Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
The Ultimate Destination — cover art

Song lyrics

The Ultimate Destination

📜 Lyrics

پَہُنْچے جو مَنْزِلِ مَقْصُود پہ پَکّے نِکْلے رَہ گئے وہ جو تِری راہ میں کَچّے نِکْلے دیکھ کَر مُجْھ کو عَدُو بَزْم سے پھُوٹے نِکْلے جِن کو مِیٹھا میں سَمَجْھتا رہا کَڑوے نِکْلے بِھیڑ میں اَب غَمِ دُنیا کے پھَنْسا ہُوں میں بھی میں بھی نِکْلوں گا کوئی اور تو سَرکے نِکْلے نا خُدا نے تو پھَنْسا دی تھی بَھں ور میں کَشْتی نام جَب ہَم نے خُدا کا لِیا کَیسے نِکْلے یہ مِلا مُجْھ کو مِری دَشْت نَوَرْدی کا صِلہ مُدّتوں بَعْد مِرے پاؤں سے کانٹے نِکْلے پِھر وہ جاتے ہیں بَہُت دُور کِسی اور طَرَف تیرے عاشِق وہ جو بُت خانے سے نِکْلے نِکْلے تَوبہ کَرتے رہے پِیتے بھی رہے ہاتھ کے ہاتھ بادَہ کَش ساقِیا مَیخانے کے سَرتے نِکْلے سَب سے آگے تھے جو کَل اف رے تَغَیُّر کہ وہی آج دُنیا کی ہَر اِک دوڑ میں پِیچھے نِکْلے نَقْصِ میری سوچ تھی پَرَکھ میں کہ حَقِیقَت تھی یہی جِس قَدَر سِکّے کَھ رے دَے کھے تھے کھوٹے نِکْلے

💡 Meaning & story

Composed by Mohammad Farooq written by Arif Dehlvi 1817 – 1852 عارف دہلوی کی یہ غزل انسانی تجربات، دنیا کی بے ثباتی اور روحانی پختگی کی ایک خوبصورت عکاسی ہے۔ اس میں جہاں سماجی رویوں پر چوٹ ہے، وہیں خدا پر توکل کا درس بھی ملتا ہے۔ آئیے اس غزل کی مفصل تشریح اور مشکل الفاظ کے معنی دیکھتے ہیں: ________________________________________ 1. پہلا شعر پہنچے جو منزلِ مقصود پہ پکے نکلے رہ گئے وہ جو تری راہ میں کچے نکلے • مشکل الفاظ: o منزلِ مقصود: وہ منزل جسے پانے کی خواہش ہو۔ o پکے نکلے: مضبوط ارادے والے، ثابت قدم۔ o کچے نکلے: کمزور ارادے والے، ناپختہ۔ • تشریح: شاعر کہتا ہے کہ عشق ہو یا زندگی کا کوئی بھی مقصد، کامیابی صرف انہیں کو ملتی ہے جن کے ارادے مضبوط ہوتے ہیں۔ جو لوگ راستے کی سختیوں سے گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے، وہ دراصل اپنے عزم میں کچے تھے۔ منزل صرف ثابت قدم لوگوں کا استقبال کرتی ہے۔ 2. دوسرا شعر دیکھ کر مجھ کو عدو بزم سے پھوٹے نکلے جن کو میٹھا میں سمجھتا رہا کڑوے نکلے • مشکل الفاظ: o عدو: دشمن۔ o بزم: محفل۔ o پھوٹے نکلے: غصے میں نکل جانا یا اچانک چلے جانا۔ • تشریح: اس شعر میں انسانی منافقت کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جن لوگوں کو میں اپنا ہمدرد اور شیریں زبان (میٹھا) سمجھتا تھا، جب کڑا وقت آیا یا میں محفل میں پہنچا، تو ان کے چہروں سے نقاب اتر گئے۔ وہ میرے دشمن ثابت ہوئے اور مجھے دیکھ کر ان کے دل کا زہر (کڑواہٹ) سامنے آگیا۔ 3. تیسرا شعر بھیڑ میں اب غمِ دنیا کے پھنسا ہوں میں بھی میں بھی نکلوں گا کوئی اور تو سرکے نکلے • مشکل الفاظ: o غمِ دنیا: دنیاوی پریشانیاں، روزگار اور معاش کے فکر۔ o سرکے نکلے: جگہ چھوڑے، آگے بڑھے۔ • تشریح: زندگی کی بھاگ دوڑ اور دنیاوی مسائل کی بھیڑ کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں بھی اس ہجوم میں پھنس گیا ہوں، لیکن یہاں سے نکلنے کا راستہ تبھی ملے گا جب میرے آگے والا شخص تھوڑا آگے بڑھے گا یا جگہ دے گا۔ یہ زندگی کے جمود اور قطار میں لگی انسانیت کی تصویر کشی ہے۔ 4. چوتھا شعر نا خدا نے تو پھنسا دی تھی بھنور میں کشتی نام جب ہم نے خدا کا لیا کیسے نکلے • مشکل الفاظ: o نا خدا: کشتی چلانے والا، ملاح (یہاں مجازی معنوں میں دنیاوی سہارے)۔ o بھنور: پانی کا چکر جہاں کشتی ڈوبنے کا خطرہ ہو۔ • تشریح: یہ توکل (اللہ پر بھروسہ) کا بہت عمدہ شعر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جس ملاح (دنیاوی مددگار) پر مجھے بھروسہ تھا، اس نے تو میری زندگی کی کشتی مشکل میں ڈال دی تھی، لیکن جیسے ہی میں نے دنیاوی سہاروں کو چھوڑ کر اللہ کو پکارا، میری کشتی ڈوبتے ڈوبتے بچ گئی اور میں بخیریت نکل آیا۔ 5. پانچواں شعر یہ ملا مجھ کو مری دشت نوردی کا صلہ مدتوں بعد مرے پاؤں سے کانٹے نکلے • مشکل الفاظ: o دشت نوردی: صحرا میں بھٹکنا، آوارہ گردی (عشق کی تلاش میں)۔ o صلہ: بدلہ، انعام۔ • تشریح: شاعر کہتا ہے کہ میں نے عشق و جنون میں جو صحراؤں کی خاک چھانی، اس کی تکلیف کا احساس مجھے اب ہو رہا ہے۔ مدتوں بعد جب میں ٹھہرا، تو احساس ہوا کہ میرے پاؤں میں کتنے کانٹے پیوست تھے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان جب سفر میں ہوتا ہے تو اسے زخموں کا احساس نہیں ہوتا، سکون ملنے پر درد جاگتا ہے۔ 6. چھٹا شعر پھر وہ جاتے ہیں بہت دور کسی اور طرف تیرے عاشق وہ جو بت خانے سے نکلے نکلے • مشکل الفاظ: o بت خانہ: مندر، مجازاً دنیاوی معشوق کی گلی۔ • تشریح: اس شعر میں عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی کی طرف اشارہ ہے۔ جو لوگ عشق کی ابتدائی منزلوں (بت خانے) سے گزر کر باہر آ جاتے ہیں، پھر وہ دنیاوی کشش میں نہیں پھنستے، بلکہ وہ کسی ایسی بلند منزل (خدا کی طرف) نکل جاتے ہیں جہاں عام انسان کی رسائی نہیں ہوتی۔ 7. ساتواں شعر توبہ کرتے رہے پیتے بھی رہے ہاتھ کے ہاتھ بادہ کش ساقیا میخانے کے سرتے نکلے • مشکل الفاظ: o بادہ کش: شراب پینے والے۔ o ہاتھ کے ہاتھ: ساتھ کے ساتھ، فوراً۔ o سرتے: (یہاں مراد ہے) ماہر، پکے، یا حد سے بڑھے ہوئے رند۔ • تشریح: شاعر انسانی فطرت کی کمزوری بیان کر رہا ہے کہ رند (شرابی) ایسے ہیں کہ گناہ بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ توبہ بھی۔ وہ میخانے کے ایسے عادی ہو چکے ہیں کہ ندامت اور گناہ کا عمل ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ 8. آٹھواں شعر سب سے آگے تھے جو کل اف رے تغیر کہ وہی آج دنیا کی ہر اک دوڑ میں پیچھے نکلے • مشکل الفاظ: o تغیر: تبدیلی، زمانے کا الٹ پلٹ۔ • تشریح: یہ شعر وقت کی بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے۔ جو لوگ کل تک طاقت، شہرت یا کامیابی کے غرور میں سب سے آگے تھے، وقت نے ایسی پلٹی کھائی کہ آج وہ سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ زمانے کی تبدیلی کسی کو ایک حال پر نہیں چھوڑتی۔ 9. مقطع (آخری شعر) نقص عارفؔ تھا پرکھ میں کہ حقیقت تھی یہی جس قدر سکے کھرے دیکھے تھے کھوٹے نکلے • مشکل الفاظ: o نقص: عیب، خامی۔ o پرکھ: پہچاننے کی صلاحیت۔ o کھرے سکے: اصلی، سچے لوگ۔ o کھوٹے: نقلی، بے وفا۔ • تشریح: عارف دہلوی اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ یہ میری پہچاننے کی صلاحیت کی غلطی تھی یا پھر دنیا ہی ایسی ہے؟ میں نے جن لوگوں کو سچا، مخلص اور "کھرا سکہ" سمجھا تھا، جب آزمائش کا وقت آیا تو وہ سب بے وفا اور "کھوٹے" نکلے۔ ________________________________________ مختصر خلاصہ: یہ غزل دنیا کے بدلتے ہوئے رنگوں، اپنوں کی بے وفائی، ارادوں کی پختگی اور آخر کار اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کا ایک مکمل درس ہے