Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Still Young — cover art

Song lyrics

Still Young

📜 Lyrics

دِل اَبھی تَک جَوان ہے پیارے کِس مُصِیبَت میں جان ہے پیارے تُو مِیرے حال کا خیال نہ کر اِس میں بھی ایک شان ہے پیارے تَلخ کَر دی ہے زِندگی جِس نے کِتنی مِیٹھی زُبان ہے پیارے وَقت کَم ہے نہ چھیڑ ہِجر کی بات یہ بَڑی داستاں ہے پیارے جانے کیا کہہ دِیا تھا روزِ اَزل آج تَک اِمتحاں ہے پیارے ہَم ہیں بَندے مَگر تیرے بَندے یہ ہَماری بھی شان ہے پیارے کَب کِیّا مَیں نے عِشق کا دعویٰ تیرا اَپنا گُمان ہے پیارے مَیں تُجھے بے وَفا نہیں کہتا دُشمنوں کا بَیان ہے پیارے ساری دُنیا کو ہے غَلَط فہمی مُجھ پہ تُو مہرَباں ہے پیارے تیرے کُوچے میں ہے سُکوں وَرنہ ہَر زمیں آسماں ہے پیارے خَیر فریاد بے اَثر ہی سہی زِندگی کا نشاں ہے پیارے شَرم ہے اِحتراز ہے کیا ہے پَردہ سا درمیاں ہے پیارے عَرضِ مَطلب سَمجھ کے ہو نہ خَفا یہ تو اِک داستاں ہے پیارے جَنگ چِھڑ جائے ہَم اَگر کہہ دیں یہ ہَماری زَباں ہے پیارے

💡 Meaning & story

تعارف اور پس منظر حفیظ جالندھری اردو ادب کا ایک معتبر نام ہیں، جنہیں 'شاعرِ اسلام' اور 'خالقِ ترانۂ پاکستان' کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کی یہ نظم ان کے مخصوص رومانوی اور شوخ رنگ کی عکاسی کرتی ہے۔ اس نظم میں ایک طرف تو عشق و محبت کی شوخی ہے اور دوسری طرف انسانی وقار اور انا (Self-respect) کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ ________________________________________ نظم کی مکمل تشریح شعر 1 دل ابھی تک جوان ہے پیارے کس مصیبت میں جان ہے پیارے تُو مِیرے حال کا خیال نہ کر اس میں بھی ایک شان ہے پیارے تشریح: شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ عمر گزر گئی لیکن دل کی تمنائیں اور جذبے اب بھی جوان ہیں۔ مگر یہ جوانی ایک مصیبت بن گئی ہے کیونکہ عمر کے اس حصے میں عشق نبھانا مشکل کام ہے۔ اگلے مصرعے میں وہ اپنی خودداری ظاہر کرتے ہوئے محبوب سے کہتا ہے کہ میری خستہ حالی پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ محبت میں ملنے والا دکھ بھی میرے لیے ایک اعزاز اور شان کی بات ہے۔ شعر 2 تلخ کر دی ہے زندگی جس نے کتنی میٹھی زبان ہے پیارے وقت کم ہے نہ چھیڑ ہجر کی بات یہ بڑی داستاں ہے پیارے تشریح: یہاں شاعر محبوب کے تضاد کو بیان کر رہا ہے کہ جس کی باتوں میں شہد جیسی مٹھاس ہے، اسی کے رویوں نے میری زندگی تلخ (کڑوی) کر دی ہے۔ دوسرے شعر میں وہ کہتا ہے کہ جدائی کا قصہ اتنا طویل ہے کہ اسے سنانے کے لیے وقت بہت کم ہے، اس لیے اس دکھ بھری داستان کو رہنے ہی دو۔ شعر 3 جانے کیا کہہ دیا تھا روزِ ازل آج تک امتحاں ہے پیارے ہم ہیں بندے مگر تیرے بندے یہ ہماری بھی شان ہے پیارے تشریح: 'روزِ ازل' سے مراد تخلیقِ کائنات کا پہلا دن ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ نہ جانے اس دن ہم نے عشق کا کیا وعدہ کر لیا تھا کہ اس کی آزمائش آج تک ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔ مزید کہتا ہے کہ ہم اللہ کے بندے تو ہیں ہی، لیکن دنیا میں تیری نسبت سے پہچانے جاتے ہیں اور تیرے عشق کا اسیر ہونا بھی ہمارے لیے ایک فخر کی بات ہے۔ شعر 4 کب کیا میں نے عشق کا دعویٰ تیرا اپنا گمان ہے پیارے میں تجھے بے وفا نہیں کہتا دشمنوں کا بیان ہے پیارے تشریح: اس شعر میں حفیظ جالندھری نے کمال کی شوخی دکھائی ہے۔ وہ محبوب سے کہتے ہیں کہ میں نے تو کبھی نہیں کہا کہ میں تم سے عشق کرتا ہوں، یہ تمہارا اپنا وہم یا خیال ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وہ بڑی خوبصورتی سے محبوب کو بے وفا بھی کہہ دیتے ہیں اور الزام دوسروں پر ڈال دیتے ہیں کہ لوگ تمہیں بے وفا کہتے ہیں، میں تو ایسا نہیں کہتا۔ شعر 5 ساری دنیا کو ہے غلط فہمی مجھ پہ تو مہرباں ہے پیارے تیرے کوچے میں ہے سکوں ورنہ ہر زمیں آسماں ہے پیارے تشریح: دنیا سمجھتی ہے کہ محبوب مجھ پر بڑا کرم فرما ہے، مگر حقیقت میں یہ صرف لوگوں کی غلط فہمی ہے (یعنی اصل صورتحال اس کے برعکس ہے)۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے سکون صرف تمہاری گلی (کوچے) میں ملتا ہے، ورنہ اس دنیا میں ہر جگہ پریشانیاں اور بے سکونی ہی پھیلی ہوئی ہے۔ شعر 6 خیر فریاد بے اثر ہی سہی زندگی کا نشاں ہے پیارے شرم ہے احتراز ہے کیا ہے پردہ سا درمیاں ہے پیارے تشریح: اگرچہ میری آہیں اور فریادیں محبوب پر کوئی اثر نہیں کرتیں، لیکن یہی فریادیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ میں ابھی زندہ ہوں۔ وہ محبوب کی خاموشی اور دوری پر سوال کرتا ہے کہ یہ تمہاری شرم ہے یا مجھ سے دوری اختیار کرنے کی کوشش، جو ہمارے درمیان ایک انجانا سا پردہ حائل ہے۔ مقطع (آخری حصہ) عرضِ مطلب سمجھ کے ہو نہ خفا یہ تو اک داستاں ہے پیارے جنگ چھڑ جائے ہم اگر کہہ دیں یہ ہماری زباں ہے پیارے تشریح: شاعر کہتا ہے کہ میری باتوں کا برا نہ ماننا، میں صرف ایک قصہ سنا رہا تھا۔ آخر میں وہ اپنی شاعری اور زبان کی کاٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر ہم اپنی اصل حقیقت یا سچائی بیان کرنے پر آ جائیں، تو زمانے میں ایک طوفان یا جنگ چھڑ جائے، کیونکہ ہماری زبان میں بہت اثر ہے۔