Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
The Unforgettable Silence — cover art

Song lyrics

The Unforgettable Silence

📜 Lyrics

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے تم نے ہمیں بُھلا دیا ہم نہ تمہیں بُھلا سکے تم ہی نہ سُن سکے اگر قِصّۂ غم سُنے گا کون کس کی زباں کُھلے گی پھر ہم نہ اگر سُنا سکے ہوش میں آ چُکے تھے ہم جوش میں آ چُکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سَر نہ مگر اُٹھا سکے ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے تم نے ہمیں بُھلا دیا ہم نہ تمہیں بُھلا سکے رونق بزم بن گئے لَب پہ حکایتیں رہیں دِل میں شِکایتیں رہیں لَب نہ مگر ہِلا سکے شوق وصال ہے یہاں لَب پہ سوال ہے یہاں کس کی مَجال ہے یہاں ہم سے نظر مِلا سکے ایسا ہو کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے سُن کے یقین کر سکے جا کے اُنہیں سُنا سکے ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے تم نے ہمیں بُھلا دیا ہم نہ تمہیں بُھلا سکے عجز سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست اب وہ کرے عِلاج دوست جس کی سمجھ میں آ سکے اَھلِ زباں تو ہیں بہت کوئی نہیں ہے اَہل دل کون تیری طرح حفیظ درد کے گیت گا سکے

💡 Meaning & story

اس غزل کا مرکزی خیال محبت کی ناگواری، شکوہِ تغافل (بے رخی کا گلہ) اور احساسِ تنہائی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی بے وفائی اور بے رخی پر شکوہ کر رہا ہے، لیکن اس شکوے میں کوئی نفرت یا غصہ نہیں ہے، بلکہ ایک عاجزی، دلی دکھ اور اپنی قسمت پر ملال ہے۔ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ شاید ہماری ہی محبت یا شخصیت میں کوئی کمی تھی جو ہم محبوب کے دل میں جگہ نہ بنا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ زمانے کی بے حسی اور دل والوں کی کمی کا رونا بھی روتا ہے۔ ________________________________________ اشعار کا مفہوم اور تشریح ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے تم نے ہمیں بُھلا دیا ہم نہ تمہیں بُھلا سکے • مفہوم: شاعر عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شاید ہمارے اندر ہی کوئی ایسی خوبی، کشش یا بات نہیں تھی کہ تم ہمیں یاد رکھتے۔ تم نے تو ہمیں بڑی آسانی سے بھلا دیا، لیکن ہماری محبت سچی تھی، اس لیے ہم چاہ کر بھی تمہیں اپنے دل سے نہ نکال سکے۔ ________________________________________ تم ہی نہ سُن سکے اگر قِصّۂ غم سُنے گا کون کس کی زباں کُھلے گی پھر ہم نہ اگر سُنا سکے • مفہوم: اپنے محبوب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے غم کا قصہ سننے کا حقدار صرف تو تھا۔ اگر تم نے ہی میری بات نہ سنی اور بے رخی دکھائی، تو پھر اس دنیا میں میرا دکھ کون سنے گا؟ اور اگر ہم خود داری یا خوفِ رسوائی کی وجہ سے اپنا حالِ دل تجھے نہ سنا سکے، تو پھر کسی اور کی کیا مجال کہ وہ ہماری طرف سے زبان کھولے۔ ________________________________________ ہوش میں آ چُکے تھے ہم جوش میں آ چُکے تھے ہم بزم کا رنگ دیکھ کر سَر نہ مگر اُٹھا سکے • مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ محفل میں ہم پورے ہوش و حواس میں تھے اور جذبات کا طوفان (جوش) بھی اندر موجود تھا کہ آگے بڑھ کر اپنا حق مانگیں یا حالِ دل کہہ دیں۔ لیکن جب ہم نے محفل کا رنگ ڈھنگ، لوگوں کے رویے اور محبوب کی بے رخی دیکھی، تو مصلحت اور شرم کے مارے سر اٹھانے کی ہمت نہ پڑی۔ ________________________________________ رونق بزم بن گئے لَب پہ حکایتیں رہیں دِل میں شِکایتیں رہیں لَب نہ مگر ہِلا سکے • مفہوم: دنیا کو دکھانے کے لیے ہم محفل کی رونق بنے رہے، ظاہری طور پر ہنستے بولتے اور قصے کہانیاں سناتے رہے تاکہ کوئی ہمارا دکھ نہ جان سکے۔ دل کے اندر محبوب کے لیے ہزاروں شکوے اور شکایتیں موجود تھیں، لیکن محبت کا پاس رکھتے ہوئے ہمارے لبوں نے ان شکایتوں کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔ ________________________________________ شوق وصال ہے یہاں لَب پہ سوال ہے یہاں کس کی مَجال ہے یہاں ہم سے نظر مِلا سکے • مفہوم: یہاں دل میں محبوب سے ملنے کا شدید شوق بھی ہے اور لبوں پر التجا (سوال) بھی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہماری محبت کی ایک آن اور غیرتِ عشق ایسی ہے کہ محفل میں کسی کی یہ ہمت یا مجال نہیں کہ وہ ہماری آنکھوں میں جھانک کر ہمارا اندرونی کرب دیکھ سکے یا ہم سے نظریں ملا سکے۔ ________________________________________ ایسا ہو کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے سُن کے یقین کر سکے جا کے اُنہیں سُنا سکے • مفہوم: شاعر ایک سچے اور ہمدرد پیغام رساں (نامہ بر) کی تلاش میں ہے جو پہلے تو شاعر کے دل کی بات کو غور اور توجہ سے سنے، پھر اس کے پوشیدہ درد پر یقین کرے، اور پھر بالکل اسی مخلصانہ تڑپ کے ساتھ یہ پیغام محبوب تک پہنچا دے۔ ________________________________________ عجز سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست اب وہ کرے عِلاج دوست جس کی سمجھ میں آ سکے • مفہوم: ہم نے محبوب کو منانے کے لیے جتنی عاجزی (عجز) دکھائی اور جتنا جھکے، محبوب کا مزاج اور غصہ (برہمی) اتنا ہی بڑھتا چلا گیا۔ اب اس ضدی اور ناراض دوست کا علاج کسی کے بس میں نہیں، اب کوئی حکیم یا دانا ہی اس کا حل نکالے جس کی سمجھ میں یہ نفسیات آ سکے۔ ________________________________________ اَھلِ زباں تو ہیں بہت کوئی نہیں ہے اَہل دل کون تیری طرح حفیظ درد کے گیت گا سکے • مفہوم (مقطع): حفیظ صاحب فرماتے ہیں کہ دنیا میں بڑی بڑی باتیں کرنے والے، شاعر اور زبان داں (اہلِ زباں) تو بہت مل جاتے ہیں، لیکن درد کو محسوس کرنے والے سچے لوگ (اہلِ دل) نایاب ہیں۔ اے حفیظ! تیرے علاوہ کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے جو دل کے اس حقیقی درد کو اتنے خوبصورت اور سریلے گیتوں میں ڈھال سکے۔