Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Bhoole Hue Gham — cover art

Song lyrics

Bhoole Hue Gham

📜 Lyrics

دِل میں اَب یوں ترے بُھولے ہوئے غَم آتے ہیں جیسے بِچھڑے ہوئے کعبہ میں صَنَم آتے ہیں ایک اِک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری مَنزِل کی طرَف تیرے قدَم آتے ہیں رَقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو سُوئے مے خانہ سفِیرانِ حَرَم آتے ہیں کچھ ہمیں کو نہیں اِحسان اٹھانے کا دِماغ وہ تو جب آتے ہیں مائِل بہ کَرَم آتے ہیں اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فُرقت سے کہو دِل بھی کم دُکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں مصلِحَت چھُپتی ہے اب چہرہِ گیتی کے تلے حرفِ حق کہنے جو نکلیں تو سِتَم آتے ہیں اب کوئی شمع جلائے نہ سَرِ راہِ وفا تِیرگی بانٹنے اب اہلِ چمن آتے ہیں وہی وَحشَت، وہی صحرا، وہی تاریکیِ شب پھر سے ہم راہِ جُنوں یاد قدَم آتے ہیں رَقصِ مے تیز کرو، ساز کی لے تیز کرو سُوئے مے خانہ سفِیرانِ حَرَم آتے ہیں کون سُنتا ہے یہاں شامِ غرِیباں کا دُکھ لب پہ افسانے تو سب کے ہی رَقَم آتے ہیں پھر سے اِک اَنجُمنِ ناز سجائی جائے آج پھر بزم میں کچھ سوختہ دَم آتے ہیں دِل میں اَب یوں ترے بُھولے ہوئے غَم آتے ہیں...

💡 Meaning & story

Reimagine & composed by Mohammad Farooq Written by Faiz Ahmad Faiz 1911 - 1984 عنوان: دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں - مکمل غزل مع تشریح تعارف: یہ غزل اردو شاعری کے کلاسک رنگ اور جدید احساسات کا ایک حسین امتزاج ہے۔ فیض احمد فیض کے مخصوص لب و لہجے کو برقرار رکھتے ہوئے، اس غزل میں انسانی جذبات، جدائی کا کرب، مصلحتوں کے اندھیرے اور امید کی کرنوں کو اشعار کی صورت میں ڈھالا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں ہر شعر کی گہری معنویت اور اس کے پیچھے چھپے فلسفے کو بیان کیا گیا ہے۔ ________________________________________ اشعار کی تشریح شعر ۱: دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں جیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں تشریح: اس شعر میں محبوب کی یادوں کو پرانے بتوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو کسی مقدس مقام میں لوٹ آئیں۔ یہ یادیں اب تکلیف نہیں دیتیں بلکہ ایک پرانے شناسائی کے احساس کے ساتھ دل میں آتی ہیں۔ شعر ۲: ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشن میری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں تشریح: جیسے رات کے وقت تارے چمک کر اندھیرا ختم کرتے ہیں، ویسے ہی محبوب کی آمد کی امید شاعر کے دل میں روشنی پھیلا رہی ہے اور اسے لگ رہا ہے کہ اس کی منزل قریب آ رہی ہے۔ شعر ۳: رقصِ مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیرانِ حرم آتے ہیں تشریح: یہ ایک طنزیہ شعر ہے کہ وہ لوگ جو ظاہر میں بہت پارسا ہیں، وہ بھی چھپ چھپا کر سکون کی تلاش میں مے خانے کا رخ کر رہے ہیں۔ شعر ۴: کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغ وہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں تشریح: شاعر اپنی خودداری بیان کر رہا ہے کہ وہ کسی کا احسان نہیں لینا چاہتا، لیکن محبوب کی شفقت ایسی ہے کہ وہ جب بھی ملتا ہے، اپنی نوازشات سے نواز دیتا ہے۔ شعر ۵: اور کچھ دیر نہ گزرے شبِ فرقت سے کہو دل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں تشریح: جدائی کی طوالت اب عادت بن چکی ہے۔ اب نہ دل پہلے جیسا دھڑکتا ہے اور نہ محبوب کی یادیں پہلے جیسی تڑپاتی ہیں۔ یہ ایک طرح کی جذباتی بے حسی کا اظہار ہے۔ شعر ۶: مصلحت چھپتی ہے اب چہرہِ گیتی کے تلے حرفِ حق کہنے جو نکلیں تو ستم آتے ہیں تشریح: اس میں زمانے کی سچائی ہے کہ اب دنیا میں سچ بولنا مشکل ہو گیا ہے۔ جو بھی حق کی بات کرتا ہے، اسے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شعر ۷: اب کوئی شمع جلائے نہ سرِ راہِ وفا تیرگی بانٹنے اب اہلِ چمن آتے ہیں تشریح: جب چمن کے محافظ ہی اندھیرے پھیلانے لگیں، تو وفا کی راہ میں روشنی کی امید رکھنا فضول ہے۔ یہ سماجی بے وفائی کی عکاسی ہے۔ شعر ۸: وہی وحشت، وہی صحرا، وہی تاریکیِ شب پھر سے ہم راہِ جنوں یاد قدم آتے ہیں تشریح: عشق کا جنون جب دوبارہ سر اٹھاتا ہے، تو وہی پرانی وحشتیں اور تنہائیاں انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ پرانے راستے دوبارہ مانوس لگنے لگتے ہیں۔ شعر ۹: کون سنتا ہے یہاں شامِ غریباں کا دکھ لب پہ افسانے تو سب کے ہی رقم آتے ہیں تشریح: دنیا میں ہر شخص اپنی کہانی سنانے کے لیے تو تیار ہے، لیکن کسی کے پاس دوسروں کے حقیقی درد کو سمجھنے اور سننے کی مہلت نہیں ہے۔ شعر ۱۰: پھر سے اِک انجمنِ ناز سجائی جائے آج پھر بزم میں کچھ سوختہ دم آتے ہیں تشریح: محفل کو دوبارہ سجانے کی بات ہو رہی ہے کیونکہ اب وہ لوگ آ رہے ہیں جو زندگی کے تلخ تجربات سے گزر کر آئے ہیں اور جن کے پاس درد کا خزانہ ہے۔