Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Umeed Male version — cover art

Song lyrics

Umeed Male version

📜 Lyrics

مایوس کِیوں ہیں دیکھ کے رَستوں کی تِیرگی جُگنُو بھی آئیں گے، یہاں تارے بھی آئیں گے ہِمّت نہ ہارنا کہ یہ طوفان عارضی ہے دریا جو چڑھ گئے ہیں تو اُترے بھی آئیں گے شاخیں رہیں تو پھُول بھی پَتّے بھی آئیں گے یہ دِن اگر بُرے ہیں تو اَچَھے بھی آئیں گے یہ دِن اگر بُرے ہیں تو اَچَھے بھی آئیں گے چہروں پہ جو اداسی کی گردِ ملال ہے ہونٹوں پہ مُسکراہٹ کے چشمے بھی آئیں گے صبر و قرار سے ہی مِلے گی مُرادِ دِل مانگو دُعا کہ غیب سے رَستے بھی آئیں گے شاخیں رہیں تو پُھول بھی...پتے بھی آئیں گے... یہ دِن اگر بُرے ہیں تو اَچَھے بھی آئیں گے

💡 Meaning & story

کلام اور پیشکش Mohammad Farooq عنوان: شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے | ایک پُر امید نظم (امیدِ بہار) تفصیل: زندگی میں کبھی کبھی ایسے موڑ آتے ہیں جہاں ہر طرف اندھیرا اور مایوسی نظر آتی ہے۔ لیکن یاد رکھیے، خزاں کا موسم کتنا ہی طویل کیوں نہ ہو، وہ مستقل نہیں ہوتا۔ اگر جڑیں مضبوط ہوں اور شاخیں سلامت رہیں، تو بہار کا لوٹ آنا یقینی ہے۔ یہ نظم ان تمام لوگوں کے نام ہے جو مشکل وقت سے گزر رہے ہیں اور جنہیں ایک نئے حوصلے کی تلاش ہے۔ وائلن کی مسحور کن دھن اور ان الفاظ کے ذریعے ہم نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ "یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے"۔