتی ہے۔ تفصیلی تشریح (Explanation) 1. ماحول کی صفائی اور نکھار: نظم کے آغاز میں شاعر کہتے ہیں کہ بادل خوب برسنے کے بعد اب چھٹ چکے ہیں اور موسم بالکل صاف ہو گیا ہے۔ بارش کے اس پانی نے باغ کے ایک ایک پتے اور ہر ڈالی کو دھو کر اجاگر کر دیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے صرف زمین ہی نہیں بلکہ پورا نیلا آسمان بھی دھل کر صاف، گہرا اور دلکش ہو گیا ہے۔ 2. سورج کا دوبارہ راج اور پرندوں کی چہچہاہٹ: جیسے ہی بادلوں کا پردہ ہٹتا ہے، سورج کی سنہری کرنوں کو زمین پر آنے کا راستہ مل جاتا ہے۔ شاعر نے سورج کو ایک بادشاہ سے تشبیہ دی ہے جو بادل ہٹتے ہی اپنی سلطنت (زمین) پر دوبارہ محبت اور جلال سے نگاہ ڈال رہا ہے۔ دھوپ نکلنے سے گھاس پر موجود پانی کے قطرے اس طرح چمک رہے ہیں جیسے سچے ہیرے اور موتی بکھرے ہوں۔ اس خوشگوار اور تروتازہ ماحول میں درختوں کی ہری شاخیں اور رنگ برنگے پھول ایک الگ ہی بہار کا منظر پیش کر رہے ہیں، اور پرندے اس خوبصورت موسم سے نہال ہو کر ہر طرف برسات کے گیت (راگنی) گاتے پھر رہے ہیں۔ 3. دھنک کا جادو اور قدرت کا نظارہ: موسم کے اس عروج پر شاعر کا دھیان آسمان کی طرف جاتا ہے جہاں درختوں کی اوٹ سے ایک حیرت انگیز منظر دکھائی دیتا ہے۔ آسمان پر سات رنگوں کی ایک خوبصورت اور شوخ کمان بنی ہوئی ہے، جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ یہ کوئی جادو ہے یا حقیقت! شاعر اس عظیم مصور (اللہ تعالیٰ) کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ پاتا جس نے اتنے خوبصورت رنگ اس طرح یکجا کر دیے ہیں کہ دیکھنے والے کی آنکھیں وہیں ٹک کر رہ جاتی ہیں۔ سائنسی اور قدرتی اعتبار سے شاعر بتاتا ہے کہ یہ پانی کے ان ننھے قطروں کا کمال ہے جن پر جب سورج کی شعاعیں (عکس) پڑتی ہیں تو یہ رنگین کمان بن جاتی ہے۔ 4. اختتام اور منظر کا غائب ہونا: نظم کے آخر میں شاعر ایک سچی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ یہ جادوئی نظارہ ہمیشہ قائم رہنے والا نہیں ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پیاری دھنک مدہم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان کے نیلے پن اور ہوا میں اس طرح حل ہو جاتی ہے کہ وہاں کچھ باقی نہیں رہتا۔ شاعر کہتا ہے کہ اب آنکھیں مل مل کر دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ وہ خوبصورت سماں اب رخصت ہو چکا ہے، لیکن اپنے پیچھے ایک مٹ مٹاتا اور یادگار احساس چھوڑ گیا ہے۔