💡 Meaning & story
Composed by Mohammad Farooq
written by Josh Malihabadi 1898 – 1982
بند وار تفصیلی تشریح
شعر 1:
حیرت ہے آہِ صُبح کو ساری فضا سُنے
لیکن زَمیں پہ بُت نہ فَلک پر خُدا سُنے
• الفاظ کے معنی: آہِ صبح (صبح کی ٹھنڈی ہوا یا فریاد)، فضا (ماحول)، بت (بے حس انسان یا حکمران)، فلک (آسمان)۔
• تشریح: شاعر حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ میری فریاد اتنی پُر اثر ہے کہ صبح کی ہوا اور پوری فضا اس سے لرز رہی ہے، لیکن جنہیں سننا چاہیے یعنی زمین کے مقتدر لوگ (بت) اور آسمان کا مالک، وہاں سے کوئی جواب نہیں آ رہا۔ یہ مکمل بے حسی کی نشاندہی ہے۔
شعر 2:
فرِیادِ عِندَلِیب سے کانپے تمام باغ
لیکن نہ گُل نہ غُنچَہ نہ بادِ صَبا سُنے
• الفاظ کے معنی: عندلیب (بلبل)، غنچہ (کلی)، بادِ صبا (صبح کی ہوا)۔
• تشریح: بلبل کی فریاد سے پورا باغ لرز رہا ہے، مگر پھول، کلی اور ہوا، جو باغ کے اصل باسی ہیں، وہ سب اپنے حال میں مست ہیں۔ کوئی بھی اس کے دکھ کا مداوا کرنے کو تیار نہیں۔
شعر 3:
خُود اپنی ہی صَداؤں سے گُونجے ہوئے ہیں کان
کوئی کسی کی بات سُنے بھی تو کیا سُنے
• الفاظ کے معنی: صداؤں (آوازوں)۔
• تشریح: یہ شعر آج کے خود غرض دور کی عکاسی کرتا ہے۔ ہر انسان اپنی ہی انا، اپنی ہی آوازوں اور اپنے ہی مسائل میں اتنا الجھا ہوا ہے کہ اسے کسی دوسرے کا دکھ سنائی ہی نہیں دیتا۔
شعر 4:
یہ بھی عَجب طِلِسم ہے اے شورِشِ حَیات
دَرد آشنا کی بات نہ دَرد آشنا سُنے
• الفاظ کے معنی: طلسم (جادو)، شورشِ حیات (زندگی کی افراتفری)، درد آشنا (درد کو سمجھنے والا)۔
• تشریح: زندگی کی اس بھاگ دوڑ میں یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ وہ لوگ جو خود درد مند ہیں، وہ بھی دوسرے درد مند کی آواز نہیں سن پا رہے۔ گویا سب پر ایک جادوئی خاموشی طاری ہے۔
شعر 5:
شاہوں کے دِل تو سَنگ ہیں شاہوں کا ذِکر کیا
یہ بھی نہیں کہ حالِ گَدا کا گَدا سُنے
• الفاظ کے معنی: سنگ (پتھر)، گدا (فقیر/غریب)۔
• تشریح: بادشاہوں اور امیروں کے دل تو پتھر کے ہوتے ہیں، ان سے گلے کا فائدہ نہیں۔ لیکن دکھ تو اس بات کا ہے کہ اب ایک غریب بھی دوسرے غریب کا حال سننے کو تیار نہیں۔ انسانی ہمدردی ختم ہو چکی ہے۔
شعر 6:
عالَم ہے یہ کہ گوشِ بَشَر تک ہے بے نیاز
ہونا تھا یہ کہ بَندہ کہے اور خُدا سُنے
• الفاظ کے معنی: گوشِ بشر (انسان کا کان)، بے نیاز (لاپرواہ)۔
• تشریح: حالات اتنے سنگین ہیں کہ انسانوں نے اپنے کان بند کر لیے ہیں۔ قانونِ قدرت تو یہ تھا کہ بندہ اپنی پکار رب تک پہنچائے اور رب اسے سنے، مگر یہاں تو درمیانی رابطے ہی ٹوٹ چکے ہیں۔
شعر 7:
سُنتے بھی ہیں جو لوگ تو یوں داستانِ غَم
جیسے یَزِید سانِحَہٴ کَربَلا سُنے
• الفاظ کے معنی: داستانِ غم (دکھ بھری کہانی)، سانحہٴ کربلا (کربلا کا عظیم المیہ)۔
• تشریح: اگر کوئی اتفاق سے سن بھی لے، تو اس کے دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ ایسے بے حسی سے سنتا ہے جیسے (خاکم بدہن) یزید نے کربلا کے مظالم سنے تھے، یعنی ہمدردی کے بجائے ظلم یا لاپرواہی کا رویہ۔
شعر 8:
ہاں اے خُدائے عَرشِ بَرِیں و بُتانِ فرش
تُم میں سے ہو کوئی تو میرا ماجَرا سُنے
• الفاظ کے معنی: عرشِ بریں (بلند آسمان)، بتانِ فرش (زمین کے طاقتور لوگ/محبوب)، ماجرا (قصہ)۔
• تشریح: شاعر مایوسی کے عالم میں آسمانی اور زمینی طاقتوں کو پکار رہا ہے کہ کیا تم میں سے کوئی ایک بھی ایسا ہے جو میرے دل کی بپتا سن سکے؟
شعر 9:
پَشمِینہ پوش راہ نَشِینوں کی اِلتَجا
شاید کبھی وہ شاہِدِ اَطلَس قَبا سُنے
• الفاظ کے معنی: پشمینہ پوش (موٹا کمبل اوڑھنے والے/غریب)، راہ نشین (راستے میں بیٹھنے والے)، شاہدِ اطلس قبا (ریشمی لباس والا محبوب یا امیر)۔
• تشریح: ان فقیروں اور غریبوں کی التجا شاید کبھی ان تک پہنچ جائے جو ریشمی لباس پہن کر محلوں میں رہتے ہیں اور جنہیں غریبوں کے حالات کا علم نہیں۔
شعر 10:
ہم نادِر و یَزِید نہ حَجّاج ہیں نہ شِمَر
اللہ اور جوشؔ ہماری دُعا سُنے
• الفاظ کے معنی: نادر، یزید، حجاج، شمر (تاریخ کے ظالم کردار)۔
• تشریح: مقطع میں جوش کہتے ہیں کہ ہم کوئی ظالم یا جابر لوگ نہیں ہیں، ہم تو مظلوم اور دعا کرنے والے ہیں۔ اب یا تو اللہ ہماری سنے یا پھر خود جوش (شاعر) اپنی آواز سن کر جی لے۔
Lyrics & Meaning