Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Jo Guzar Gaya So Guzar Gaya — cover art

Song lyrics

Jo Guzar Gaya So Guzar Gaya

📜 Lyrics

ہما وقت رنج و مَلال کَیا، جو گُزر گیا سَو گُزر گیا اُسے یاد کر کے نہ دِل دُکھا، جو گُزر گیا سَو گُزر گیا نہ گِلہ کِیا نہ خفا ہوئے، یوں ہی راستے میں جُدا ہوئے نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گُزر گیا سَو گُزر گیا جو گُزر گیا سو گُزر گیا جو گُزر گیا سو گُزر گیا وہ غزل کی ایک کِتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گُلاب تھا ذرا دیر کا کوئی خُواب تھا، جو گُزر گیا سو گُزر گیا مُجھے پتجھڑوں کی کہانیاں، نہ سُنا سُنا کر اُداس کر تُو خزاں کا پُھول ہے مُسکرا، جو گُزر گیا سَو گُزر گیا جو گُزر گیا سَو گُزر گیا جو گُزر گیا سَو گُزر گیا وہ اُداس دُھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چُکا اُسے اب نہ دے میرے دِل صَدا، جو گُزر گیا سَو گُزر گیا یہ سفر بھی کِتنا طَویل ہے، یہاں وقت بھی کِتنا قلیل ہے کہاں لَوٹ کر کوئی آئے گا، جو گُزر گیا سَو گُزر گیا جو گُزر گیا سَو گُزر گیا جو گُزر گیا سَو گُزر گیا وہ وفائیں تِھیں یا جَفائیں تِھیں، یہ نہ سوچ کِس کی خطائیں تھیں وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا، جو گُزر گیا سَو گُزر گیا تُجھے اِعتبار و یقیں نہیں، نہیں دُنیا اِتنی بُری نہیں نہ مَلال کر میرے ساتھ آ، جو گُزر گیا سَو گُزر گیا جو گُزر گیا سَو گُزر گیا... جو گُزر گیا سَو گُزر گیا

💡 Meaning & story

خلاصہ: یہ غزل بشیر بدر صاحب کا ایک ایسا شاہکار ہے جو انسان کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یعنی "وقت کی بے رحمی اور آگے بڑھنے کے ہنر" سے روشناس کرواتا ہے۔ غزل کا بنیادی مقصد سامعین کو یہ سمجھانا ہے کہ ماضی خواہ کتنا ہی خوبصورت رہا ہو یا کتنا ہی تکلیف دہ، وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا۔ گزرے ہوئے وقت پر پچھتانا یا غم کرنا موجودہ وقت کو بھی برباد کر دیتا ہے۔ شاعر انسان کو ایک مخلص دوست کی طرح سمجھاتا ہے کہ رشتوں کا ٹوٹنا، حالات کا بدلنا اور اپنوں کا جدا ہونا زندگی کا حصہ ہے۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ ماضی کے بوجھ کو دل سے اتار کر، چہرے پر مسکراہٹ سجائی جائے اور ایک نئی امید کے ساتھ مستقبل کی طرف قدم بڑھایا جائے۔ غزل کی مفصل تشریح (Detailed Explanation) سامعین کی تسلی کے لیے اس غزل کے فکری پہلوؤں کو تین اہم حصوں میں سمجھا جا سکتا ہے: 1. ماضی سے پیچھا چھڑانے کا فلسفہ (Accepting the Past) ہمارا وقتِ رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا... اسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا... شروعاتی اشعار میں شاعر سامعین کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ماضی کے دکھوں، صدموں اور محرومیوں پر ماتم کرنا فضول ہے۔ جب ہم بار بار پرانی باتوں کو یاد کرتے ہیں، تو ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنے دل کو زخمی کرتے ہیں۔ جو وقت ہاتھ سے نکل گیا، اس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں، اس لیے اسے یاد کر کے اپنی آج کی خوشیوں کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ 2. رشتوں کے خاتمے پر خوبصورت ردِعمل (Graceful Goodbyes) نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یوں ہی راستے میں جدا ہوئے... نہ تو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا... وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں... ان اشعار میں شاعر نے رشتوں کے ٹوٹنے کا ایک بہت ہی سلجھا ہوا اور معزز طریقہ سکھایا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب دو لوگ الگ ہوں، تو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے، گلے شکوے کرنے یا کسی ایک کو "بے وفا" ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض اوقات حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ راستے جدا کرنے پڑتے ہیں۔ یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ کس کی غلطی تھی، بلکہ جو جیسا تھا اسے اسی طرح قبول کر کے دل کو صاف کر لینا ہی حقیقی سکون ہے۔ 3. وقت کی قلت اور آگے بڑھنے کی دعوت (The Value of Time & Hope) یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے... کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا... تجھے اعتبار و یقیں نہیں، نہیں دنیا اتنی بری نہیں... آخر میں شاعر زندگی کے سفر کی طوالت اور وقت کی کمی کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے اور اس میں اتنا وقت نہیں ہے کہ ہم پرانی یادوں کے مزار پر بیٹھ کر روتے رہیں۔ دنیا اتنی بھی بری نہیں ہے جتنی کسی ایک حادثے یا صدمے کے بعد نظر آنے لگتی ہے۔ زندگی میں اب بھی بہت سی خوبصورتیاں، نئے رشتے اور نئی امیدیں باقی ہیں۔ اس لیے ملال چھوڑو، اٹھو اور میرے ساتھ ایک نئے سفر پر چلو۔ سامعین کے لیے پیغام (Conclusion): یہ کلام مایوسی کا نہیں بلکہ امید، حوصلے اور مثبت سوچ کا کلام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ خزاں کے بعد بہار کا آنا طے ہے، بشرطیکہ ہم ماضی کے اندھیرے سے نکل کر مستقبل کے سورج کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہوں۔