Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Divine Navigator — cover art

Song lyrics

Divine Navigator

📜 Lyrics

دریا چڑھاؤ پر ہے اور بَوجھ ناؤ پر ہے پہنائے آب سارا ہے کُوچ کا اِشارا ہوش آزما نظارا موجوں کے مُوں میں کَف ہے اِک شور ہر طرف ہے مَرگ آفریں ہے دَھارا اور دُور ہے کِنارا کوئی نہیں سہارا تیغ آزما ہیں لہریں تیغیں ہیں یا ہیں لہریں توبہ ہَوَا کی تَیزِی موجِ فنا کی تَیزِی ہے کِس بَلا کی تَیزِی تدبیر ناخُدا کیا چَپُّو کا آسرا کیا گُرداب پڑ رہے ہیں کَشتی سے لَڑ رہے ہیں تختے اُکھڑ رہے ہیں نغموں کا جوش خَاموش سب ناؤ نوش خَاموش ہے یہ برات کس کی نو شاہ اور براتی لوٹے ہیں لے کے ڈولی مایوس ہیں نگاہیں رقصاں لبوں پہ آہیں ڈولی میں حور پیکر کیا کانپتی ہے تھرتھر لیکن ہے مہر لب پر دُولھَا کے سر پہ صِحْرا لیکن اُداس چَہرہ عِشرت کی آرزو تھی اُلفت کی جُستجو تھی اُمید رو بہ رو تھی یہ اِنقلاب کیا ہے آغوش مرگ وا ہے اَفسَوس یا الٰہی کیا آ گئی تباہی قِسمت کی کم نگاہی دل سرد ہو رہے ہیں رُخ زرد ہو رہے ہیں اِس محشر بَلا میں اِس لہجۂ فنا میں اِس سیل باد پا میں سب اہلِ یاس گُم ہیں ہوش و حواس گُم ہیں کُچھ محو ہیں دُعا میں کُچھ نَالہ و بکا میں کُچھ شِکّوَۂ خُدا میں بیٹھی ہے ایک بَیوَاہ ہے صبر جس کا شَیوَاہ دِل ہاتھ سے دبائے بَچّا گلے لگائے تیر اُمید کھائے یہ باپ کی نشانی سرمایۂ جوانی اِک دن جوان ہوگا اَمّاں کا مان ہوگا حق مہربان ہوگا اِک نوجواں بد اَختر بھاگا ہے گھر سے لڑ کر چھوڑے تھے باپ ماں بھی بِیوی بھی اور مکاں بھی اب چھوڑتا ہے جاں بھی اے کاش میں نا آتا اے کاش لَوٹ جاتا اے طبع خود سر افسَوس اے طیش تُجھ پر افسَوس افسَوس یکسر افسَوس یہ دَیو‌‌ زَاد موجیں یہ نو نہاد موجیں آیا پھر ایک ریلا کَشتی بنی ہے تِنکا بس ہو چلا صفایا تدبیر رو رہی ہے تقدیر سو رہی ہے مَلّاح تَیر نِکلے دریا میں پَیر نکلے افسَوس غیر نکلے طوفان غم بہا ہے فریاد کی صدا ہے ہے کون جو سنبھالے کَشتی تیرے حوالے یا رب تو ہی بچا لے اے ناؤ کے کھویا لگ جائے پار نِیّاَ بَنْدوں کا تُو خُدا ہے اور تُو ہی ناخُدا ہے تَیرا ہی آسرا ہے

💡 Meaning & story

نظم کا پس منظر اور مرکزی مقصد - Written by Hafeez Jalandhari 1900-1982 اس نظم کا اصل مقصد انسانی بے بسی، تقدیر کی بالادستی اور خدا کی طرف رجوع کو ایک ڈرامائی انداز میں پیش کرنا ہے۔ حفیظ جالندھری نے ایک دریا کے طوفان میں پھنسی کشتی کے ذریعے زندگی کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔ 1. منظر کشی (Visuals) نظم کا آغاز ہیبت ناک منظر سے ہوتا ہے۔ دریا چڑھا ہوا ہے، لہریں تلواروں کی طرح کاٹ رہی ہیں اور کشتی کے تختے اکھڑ رہے ہیں۔ شاعر نے لفظوں سے ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ قاری کو طوفان کا شور سنائی دینے لگتا ہے۔ 2. انسانی ردِعمل کی مختلف اقسام شاعر نے کشتی میں سوار مختلف لوگوں کے ذریعے دکھایا ہے کہ موت کے قریب پہنچ کر انسان کیسے بدل جاتا ہے: • نئی نویلی دلہن اور دولہا: جو خوشی کی امید میں تھے لیکن اب موت ان کے سامنے ہے۔ • گھر سے لڑ کر بھاگا ہوا نوجوان: جو اب اپنی سرکشی پر پشیمان ہے اور کاش کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ • ایک بیوہ ماں: جو اپنے یتیم بچے کو گلے لگائے صبر کا دامن تھامے ہوئے ہے اور مستقبل کے خواب دیکھ رہی ہے۔ • ملاح: جن پر بھروسہ تھا، وہ خود جان بچا کر نکل گئے (بے وفائی کا عنصر)۔ 3. بے بسی اور بندگی نظم کا اختتام فلسفہِ عجز پر ہوتا ہے۔ جب انسانی تدبیریں (چپو، ملاح، ہمت) ناکام ہو جاتی ہیں، تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اصل "ناخدا" (کشتی چلانے والا) تو صرف اللہ ہے۔ ________________________________________ نظم کا مفہوم (خلاصہ) اس نظم کو ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: • خوفناک طوفان: دریا بپھرا ہوا ہے، لہریں موت کا پیغام لا رہی ہیں۔ کشتی کی حالت زار ہے اور بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ • کشتی کے مسافر: کشتی میں ایک بارات ہے، جس کی خوشیاں ماتم میں بدل رہی ہیں۔ ایک گناہ گار یا باغی نوجوان ہے جو پچھتا رہا ہے، اور ایک صابر ماں ہے جو اپنے بچے کے لیے زندگی چاہتی ہے۔ یہاں شاعر دکھاتا ہے کہ موت کسی کی عمر یا خوشی کا لحاظ نہیں کرتی۔ • دعا اور التجا: جب ملاح بھی ساتھ چھوڑ گئے اور تدبیریں رو پڑیں، تو سب پکار اٹھتے ہیں کہ اے اللہ! اب تو ہی اس کشتی کو پار لگا سکتا ہے۔ تو ہی اصل ناخدا ہے۔ حاصلِ کلام: یہ نظم ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کی تند و تیز لہروں میں انسان کتنا ہی خودسر کیوں نہ ہو جائے، آخر کار اسے ایک بالاتر ہستی (خدا) کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔