Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
The price of dying — cover art

Song lyrics

The price of dying

📜 Lyrics

مَرنے کی اَدا اَور ہے جِینے کی اَدا اَور جو چاہُوں سَمجھنا بھی تو روکے ہے اَنا اَور کُچھ سوچ کے قَدموں کو نہ دِی ہم نے بھی جُنبش اِلزام نہ رَکھ جائے کہِیں پھِر سے ہَوا اَور جب سے میں اَکائی کا عِلم لے کے چلا ہُوں اِحساس یہ ہوتا ہے جُدا ہونے لگا اَور کبھی جو خُود سے مِلنے کی تَمّنّا جاگتی ہے تو رَستہ روک لیتی ہے مِیری ہی اَنا اَور یہ دُنیا جِس کو کہتی ہے مِیری جِیت کا سُورج بڑھا دیتی ہے میرے قَد کا یہ سایہ اَور تَکمیل کی مَنزل ہی مِیری راہِ فَنا ہے کیوں مُجھ کو دِکھاتے ہو یہاں راہِ بَقا اَور خِرد کے دائروں میں قَید ہو کر رہ گیا ہُوں دِکھا اِے عِشق مُجھ کو اَب کوئی رَستہ اَور مِیری تِشنہ لبی کا اَب کوئی پُرسَاں نہیں ہے پِلادو اپنی آنکھوں سے مُجھے اِک بادہ اَور یہ سوچ کے کرتا نہیں طُوفان کا تَعاقُب مُمکن ہے بَدل جائے زمانے کی ہَوا اَور ہوئی ہے ختم اِک تازہ مُصیبت تو کیا ہوا ابھی ہے سامنے دِیوارِ غَم اِک اَور اَور یہ کون سی مَنزل ہے کہ مُٹھی نہیں کُھلتی ہے جَب کہ مِیرے سامنے اِک کالی بَلا اَور

💡 Meaning & story

Reimagine & composed by Mohammad Farooq غزل کی جامع تشریح و تفہیم یہ غزل انسانی نفسیات، خود شناسی (Self-discovery) اور روحانی سفر کی ایک خوبصورت داستان ہے۔ اس میں "انا" (Ego) کو ایک ایسی رکاوٹ کے طور پر دکھایا گیا ہے جو انسان کو حقیقت تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ پہلا حصہ: انا اور سماجی کشمکش • مرنے کی ادا اور ہے جینے کی ادا اور... شاعر زندگی اور موت کے مروجہ طریقوں سے ہٹ کر ایک نئے ڈھنگ کی بات کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں حقیقت کو سمجھنا تو چاہتا ہوں، لیکن میری اپنی "انا" ایک پردہ بن کر میرے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ • کچھ سوچ کے قدموں کو نہ دی ہم نے بھی جنبش... یہاں زمانے کی بے اعتباری کا ذکر ہے۔ شاعر رک گیا ہے، اس خوف سے نہیں کہ وہ تھک گیا ہے، بلکہ اس ڈر سے کہ کہیں یہ بے مروت زمانہ اسے پھر سے کسی نئی تہمت یا الزام کا نشانہ نہ بنا دے۔ دوسرا حصہ: خود شناسی اور انفرادیت • جب سے میں اکائی کا علم لے کے چلا ہوں... یہ شعر انفرادیت اور توحید کے سفر کو بیان کرتا ہے۔ جب انسان حق کی راہ (اکائی) چن لیتا ہے، تو اسے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ مادی دنیا اور عام لوگوں سے کتنا جدا اور تنہا ہو گیا ہے۔ • کبھی جو خود سے ملنے کی تمنا جاگتی ہے... انسان جب اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کی "انا" ایک بار پھر راستے کی دیوار بن جاتی ہے۔ یہ خود سے خود کی ملاقات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ • یہ دنیا جس کو کہتی ہے مری جیت کا سورج... دنیاوی کامیابیوں پر ایک گہرا طنز ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جسے دنیا میری "فتح" سمجھ رہی ہے، وہ دراصل میری انا اور غرور کے سائے کو مزید لمبا کر رہی ہے، جو مجھے میری اصلیت سے دور کر دیتا ہے۔ تیسرا حصہ: فنا، بقا اور عشق کا سفر • تکمیل کی منزل ہی مری راہ فنا ہے... یہاں تصوف کا رنگ غالب ہے۔ شاعر کے نزدیک انسانی کمال اس میں ہے کہ وہ خود کو مٹا دے (فنا ہو جائے)۔ وہ ان لوگوں سے بیزار ہے جو اسے دنیاوی بقا یا ہمیشہ زندہ رہنے کے فضول سبق پڑھاتے ہیں۔ • خرد کے دائروں میں قید ہو کر رہ گیا ہوں... عقل (خرد) انسان کو منطق کے دائروں میں الجھائے رکھتی ہے۔ شاعر تھک چکا ہے اور اب "عشق" سے التجا کرتا ہے کہ اسے کوئی ایسا راستہ دکھائے جہاں عقل کی قید نہ ہو۔ • مری تشنہ لبی کا اب کوئی پرساں نہیں ہے... پیاس (تلاش) کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ اب عام ذرائع سے تسکین ممکن نہیں، اسے اب کسی روحانی فیض (بادہِ عشق) کی ضرورت ہے۔ چوتھا حصہ: ہمت اور حتمی حقیقت • یہ سوچ کے کرتا نہیں طوفاں کا تعاقب... شاعر بزدل نہیں ہے، بلکہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کبھی کبھی خاموشی ہی بہترین ردِعمل ہوتی ہے، کیونکہ زمانے کی ہوا کسی بھی وقت رخ بدل سکتی ہے۔ • ہوئی ہے ختم اک تازہ مصیبت تو کیا ہوا... زندگی مسلسل امتحان کا نام ہے۔ ایک دکھ ختم ہوتا ہے تو دوسرا سامنے کھڑا ہوتا ہے (دیوارِ غم)۔ یہ شعر انسان کو مستقل مزاجی کا درس دیتا ہے۔ • یہ کون سی منزل ہے کہ مٹھی نہیں کھلتی... غزل کا مقطع (آخری شعر) ایک زبردست تجسس پر ختم ہوتا ہے۔ انسان منزل کے قریب تو ہے لیکن اس کے ہاتھ ابھی تک بند ہیں (شاید دنیا کی محبت یا خوف کی وجہ سے) اور سامنے ایک بہت بڑا انجانا خوف (کالی بلا) اس کا منتظر ہے۔