Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Zindagi Se Darte Ho — cover art

Song lyrics

Zindagi Se Darte Ho

📜 Lyrics

زندگی سے ڈرتے ہو !زندگی تو تُم بھی ہو زندگی تو ہم بھی ہیں زندگی سے ڈرتے ہو آدمی سے ڈرتے ہو آدمی تو تُم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں آدمی زباں بھی ہے آدمی بیاں بھی ہے اُس سے تم نہیں ڈرتے! حرف اور معنی کے رِشتہ ہائے آہن سے آدمی ہے وابستہ آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ اُس سے تم نہیں ڈرتے ''اَنْ کَہی'' سے ڈرتے ہو جو اَبھی نہیں آئی اُس گھڑی سے ڈرتے ہو اُس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو پہلے بھی تو گُزرے ہیں دَور نارسائی کے ''بے رَیا'' خدائی کے پھر بھی یہ سمجھتے ہو ہیچ آرزو مَندی یہ شب زباں بندی ہے رَاہ خداوندی تم مگر یہ کیا جانو لَب اگر نہیں ہِلتے ہاتھ جَاگ اُٹھتے ہیں ہاتھ جَاگ اُٹھتے ہیں راہ کا نشاں بن کر نُور کی زُباں بن کر ہاتھ بول اُٹھتے ہیں صُبح کی اَذاں بن کر روشنی سے ڈرتے ہو روشنی تو تُم بھی ہو روشنی تو ہم بھی ہیں روشنی سے ڈرتے ہو شہر کی فصیلوں پر دَیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر رات کا لِبادہ بھی چاک ہو گیا آخر خَاک ہو گیا آخر اژدہام انساں سے فَرد کی نَوا آئی ذات کی صَدا آئی راہ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لَپکے اِک نَیا جنوں لَپکے آدمی چَھلک اُٹھے آدمی ہَنسے دیکھو، شہر پھر بَسے دیکھو تُم اَبھی سے ڈرتے ہو ہاں اَبھی تو تُم بھی ہو ہاں اَبھی تو ہم بھی ہیں تُم اَبھی سے ڈرتے ہو

💡 Meaning & story

عنوان: نون میم راشد کی شاہکار نظم "زندگی سے ڈرتے ہو؟" – ایک فکری اور فلسفیانہ تجزیہ تعارف: کیا ہم واقعی زندگی سے ڈرتے ہیں، یا اس تبدیلی سے جو زندگی اپنے ساتھ لاتی ہے؟ نون میم راشد کی یہ نظم انسان کے اندر چھپے ہوئے نادیدہ خوف، جمود اور آنے والے کل کی بے یقینی پر ایک گہرا وار ہے۔ یہ نظم مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر امید کی صبحِ نو کا استقبال کرنے کا ایک طاقتور پیغام ہے۔ نظم کا آسان اور مفصل مفہوم: خوف اور انسان کا رشتہ: نظم کے آغاز میں شاعر انسان سے سوال کرتا ہے کہ تم زندگی اور اپنے جیسے دوسرے انسانوں سے کیوں ڈرتے ہو؟ جب تم خود زندگی کا ایک حصہ ہو، تو اپنے ہی وجود اور اپنی طاقت سے یہ خوف کیسا؟ انسان تو لفظ، بیان اور شعور کا نام ہے، پھر اپنی ہی آواز سے یہ فرار کیوں؟ ان کہی اور مستقبل کا خوف: راشد کہتے ہیں کہ انسان اکثر موجودہ تکلیف سے نہیں، بلکہ اس 'ان کہی' اور ان دیکھی گھڑی (مستقبل) سے ڈرتا ہے جو ابھی آئی ہی نہیں۔ ہم آنے والے کل کی تبدیلیوں اور سچائیوں کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ جمود اور جبر کا دور: تاریخ میں ہمیشہ ایسے دور آئے ہیں جہاں بولنے پر پابندی لگی، جہاں مایوسی کو ہی مقدر سمجھ لیا گیا (شبِ زباں بندی)۔ لیکن شاعر یاد دلاتا ہے کہ اگر لب سل جائیں، تو عمل کے ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں۔ جب انسان کا شعور بیدار ہوتا ہے، تو اس کے ہاتھ تاریکی میں روشنی کا نشان اور صبح کی اذان بن جاتے ہیں۔ امید کی فتح اور نیا جنون: نظم کا آخری حصہ ایک سحر انگیز امید پر ختم ہوتا ہے۔ شہر کی فصیلوں پر جابرانہ نظام کا جو 'دیو قامت سایہ' تھا، وہ آخر کار ختم ہو گیا۔ رات کا سیاہ لبادہ چاک ہو چکا ہے۔ ہجوم میں سے اب فرد کی اپنی پہچان اور خودی کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ انسان کے اندر کا جذبہ اور نیا جنون اب جاگ اٹھا ہے، شہر پھر سے مسکرا رہے ہیں اور زندگی رواں دواں ہے۔ مرکزی پیغام: یہ نظم ہمیں سکھاتی ہے کہ تبدیلی ناگزیر ہے۔ خوف صرف ایک وہم ہے، کیونکہ "روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں"۔ اگر ہم اپنے اندر کے خوف پر قابو پا لیں، تو ہر اندھیری رات کے بعد ایک نئی اور خوبصورت صبح ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔