Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Raqs — cover art

Song lyrics

Raqs

📜 Lyrics

اے مِری ہم رَقص مُجھ کو تھام لَے زِندگی سے بَھاگ کر آیا ہَوں میں ڈَر سے لَرزاں ہَوں کہیں ایسا نہ ہو رَقص گہ کے چور دروازے سے آ کر زِندگی ڈُھونڈ لے مُجھ کو، نِشاں پَا لے میرا اور جُرمِ عَیش کرتے دیکھ لے اے مِری ہم رَقص مُجھ کو تھام لے اے مِری ہم رَقص مُجھ کو تھام لے رَقص کی یہ گَردشیں ایک مُبْہَمْ آسیا کے دَور ہیں کیسی سرگرمی سے غَم کو روندتا جاتا ہوں میں! جِی میں کہتا ہوں کہ ہاں، رَقص گَاہ میں زِندگی کے جَھانکنے سے پَیشتَر کلفتوں کا سَنگ رَیزہ ایک بِھی رہنے نہ پائے! اے مِری ہم رَقص مُجھ کو تھام لے! زِندگی میرے لیے ایک خُونیں بَھیڑَیے سے کَم نہیں اے حَسین و اَجنَبی عَورت اِسی کے ڈَر سے میں ہَو رہا ہُوں لَمحہ لَمحہ اور بِھی تَیرے قَریب جانتا ہُوں تو مِری جَاں بِھی نہیں تُجھ سے مِلنے کا پھر اِمکاں بِھی نہیں تُو مِری اُن آرزؤں کی مگر تَمْثَیل ہے جو رہیں مُجھ سے گُرِیزَاں آج تک! اے مِری ہم رَقص مُجھ کو تھام لے عہدِ پَارینہ کا میں اِنساں نہیں بَندگی سے اُس در و دیوار کی ہَو چُکی ہیں خُواہشیں بے سَوز و رنگ و ناتواں جِسم سے تیرے لِپٹ سَکتا تَو ہوں زِندگی پَر میں جَھپٹ سَکتا نہیں اِس لیے اَب تھام لے اے حَسین و اَجنبی عَورت مُجھے اَب تھام لے اے مِری ہم رَقص مُجھ کو تھام لے

💡 Meaning & story

نظم کا مرکزی مفہوم اس نظم کا بنیادی موضوع "فرار" (Escapism) ہے۔ یہاں شاعر "زندگی" کو ایک خوفناک حقیقت (خونخوار بھیڑیے) کے روپ میں دیکھ رہا ہے، جس کے دکھوں، ذمہ داریوں اور تلخیوں سے بچنے کے لیے وہ رقص گاہ کی عارضی اور خیالی دنیا میں پناہ لیتا ہے۔ بند وار تشریح و مفہوم: • زندگی سے فرار اور خوف: شاعر اپنی ہم رقص (ڈانسر) سے کہتا ہے کہ وہ اسے مضبوطی سے تھام لے، کیونکہ وہ باہر کی حقیقی دنیا (زندگی) کے مصائب سے تھک ہار کر اور بھاگ کر یہاں آیا ہے۔ اسے ہر وقت یہ دھڑکا لگا ہوا ہے کہ رقص گاہ کے کسی چور دروازے سے زندگی اچانک اندر نہ آ جائے اور اسے اس عارضی سکون یا "جرمِ عیش" (خوشی کے ان لمحات) میں مبتلا نہ دیکھ لے۔ • رقص کی گردش اور غموں کو روندنا: رقص کے چکروں کو وہ ایک مبہم اور مسلسل چلنے والی چکی (آسیا) سے تشبیہ دیتا ہے۔ وہ اس رقص کی تیز رفتاری میں اپنے تمام غموں اور کلفتوں کو پامال کر دینا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ زندگی کی تلخیاں دوبارہ اس پر غالب آئیں، وہ اپنی ذات سے دکھوں کا ایک ایک سنگ ریزہ (کنکر) نکال باہر پھینکے۔ • اجنبی عورت (ہم رقص) کی حقیقت: شاعر اس بات سے پوری طرح باخبر ہے کہ وہ جس خوبصورت اور اجنبی عورت کے ساتھ رقص کر رہا ہے، نہ تو وہ اس کی حقیقی محبت (جاں) ہے اور نہ ہی مستقبل میں اس سے دوبارہ ملنے کا کوئی امکان ہے۔ لیکن وہ عورت اس کے لیے ان تمام ادھوری خواہشات اور خوابوں کی علامت (تمثیل) بن چکی ہے جو اسے حقیقی زندگی میں کبھی حاصل نہیں ہو سکے۔ وہ جتنا زندگی سے ڈرتا ہے، اتنا ہی اس اجنبی عورت کے قریب ہوتا جاتا ہے۔ • ماضی کا انسان اور بے بسی: آخری بند میں وہ اپنی اندرونی بے بسی کا اعتراف کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ اب ماضی کا وہ طاقتور انسان نہیں رہا جس میں حالات سے لڑنے کا حوصلہ تھا۔ دنیا کی قید اور روایات کی بندگی نے اس کی خواہشات کو بے رنگ اور کمزور کر دیا ہے۔ وہ اس اجنبی عورت کے جسم کا سہارا تو لے سکتا ہے، لیکن زندگی کی سختیوں پر جھپٹنے یا ان کا مقابلہ کرنے کی سکت کھو چکا ہے۔ اس لیے وہ آخری بار پھر التجا کرتا ہے کہ اسے تھام لیا جائے تاکہ یہ عارضی پناہ گاہ قائم رہے۔ خلاصہ: یہ نظم انسان کی اس نفسیاتی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے جہاں وہ حقیقی دنیا کے دکھوں سے گھبرا کر کسی عارضی خوبصورتی، فن یا تخیل کی پناہ لیتا ہے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ پناہ گاہ مستقل نہیں ہے۔