Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Every thing for sale — cover art

Song lyrics

Every thing for sale

📜 Lyrics

تیری زَمِین، تیرا آسماں بَرائے فَرَوخت مُجھے تو لگتا ہے سارا جہاں بَرائے فَرَوخت بِلک رہے ہیں میرے سَامنے میرے بَچّے میں لِکھ رہا ہوں مَکان پر 'مَکان بَرائے فَرَوخت' عجیب دَور ہے، ہر شخص ہے ہَوَسْ کا شِکار یہاں خُلوص، وہاں دَاستان بَرائے فَرَوخت خرید دار کی ہِمّت پہ مُنحَصر ہے سبھی لبوں کی چُپ ہے، کبھی یہ زَبان بَرائے فَرَوخت ضعِیف کُوزہ گَر! زِندگی بَخیر، یہ کیوں لِکّھا ہوا ہے، نیا خَاک دان بَرائے فَرَوخت اُسے نصِیب کا لکھا ہی جانیے وَرنہ کہاں وہ یُوسُفِ کُنْعَان، کہاں بَرائے فَرَوخت سرِ بازار کھڑا ہے بُقراطِ وَقت آج حَقِیقت و دانِش و اِمتَحان بَرائے فَرَوخت میں تَھک گیا ہوں بَغاوت کی جَنگ لڑتے ہوئے سو اَب یہ تِیر، یہ تِیغ و سِنان بَرائے فَرَوخت عجیب دَور ہے، ہر شخص ہے ہَوَسْ کا شِکار یہاں خُلوص، وہاں دَاستان بَرائے فَرَوخت خرید دار کی ہِمّت پہ مُنحَصر ہے سبھی لبوں کی چُپ ہے، کبھی یہ زَبان بَرائے فَرَوخت فَلَسْطِین والے اُدھر مُنتَظِر ہیں اور اِدھر میری سِپاہ، میرا کارواں بَرائے فَرَوخت بَھرا ہے خُون سے ہَابِیل کا لَہو جس میں وہ مِٹّی، وہ زَمِین، وہ نِشان بَرائے فَرَوخت جو کل تَلک تھے عَدالت میں مُنصِفوں کی طرح وہ آج خُدْ ہیں سَرِ اِمتِحان بَرائے فَرَوخت کئی گَھروں کے چِراغوں نے خُدْ یہ چِیْخ کے کہا بُجھی جو آگ، تو ہے یہ دُھواں بَرائے فَرَوخت نہ پوچھ مُجھ سے میری آرزو کی قِیمت اب کہ ہو چُکا ہے میرا آشیان بَرائے فَرَوخت وہی جو بیچتے تھے کل تَلک وَفا کے خُواب کھڑے ہیں آج وہی مِہرَباں بَرائے فَرَوخت

💡 Meaning & story

Reimagine & composed by Mohammad Farooq مادیت پرستی اور بے حسی (مرکزی خیال) نظم کا آغاز ہی اس مایوسی سے ہوتا ہے کہ اب دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں بچی جو بکاؤ نہ ہو۔ جب انسان اپنے بچوں کو بلکتا دیکھ کر اپنا چھت (مکان) بیچنے پر مجبور ہو جائے، تو یہ معاشرے کی معاشی بدحالی اور بے حسی کی انتہا ہے۔ خلوص اور داستان کا سودا: شاعر کہتا ہے کہ جہاں جذبوں کی قدر ہونی چاہیے تھی، وہاں اب صرف ہوس اور لالچ کا راج ہے۔ لوگوں کے دکھ اور ان کی داستانیں بھی اب تجارت کا حصہ بن چکی ہیں۔ علم اور سچائی کی نیلامی (بقراطِ وقت) نظم کا ایک گہرا پہلو دانشوروں اور منصفوں پر تنقید ہے۔ بقراطِ وقت: جب وقت کا سب سے بڑا عالم یا فلسفی (بقراط) سرِ بازار بکنے کے لیے تیار کھڑا ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ حق اور سچ کی آواز خرید لی گئی ہے۔ عدالت اور انصاف: وہ لوگ جو کل تک انصاف کی کرسی پر تھے (منصف)، آج خود اپنی قیمت لگوا رہے ہیں۔ یہ عدالتی نظام کے زوال کی طرف اشارہ ہے۔ بے بسی اور تھکن (بغاوت کا انجام) شاعر کہتا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب انسان حالات سے لڑتے لڑتے تھک جاتا ہے۔ "تیر، تیغ و سنان" (ہتھیار) بیچنے کا مطلب یہ ہے کہ اب لڑنے کی سکت نہیں رہی اور باغی نے ہتھیار ڈال کر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ ملی اور عالمی المیہ (فلسطین اور ہابیل کا خون) نظم صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی دکھ کی بات بھی کرتی ہے: فلسطین: شاعر امتِ مسلمہ کی بے حسی پر نوحہ کناں ہے کہ ایک طرف مظلوم مدد کے منتظر ہیں اور دوسری طرف محافظ (سپاہ اور کارواں) اپنے مفادات کی خاطر خاموش یا بک چکے ہیں۔ تاریخی حوالہ: ہابیل کے خون اور مٹی کا ذکر کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ جس زمین کی بنیاد قربانیوں پر تھی، آج اسے بھی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ یوسفِ کنعان اور تقدیر کا جبر حضرت یوسف علیہ السلام کا تذکرہ کر کے شاعر نے یہ نکتہ واضح کیا ہے کہ کبھی کبھی حالات اتنے بے رحم ہوتے ہیں کہ "یوسف" جیسی قیمتی ہستی کو بھی بازارِ مصر میں غلام بنا کر بیچ دیا جاتا ہے۔ یہ انسانی قدروں کی پامالی کی تاریخی مثال ہے۔ ________________________________________ خلاصہ اور مقصد (Message) اس نظم کا مقصد لوگوں کو جھنجھوڑنا ہے کہ: ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں "ضمیر کی بولی" لگتی ہے۔ انسان اپنی ضرورتوں (بچوں کی بھوک) اور اپنی ہوس کے درمیان الجھ کر اپنی شناخت کھو چکا ہے۔ وفا، خلوص، علم اور انصاف جیسی مقدس چیزیں اب صرف "اشیاء" بن کر رہ گئی ہیں۔ نتیجہ: یہ نظم معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے، جو ہمیں دکھاتی ہے کہ اگر ہم نے مادیت پرستی کی اس دوڑ کو نہ روکا، تو انسانیت کا "آشیانہ" مکمل طور پر نیلام ہو جائے گا۔