💡 Meaning & story
Composed By Mohammad Farooq written by Parven Shaker 1952 – 1994
اپنی تنہائی مرے نام پہ آباد کرے / کون ہوگا جو مجھے اس کی طرح یاد کرے اس مطلع میں شاعرہ اپنے محبوب کی بے مثال عقیدت کا ذکر کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسا چاہنے والا ملنا مشکل ہے جو اپنی تنہائی کے لمحات کو بھی میرے نام کر دے۔ یعنی وہ اکیلا ہو کر بھی تنہا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی تنہائی میری یادوں سے آباد رہتی ہے۔
2. دل عجب شہر کہ جس پر بھی کھلا در اس کا / وہ مسافر اسے ہر سمت سے برباد کرے دل ایک حساس اور نازک جگہ ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ جس کسی کو بھی اس دل میں جگہ ملی یا جس پر اس دل کے دروازے کھلے، اس نے اسے مسافر کی طرح سمجھا اور اس کی قدر کرنے کے بجائے اسے ہر طرح سے دکھ پہنچایا اور برباد کیا۔
3. اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں / روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے یہ شعر استعاراتی ہے، جہاں 'قاتل' سے مراد محبوب یا کٹھن حالات ہو سکتے ہیں۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ مجھے موت کا ڈر نہیں، بلکہ میں اس ستم گر کی ذہانت پر حیران ہوں جو مجھے دکھ دینے اور اذیت پہنچانے کے روز نئے طریقے ڈھونڈ نکالتا ہے۔
4. اتنا حیراں ہو مری بے طلبی کے آگے / وا قفس میں کوئی در خود مرا صیاد کرے یہاں شاعرہ اپنی انا اور استغنا (بے نیازی) کا اظہار کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں اپنی رہائی کی التجا نہیں کروں گی۔ میری یہ خاموشی اور کچھ نہ مانگنے کی صفت شکاری (صیاد) کو اتنا حیران کر دے کہ وہ خود مجبور ہو کر میرے پنجرے کا دروازہ کھول دے۔
5. سلب بینائی کے احکام ملے ہیں جو کبھی / روشنی چھونے کی خواہش کوئی شب زاد کرے جب معاشرے میں سچ دیکھنے پر پابندی ہو (سلبِ بینائی)، تو ایسے اندھیروں میں پلنے والا شخص (شب زاد) اگر روشنی کی تمنا کرے تو یہ ایک جرأت مندانہ خواب ہے۔ یہ شعر جبر کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہے۔
6. سوچ رکھنا بھی جرائم میں ہے شامل اب تو / وہی معصوم ہے ہر بات پہ جو صاد کرے یہ شعر موجودہ دور کی سیاسی اور معاشرتی گھٹن کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ اب آزادانہ سوچ رکھنا بھی جرم بن چکا ہے۔ سماج کی نظر میں بے گناہ اور معصوم صرف وہی ہے جو ہر غلط بات پر بھی سر تسلیم خم کرے اور 'صاد' (درست) کہے۔
7. جب لہو بول پڑے اس کے گواہوں کے خلاف / قاضئ شہر کچھ اس باب میں ارشاد کرے یہ شعر انصاف کے نظام پر طنز ہے۔ جب ظلم حد سے بڑھ جائے اور مقتول کا خون خود پکار اٹھے کہ گواہ جھوٹے ہیں، تب شہر کے منصف (قاضی) کو چاہیے کہ وہ خاموشی توڑ کر حق کا فیصلہ کرے۔
8. اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجود / میرے ساحر سے کہو اب مجھے آزاد کرے مقطع میں پروین شاکر کہتی ہیں کہ میں ایک طویل عرصے سے کسی کی شخصیت کے سحر میں گرفتار رہی اور میرا وجود اس کے قابو میں رہا۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ جادوگر (محبوب) مجھے اپنی یادوں اور اثر سے آزاد کر دے تاکہ میں اپنی پہچان واپس پا سکوں۔
________________________________________
خلاصہ
یہ غزل محض روایتی عشقیہ شاعری نہیں ہے بلکہ اس میں داخلی کرب (ذاتی دکھ) اور خارجی حقیقت (معاشرتی مسائل) کا بہترین امتزاج ہے۔ پروین شاکر نے ظلم کے خلاف احتجاج اور اپنی خودداری کو بہت وقار کے ساتھ بیان کیا ہے۔
Lyrics & Meaning