Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Raat main Khuab — cover art

Song lyrics

Raat main Khuab

📜 Lyrics

رات میں خُواب بھی تھے رات جب باغ کے ہونٹوں پہ تَبَسّم نہ رہا رات جب باغ کی آنکھوں میں تَماشَا کا تَکَلّم نہ رہا غُنچے کہنے لَگے رُکنَا ہے ہمیں بَاغ میں لَا سَال اَبھی صُبح جب آئی تو لَا سَال کے جاں کاہ مُعَمّاَ کا فَسَوں بھی ٹوٹا صُبح کے نام سے اَب غُنچے بُہت ڈَرتے ہیں صُبح کے ہاتھ میں جَراح کے نَشتر سے بُہت ڈَرتے ہیں وہ جو غُنچوں کے مہ و سال کی کوتاہی میں ایک لَمحہ تھا بُہت ہی روشن وہی اَب اُن کے پِگَھلتے ہوئے جِسْموں میں گُل تازہ کے بَہروپ میں کِن زَخموں سے دِلگیر ہے آشفتہ ہے رَات میں خُواب بھی تھے خُوابوں کی تَعبیر بھی تھی صُبح سے غُنچے بُہت ڈَرتے ہیں غُنچے خُوش تھے کہ یہ پُھول ہُو بَہُو اِن کے خَد و خَال لیے اِن کا رَنگ اِن کی طَلب اِن کے پَر و بَال لیے اِن کے خاموش تَبسّم ہی کی پنہائی میں کیا خبر تھی اِنہیں وہ کیسے سُمندر سے ہوئے ہیں خَالی جیسے اِک ٹُوٹے ہوئے دَانت سے یہ ساری چَٹانیں اُٹھیں جیسے اِک بُھولَے ہوئے قَہقَہے سے سَارے سِتارے اُبھرے جیسے اِک دَانۂ اَنگور سے اَفسانوں کا سِیلاب اُٹھا جیسے اِک بَوسے کے مَنشور سے دریا جاگے اور اِک دَرد کی فَریاد سے اِنساں پَھیلَے اِنہیں اِن غُنچوں کو اُمید تھی وہ پُھول بھی اِن کے مَانند اِن کی خُود فہمی کی جویائی سے پَیدا ہوں گے اِن کے اِس وعدۂ مُبرَم ہی کا اَیفا ہوں گے پُھول جو اپنے ہی وَہمَّوں کے تَکّبُر کے سِوَا کُچھ بھی نہیں اُن کی اِن غنچوں کی دِلگِیر صَدا سُنتَے ہیں ہَنس دیتے ہیں

💡 Meaning & story

نظم کا آسان مفہوم - ن م راشد اس نظم کا بنیادی موضوع خوابوں کا ٹوٹنا، وقت کا بے رحم بدلاؤ، اور نئی نسل (پھولوں) کا پرانی نسل (غنچوں) کے جذبوں اور قربانیوں سے لاتعلق ہو جانا ہے۔ اسے ہم تین حصوں میں تقسیم کر کے سمجھ سکتے ہیں: ۱. رات کا سکون اور غنچوں کی امیدیں (پہلا حصہ) نظم کی شروعات رات کے ماحول سے ہوتی ہے۔ رات کے وقت جب باغ میں کوئی ہلچل یا تماشہ نہیں تھا، تو غنچے (جو ابھی پوری طرح کھلے نہیں ہیں اور خواب دیکھ رہے ہیں) پرامید تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ ابھی طویل عرصے تک ("لا سال" یعنی ان گنت برس) اسی حالت میں رہیں، کیونکہ رات کے اندھیرے میں ان کے پاس خوبصورت خواب بھی تھے اور ان خوابوں کی تعبیر کی امید بھی۔ وہ آنے والے وقت سے بے خبر اپنے وجود میں خوش تھے۔ ۲. صبح کی آمد اور حقیقت کا جراح (دوسرا حصہ) جیسے ہی صبح ہوتی ہے، غنچوں کا وہ وہم یا جادوئی سحر ٹوٹ جاتا ہے۔ یہاں راشد نے صبح کو ایک روایتی خوبصورتی کے بجائے ایک "جراح" (سرجن) کے نشتر سے تشبیہ دی ہے۔ صبح کی روشنی غنچوں کے لیے کوئی خوشی نہیں لاتی، بلکہ وہ ان کے وجود کو چاک کرتی ہے (انہیں پھول بننے پر مجبور کرتی ہے)۔ غنچے اب صبح سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وقت کی یہ تبدیلی ان کی معصومیت اور ان کی طویل زندگی کے خواب کو ختم کر دے گی، اور وہ پگھلتے ہوئے جسموں کے ساتھ "گلِ تازہ" (کھلے ہوئے پھول) کا روپ تو دھار لیں گے، لیکن اندر سے زخمی اور دلگیر ہوں گے۔ ۳. کائناتی تخلیق کے استعارے اور پھولوں کا تکبر (تیسرا حصہ) یہاں شاعر کچھ بہت خوبصورت اور منفرد مثالیں دیتا ہے کہ کس طرح کائنات میں چھوٹی یا مبہم چیزوں سے بڑی حقیقتیں جنم لیتی ہیں: • جیسے ایک بھولے ہوئے قہقہے سے ستارے ابھر آئے۔ • جیسے ایک انگور کے دانے سے داستانوں کا سیلاب آ گیا۔ • جیسے ایک چومنے کے عمل (محبت) سے دریا جاگ اٹھے۔ غنچوں کو یہ امید تھی کہ جو پھول ان سے پیدا ہوں گے، وہ بالکل ان جیسے ہوں گے۔ ان کے رنگ، ان کے خواب اور ان کی سوچ کو آگے بڑھائیں گے اور ان کی قربانیوں کا صلہ (وعدے کا ایفا) بنیں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ جب غنچے پھول بن گئے، تو وہ پھول اپنے ہی وہم اور تکبر میں مبتلا ہو گئے۔ وہ اپنے ماضی (غنچوں کی حالت اور ان کی درد بھری صداؤں) کو بھول گئے اور ان کا دکھ سن کر آگے سے ہمدردی کرنے کے بجائے ہنس دیتے ہیں۔ مرکزی خیال (خلاصہ) یہ نظم دراصل وقت کے جبر اور دو نسلوں کے درمیانی فاصلے (Generation Gap) کا نوحہ ہے۔ غنچے وہ لوگ ہیں جو مستقبل کے لیے خواب دیکھتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں اور ایک آئیڈیل دنیا بنانا چاہتے ہیں۔ پھول وہ نئی نسل یا نئی حالت ہے جو سامنے آتی ہے، لیکن وہ ماضی کی ان قربانیوں کو بھول کر اپنے مادی وجود کے تکبر میں گم ہو جاتی ہے اور پرانی نسل کے خوابوں کا مذاق اڑاتی ہے۔ -============-------------================------------== ن م راشد: "رات میں خواب بھی تھے" (شعر بہ شعر تشریح) بند نمبر 1: رات میں خواب بھی تھے رات جب باغ کے ہونٹوں پہ تبسم نہ رہا رات جب باغ کی آنکھوں میں تماشا کا تکلم نہ رہا غنچے کہنے لگے رکنا ہے ہمیں باغ میں لا سال ابھی • مطلب: شاعر کہتا ہے کہ ماضی کی اس تاریک رات میں جب باغ کے ہونٹوں پر کوئی مسکراہٹ نہیں تھی اور نہ ہی وہاں دنیاوی چمک دمک یا تماشے کی گفتگو تھی، تب بھی غنچوں (معصوم جذبوں اور خواب دیکھنے والوں) کے پاس اپنے حسین خواب اور امیدیں تھیں۔ وہ اس پرسکون حالت میں اتنے مگن تھے کہ انہوں نے خواہش کی کہ وہ ابھی پھول بن کر دنیا کے سامنے آنے کے بجائے، "لا سال" (ان گنت برسوں) تک اسی غنچے کی حالت میں رہیں۔ بند نمبر 2: صبح جب آئی تو لا سال کے جاں کاہ معما کا فسوں بھی ٹوٹا صبح کے نام سے اب غنچے بہت ڈرتے ہیں صبح کے ہاتھ میں جراح کے نشتر سے بہت ڈرتے ہیں • مطلب: لیکن جیسے ہی وقت بدلا اور صبح آئی، تو ان گنت برسوں تک غنچہ بنے رہنے کا وہ جادوئی سحر اور وہم ٹوٹ گیا۔ اب غنچے صبح کی اس نئی روشنی سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ یہ صبح ان کے لیے کوئی خوشی نہیں لائی، بلکہ ایک "جراح" (سرجن) کی طرح آئی ہے جس کے ہاتھ میں تیز نشتر ہے، جو ان کے وجود کو کاٹ کر انہیں بدلنے پر مجبور کر دے گا۔ یہ وقت کی بے رحمی کا استعارہ ہے۔ بند نمبر 3: وہ جو غنچوں کے مہ و سال کی کوتاہی میں ایک لمحہ تھا بہت ہی روشن وہی اب ان کے پگھلتے ہوئے جسموں میں گل تازہ کے بہروپ میں کن زخموں سے دلگیر ہے آشفتہ ہے • مطلب: غنچوں کی اس مختصر سی زندگی میں جو خوابوں کا ایک روشن لمحہ تھا، اب وہی لمحہ وقت کے جبر کے تحت ان کے پگھلتے ہوئے وجود کا حصہ بن چکا ہے۔ وہ غنچے جو اب مجبوراً "گلِ تازہ" (کھلے ہوئے پھول) کا روپ دھار چکے ہیں، اندر سے انتہائی زخمی، پریشان اور دلگیر ہیں کیونکہ ان کی معصومیت چھن چکی ہے۔ بند نمبر 4: رات میں خواب بھی تھے خوابوں کی تعبیر بھی تھی صبح سے غنچے بہت ڈرتے ہیں • مطلب: شاعر اسی بات کو دہراتا ہے کہ اس پرانی حالت (رات) میں نہ صرف خوبصورت خواب تھے بلکہ ان کے پورا ہونے کا یقین بھی تھا۔ اسی لیے اب غنچے اس نئی حقیقت اور نئے دور (صبح) سے خوف کھاتے ہیں جہاں خواب دم توڑ دیتے ہیں۔ بند نمبر 5: غنچے خوش تھے کہ یہ پھول ہو بہو ان کے خد و خال لیے ان کا رنگ ان کی طلب ان کے پر و بال لیے ان کے خاموش تبسم ہی کی پنہائی میں • مطلب: یہاں سے اگلی نسل کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ غنچے (پرانی نسل) اس بات پر خوش اور مطمئن تھے کہ ان سے جو یہ نئے پھول (نئی نسل) نکل رہے ہیں، یہ بالکل ان جیسے ہی ہیں۔ ان پھولوں کا رنگ، ان کی اڑان (پر و بال) اور ان کی خواہشات وہی ہوں گی جو ان کے بزرگوں کی تھیں، اور یہ پھول ان کی خاموش مسکراہٹوں کی گہرائی کو سمجھیں گے۔ بند نمبر 6 (کائناتی استعارے): کیا خبر تھی انہیں وہ کیسے سمندر سے ہوئے ہیں خالی جیسے اک ٹوٹے ہوئے دانت سے یہ ساری چٹانیں اٹھیں جیسے اک بھولے ہوئے قہقہے سے سارے ستارے ابھرے جیسے اک دانۂ انگور سے افسانوں کا سیلاب اٹھا جیسے اک بوسے کے منشور سے دریا جاگے اور اک درد کی فریاد سے انساں پھیلے • مطلب: اس طویل بند میں شاعر حیرت انگیز کائناتی مثالیں دیتا ہے کہ غنچوں کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ دنیا اور اس کے رویے کس قدر عجیب سمندر سے نکلے ہیں۔ جیسے بظاہر ایک معمولی یا چھوٹی چیز سے کائنات کی بڑی بڑی حقیقتیں جنم لیتی ہیں—ایک قہقہے سے ستارے بن جانا، انگور کے دانے سے داستانوں کا سیلاب آ جانا، یا محبت کے ایک لمس (بوسے) سے دریاؤں کا جاگ اٹھنا، اور انسان کا درد کی پکار سے پوری زمین پر پھیل جانا۔ غنچے بھی ان گہرے کائناتی اصولوں سے بے خبر صرف امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔ بند نمبر 7 (آخری حصہ): انہیں ان غنچوں کو امید تھی وہ پھول بھی ان کے مانند ان کی خود فہمی کی جویائی سے پیدا ہوں گے ان کے اس وعدۂ مبرم ہی کا ایفا ہوں گے • مطلب: غنچوں کو پکا یقین اور امید تھی کہ یہ جو نئی نسل (پھول) آ رہی ہے، یہ ان کی سوچ، ان کی فہم اور ان کی قربانیوں کا صلہ بنے گی، اور اس پکے وعدے کو پورا کرے گی جو فطرت نے ان سے کیا تھا کہ نئی نسل پرانی نسل کا نام روشن کرتی ہے۔ بند نمبر 8 (حاصلِ نظم): پھول جو اپنے ہی وہموں کے تکبر کے سوا کچھ بھی نہیں ان کی ان غنچوں کی دلگیر صدا سنتے ہیں ہنس دیتے ہیں • مطلب: لیکن آخر میں سب کچھ الٹ گیا۔ وہ پھول جب پوری طرح کھل گئے، تو وہ اپنے مادی وجود، حسن اور طاقت کے گھمنڈ (تکبر) میں مبتلا ہو گئے۔ وہ اپنے ہی ماضی اور جڑوں سے کٹ چکے ہیں۔ اب جب وہ ان غنچوں (اپنے ہی بزرگوں یا پرانی نسل) کی دکھ بھری آوازیں اور نصیحتیں سنتے ہیں، تو ان کے دکھ کو سمجھنے کے بجائے، ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ہنس دیتے ہیں۔