Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Phir Kabhi Nahi — cover art

Song lyrics

Phir Kabhi Nahi

📜 Lyrics

اک اُداس آدھی رات تھی۔۔۔ میں تھکا ہوا اور چُور تھا پُرانی کِتابوں کے سحر میں۔۔۔ بستیوں سے دُور تھا اُونگھ میں تھا کہ اَچَانَکْ ایک شور سا ہوا دروازے پر کسی نے دَسْتَکْ دی کوئی آہٹ کا ظہور تھا لگا کہ جیسے کوئی مہماں ہے۔۔۔ جو اب کے آن ٹپکا ہے محض اِک دَسْتَکْ ہے۔۔۔ جو میرے در پہ دَسْتَکْ دیتا ہے آہ! مجھے یاد ہے، وہ سرد دسمبر کی رات تھی گِرتی ہوئی راکھ میں، بس ایک عجیب سی بات تھی تڑپ رہا تھا میں، کہ کِتابوں سے کوئی مرہم ملے اُس "لینور" کی یاد سے۔۔۔ جو اب فَرِشْتَوں کے ساتھ تھی وہ نام جو اب یہاں کی دُنیا میں، بس اِک قِصّہ ہے جس کا اب اِس زمین پر، کوئی نہ باقی حِّصہ ہے جب میں نے کِھڑکی کھولی، تو اِک کَوّاَ اندر آگیا قدیم دَور کا باوقّار، اِک پِرندہ چھا گیا بغیر کسی سلام کے، وہ سِیدھا جا کے بیٹھ گیا عَقل کی دےوِی کے مُجَسْمَے پر، وہ ڈیرا جَمَا گیا میں نے پوچھا "تیرا نام کیا ہے؟ اے اندھیروں کے راہی" کہنے لگا وہ کَوّاَ۔۔۔ بس اِک لفظ کی گواہی "پھر کبھی نہیں۔۔۔ پھر کبھی نہیں۔۔۔" میں نے پوچھا "کیا کبھی اِس دُکھ سے رہائی پاؤں گا؟" "کیا بَہِشْت میں جا کر، میں لینور کو دیکھ پاؤں گا؟" دِل میرا تڑپتا تھا، اِک تَسَلّی کے جواب کو کیا کبھی اِس جیتے جی، میں پھر سے مسکراؤں گا؟ اُس کالے پِرندے نے، میرے زخموں پر نمک چِھڑکا اور پھر وہی اِک جُمْلَہ۔۔۔ میری روح پہ آ کر پٹخا پھر کبھی نہیں۔۔۔ پھر کبھی نہیں۔۔۔

💡 Meaning & story

Reimagine by Mohammad Farooq ایڈگر ایلن پو کی یہ شہرہ آفاق نظم "The Raven" (دی ریوین) اردو ادب کے ذوق کے مطابق بے حد گہری اور علامتی ہے۔ نیچے اس کا مکمل تعارف، خلاصہ اور اردو ترجمہ پیش ہے: نظم کا پس منظر یہ نظم ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی محبوبہ "لینور" (Lenore) کی موت کے غم میں نڈھال ہے۔ وہ آدھی رات کو تنہائی میں اپنی پرانی کتابوں میں دل بہلانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ اچانک ایک کالا کوا (Raven) اس کے کمرے میں داخل ہوتا ہے اور اس کی ہر بات کے جواب میں صرف ایک ہی لفظ کہتا ہے: "Nevermore" (پھر کبھی نہیں)۔ "The Raven" - اردو ترجمہ (منتخب حصے) پہلا بند: "Once upon a midnight dreary, while I pondered, weak and weary..." اردو ترجمہ: اک اداس آدھی رات کا ذکر ہے، جب میں تھکا ہارا سوچ رہا تھا، پرانی اور عجیب و غریب بھولی بسری کتابوں کے ڈھیر پر— جب میری آنکھ لگ رہی تھی، اچانک ایک دستک سنائی دی، جیسے کوئی دھیرے سے میرے کمرے کے دروازے کو کھٹکھٹا رہا ہو۔ دوسرا بند: جب وہ کوا اندر آتا ہے اور شاعر اس سے سوال کرتا ہے: اردو ترجمہ: میں نے کھڑکی کھولی تو پر پھڑپھڑاتا ہوا ایک کوا اندر آیا، وہ پرانے وقتوں کا ایک شاہانہ کوا معلوم ہوتا تھا، بغیر کسی سلام یا جھکاؤ کے، وہ سیدھا جا کر بیٹھا، میرے دروازے کے اوپر لگی ہوئی عقل کی دیوی (Pallas) کے مجسمے پر۔ آخری سوال: شاعر جب اپنی محبوبہ سے دوبارہ ملنے کی امید میں سوال کرتا ہے: اردو ترجمہ: میں نے پوچھا: "کیا اس دکھی روح کو جنت میں کبھی سکون ملے گا؟ کیا میں وہاں اپنی مقدس محبوبہ 'لینور' کو دوبارہ گلے لگا سکوں گا؟" کوے نے جواب دیا: "پھر کبھی نہیں۔" (Nevermore) ________________________________________ نظم کے اہم پہلو: 1. علامت (Symbolism): کوا یہاں موت اور کبھی نہ ختم ہونے والے دکھ کی علامت ہے۔ وہ ایک ایسی سچائی ہے جس سے شاعر بھاگنا چاہتا ہے مگر بھاگ نہیں پاتا۔ 2. نفسیاتی کیفیت: یہ نظم انسان کے اس وہم اور پاگل پن کو دکھاتی ہے جو بہت زیادہ دکھ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ 3. ماحول: نظم میں اندھیرا، سردی اور سناٹا ایک خاص قسم کا خوف (Gothic Horror) پیدا کرتے ہیں۔ خلاصہ: یہ نظم ہمیں بتاتی ہے کہ کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے وجود کا حصہ بن جاتے ہیں۔ وہ کوا آخر میں کہیں نہیں جاتا، بلکہ وہیں شاعر کے کمرے میں بیٹھ جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ شاعر اب ہمیشہ کے لیے اس دکھ کے سائے میں رہے گا۔ مشکل الفاظ کے معنی: • Dreary: اجاڑ / اداس • Lore: قدیم علم یا قصے • Stately: شاہانہ / باوقار • Bust of Pallas: یونانی دیوی کا مجسمہ (جو عقل کی علامت ہے)