Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
The Power of Intent — cover art

Song lyrics

The Power of Intent

📜 Lyrics

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چِیز مُقابل آ جائے مَنزِل کے لیے دو گَام چلوں اور سامنے مَنزِل آ جائے اے دِل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں اُس وقت مجھے چُونکا دینا جب رَنگ پہ محفل آ جائے اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے اُس وقت مُجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چِیز مُقابل آ جائے مَنزِل کے لیے دو گَام چلوں اور سامنے مَنزِل آ جائے ہاں یاد مُجھے تم کر لینا آواز مُجھے تم دے لینا اُس راہ مُحبت میں کوئی درپیش جو مُشکل آ جائے اَب کیوں ڈھونڈوں وہ چَشْمِ کرم ہونے دے سِتم بالائے سِتم میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مُشکل پس مُشکل آ جائے اِس جذبۂ دل کے بارے میں اِک مَشْوَرَہ تم سے لیتا ہوں اُس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ میرا دل آ جائے اے برق تجَلّی کُوندھ ذرا کیا مُجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے میں طُور نہیں جو جَل جاؤں جو چاہے مُقابل آ جائے اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چِیز مُقابل آ جائے مَنزِل کے لیے دو گَام چلوں اور سامنے مَنزِل آ جائے کَشتی کو خُدا پر چھوڑ بھی دے کَشتی کا خُدا خود حافظ ہے مُشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

💡 Meaning & story

بہزاد لکھنوی کی یہ لازوال غزل "اے جذبۂ دل گر میں چاہوں" اردو ادب اور موسیقی کی دنیا کا ایک شاہکار ہے۔ اسے خاص طور پر بہزاد لکھنوی نے تحریر کیا اور نیرہ نور کی آواز نے اسے امر کر دیا۔ ________________________________________ غزل کا مرکزی خیال یہ غزل انسانی ارادے، عشق کی طاقت، اور منزل سے زیادہ سفر کی خوبصورتی کے بارے میں ہے۔ شاعر اپنے جذبے کی وہ طاقت بیان کر رہا ہے جہاں ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ ________________________________________ اشعار کی تشریح بند نمبر 1: اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے مَنزِل کے لیے دو گَام چلوں اور سامنے مَنزِل آ جائے وضاحت: شاعر کہتا ہے کہ اگر میرا "جذبۂ دل" (سچی تڑپ) صادق ہو، تو کائنات کی ہر چیز میرے ارادے کے سامنے جھک سکتی ہے۔ میری ہمت کا یہ عالم ہے کہ مجھے منزل پانے کے لیے لمبا سفر کرنے کی ضرورت نہیں، میں صرف دو قدم اٹھاؤں تو منزل خود چل کر میرے سامنے آ جائے۔ یہ خود اعتمادی اور عشق کی انتہا ہے۔ ________________________________________ بند نمبر 2: اے دِل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں اُس وقت مجھے چُونکا دینا جب رَنگ پہ محفل آ جائے وضاحت: "دل کی لگی" سے مراد وہ عشق کی آگ ہے جو اندر لگی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں محبوب کی محفل میں جا تو رہا ہوں لیکن شاید میرا دھیان کہیں اور ہو، اے میرے عشق! مجھے اس لمحے خبردار کر دینا جب محفل اپنے عروج (رنگ) پر ہو، تاکہ میں اس خاص لمحے کا پوری طرح ادراک کر سکوں۔ ________________________________________ بند نمبر 3: اے رہبرِ کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے اُس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے وضاحت: یہ اس غزل کا سب سے خوبصورت اور انوکھا شعر ہے۔ شاعر اپنے رہنما (رہبر) سے کہتا ہے کہ میں سفر کے لیے تیار ہوں، لیکن میری ایک شرط ہے: جیسے ہی میں منزل کے قریب پہنچوں، مجھے راستے سے بھٹکا دینا۔ کیوں؟ کیونکہ عاشق کے لیے منزل پا لینے کے بعد تڑپ ختم ہو جاتی ہے، وہ سفر کی لذت اور جستجو کو کھونا نہیں چاہتا۔ ________________________________________ بند نمبر 4: ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا اُس راہِ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے وضاحت: شاعر اپنے محبوب یا ساتھی سے کہتا ہے کہ عشق کے اس کٹھن راستے میں اگر تمہیں کبھی بھی کوئی رکاوٹ یا پریشانی پیش آئے، تو بلا جھجھک مجھے پکار لینا؛ میں تمہاری مدد کے لیے حاضر رہوں گا۔ ________________________________________ بند نمبر 5: اَب کیوں ڈھونڈوں وہ چشمِ کرم ہونے دے ستم بالائے ستم میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مُشکل پسِ مُشکل آ جائے وضاحت: یہاں شاعر کی ہمت اور بلند حوصلہ نظر آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اب مجھے محبوب کی ہمدردی یا نرم نظری (چشمِ کرم) کی ضرورت نہیں۔ مجھ پر جتنے ستم ہوتے ہیں ہونے دو، بلکہ میں تو چاہتا ہوں کہ مشکلات کا ایک طوفان آ جائے، کیونکہ سختیاں ہی انسان کے جذبے کو کندن بناتی ہیں۔ ________________________________________ بند نمبر 6: اِس جذبۂ دل کے بارے میں اِک مَشْوَرَہ تم سے لیتا ہوں اُس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ میرا دل آ جائے وضاحت: شاعر ایک معصومانہ سوال پوچھتا ہے کہ جب میرا دل تم پر آ جائے (یعنی مجھے تم سے محبت ہو جائے)، تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟ یہ ایک طرح سے محبت کا اقرار بھی ہے اور محبوب کی رائے جاننے کی کوشش بھی۔ ________________________________________ بند نمبر 7: اے برقِ تجَلّی کُوندھ ذرا کیا مُجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے میں طُور نہیں جو جَل جاؤں جو چاہے مقابل آ جائے وضاحت: یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور کوہِ طور کا حوالہ (تلمیح) استعمال ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اے حسن کی بجلی! تو مجھ پر بے خوف ہو کر گرے، میں کوہِ طور کی طرح جل کر راکھ نہیں ہوں گا بلکہ میں اس تجلی کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔ میں کمزور نہیں ہوں، جو بھی سامنے آئے گا میں اس کا مقابلہ کروں گا۔ ________________________________________ مقطع (آخری بند): کَشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کَشتی کا خدا خود حافظ ہے مُشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے وضاحت: آخر میں شاعر توکل اور امید کا درس دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اپنی زندگی کی کشتی اللہ کے حوالے کر دو، وہی اس کا نگہبان ہے۔ اگر اللہ کا کرم ہو تو یہ ممکن ہے کہ سمندر کی انہی موجوں کے درمیان تمہیں خود ساحل مل جائے، یعنی جہاں تم ڈوبنے کا ڈر محسوس کر رہے ہو وہیں سے نجات کا راستہ نکل آئے۔ ________________________________________ خلاصہ: یہ غزل عزم، ہمت، عشق کی بے نیازی اور اللہ پر بھروسے کا ایک مکمل نصاب ہے