Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
The storm — cover art

Song lyrics

The storm

📜 Lyrics

اُٹھی ہے مغرب سے گَھٹا پینے کا موسم آ گیا ہے رقص میں اِک مہ لِقا نازُک ادا ناز آفرین ہاں ناچتی جا گائے جا نظروں سے دِل برمائے جا تَڑپائے جا تَڑپائے جا او دشمن دُنیا و دیں! تیرا تَھرکنا خوب ہے تیری ادائیں دِل نَشین لیکن ٹھہر تُو کون ہے او نِیم عُریاں نازنین کیا مشرقی عورت ہے تُو ہرگز نہیں ہرگز نہیں تیری ہنسی بِے بَاک ہے تیری نظر چالاک ہے اُف کِس قدر دل سوز ہے تقریر بازاری تِری کِتنی ہَوَسْ آموز ہے یہ سادہ پرُکاری تِری شرم اور عزت والیاں ہوتی ہیں عِفت والیاں وہ حُسن کی شہزادیاں پَردے کی ہیں آبادیاں چشم فلک نے آج تک دیکھی نہیں اُن کی جھلک سرمایۂ شرم و حیا زَیوَرْ ہے اُن کے حُسن کا شوہر کے دُکھ سہتی ہیں وہ منہ سے نہیں کِہتی ہیں وہ کَب سامنے آتی ہیں وہ غیرت سے کٹ جاتی ہیں وہ اِعزازِ مِلّت اُن سے ہے نامِ شرافت اُن سے ہے اِیمان پر قائم ہیں وہ پَاکیزہ و صَائم ہیں وہ تُجھ میں نہیں شَرم و حیا تُجھ میں نہیں مہر و وفا سچ سچ بتا تُو کون ہے او بے حیا تُو کون ہے احساس عِزت کیوں نہیں شرم اور غیرت کیوں نہیں یہ پر فَسوں غُمزے تِرے نا مَحرموں کے سامنے ہَٹ سامنے سے دور ہو مردود ہو مقہُور ہو تقدیر کی ہیٹی ہے تُو شیطان کی بیٹی ہے تُو جِس قوم کی عورت ہے تُو اُس قوم پر لعنت ہے تُو لیکن ٹھہر جانا ذرا تیری نہیں کوئی خَطا مردوں میں غیرت ہی نہیں قومی حمیت ہی نہیں وہ مِلّت بیضا کہ تھی سارے جہاں کی روشنی جمعیت اسلامیاں شاہنشہ پاکستان اب اُس میں دم کچھ بھی نہیں ہم کیا ہیں ہم کچھ بھی نہیں مِلّی سیاست اُٹھ گئی بازو کی طاقت اُٹھ گئی شانِ حِجازی اب کہاں وہ تُرکتازی اَب کہاں اَب غزنوی ہِمّت گئی اَب بابری شوکت گئی اِیمان عالم گِیر کا مُسلم کے دل سے اُٹھ گیا قوم اَب جفا پیشہ ہوئی عِزت گَدا پیشہ ہوئی اَب رنگ ہی کچھ اور ہے بے غیرتی کا دَور ہے یہ قوم اب مِٹنے کو ہے یہ نرد اب پِٹنے کو ہے اَفسوس یہ پاکستان ! یہ گُلشن جنت نشان! اِیمان داروں کا وطن طاعت گُزاروں کا وطن رہ جائے گا ویرانہ پھر بن جائے گا بُت خانہ پھر لیکن مُجھے کیا خَبْط ہے تقریر کیوں بے رَبط ہے ایسا بہک جاتا ہوں میں منہ آئی بَک جاتا ہوں میں اِتنا شرابی ہو گیا عقل و خرد کو کھو گیا مُجھ کو زمانے سے غرض مِٹنے مِٹانے سے غرض پاکستان سے کام کیا اندیشۂ انجام کیا جِینے دو جِینے دو مُجھے پِینے دو پِینے دو مُجھے جب حَشر کا دِن آئے گا اُس وقت دیکھا جائے گا ہاں ناچتی جا گائے جا نظروں سے دِل برمائے جا تڑپائے جا تڑپائے جا او دُشمن دنیا و دیں

💡 Meaning & story

نظم "رقاصہ": ایک تعارف - Written by Hafeez Jalandhari 1900-1982 یہ نظم صرف ایک ناچتی ہوئی عورت کا قصہ نہیں ہے، بلکہ یہ مشرق اور مغرب کے تصادم کی کہانی ہے۔ حفیظ جالندھری نے "رقاصہ" کو علامت (Symbol) کے طور پر استعمال کیا ہے، جو اس بدلی ہوئی تہذیب کی نمائندگی کر رہی ہے جس نے اسلامی و مشرقی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ ________________________________________ کلیدی نکات اور تشریح (Key Breakdown) 1. تہذیبی یلغار (مغرب کی گھٹا) نظم کا آغاز ہی ایک گہرے استعارے سے ہوتا ہے: "اٹھی ہے مغرب سے گھٹا"۔ یہاں گھٹا سے مراد بارش نہیں، بلکہ مغرب سے آنے والا وہ طوفانِ بے راہ روی ہے جس نے مشرق کی سنجیدگی اور حیا کو ڈھانپ لیا ہے۔ شاعر خود کو ایک ایسے رند (شرابی) کے روپ میں پیش کرتا ہے جو اس رنگینی میں کھو چکا ہے، مگر اس کا ضمیر تڑپ رہا ہے۔ 2. عورت کا نمونہ اور غیرتِ ملی شاعر جب رقاصہ کی بے باکی اور نیم عریاں لباس کو دیکھتا ہے، تو اسے اپنی تاریخ کی "عفت والی" شہزادیاں یاد آتی ہیں۔ • تقابل: ایک طرف وہ عورت ہے جو "نامحرموں" کے سامنے رقص کر رہی ہے، اور دوسری طرف وہ باحیا خواتین ہیں جو ملت کا اعزاز تھیں۔ • سخت لہجہ: شاعر کا رقاصہ کو "شیطان کی بیٹی" کہنا دراصل اس غصے کا اظہار ہے جو ایک غیرت مند انسان کو اپنی تہذیب پامال ہوتے دیکھ کر ہوتا ہے۔ 3. مردوں کی بے حسی (اصل المیہ) نظم کا سب سے بڑا موڑ وہ ہے جہاں شاعر کہتا ہے: "تیری نہیں کوئی خطا، مردوں میں غیرت ہی نہیں"۔ شاعر سمجھتا ہے کہ عورت کا بے راہ رو ہونا دراصل مردوں کی کمزوری اور قومی حمیت کے خاتمے کا نتیجہ ہے۔ جب غزنوی کی ہمت، بابر کی شوکت اور عالمگیر کا ایمان دلوں سے نکل گیا، تو قوم تماشائی بن گئی۔ 4. ماضی کی عظمت اور حال کی پستی حفیظ جالندھری "ملتِ بیضا" (روشن قوم) کا ذکر کر کے یاد دلاتے ہیں کہ ہم وہ تھے جو دنیا کو روشنی دکھاتے تھے، مگر اب "نرد پٹنے کو ہے" (کھیل ختم ہونے کو ہے)۔ ہندوستان جو "جنت نشاں" تھا، وہ اب ویرانہ بننے کے قریب ہے۔ 5. فرار اور یاسیت (Escape and Despair) نظم کا اختتام انتہائی دردناک ہے۔ شاعر جب دیکھتا ہے کہ حالات بدلنا اس کے بس میں نہیں، تو وہ دوبارہ مے نوشی اور اسی رقص کی طرف لوٹ جاتا ہے: "پینے دو پینے دو مجھے"۔ یہ ایک شکست خوردہ ذہن کی آواز ہے جو حقائق کی تلخی سے بچنے کے لیے نشے کا سہارا لیتا ہے۔ یہ جملہ "جب حشر کا دن آئے گا، اس وقت دیکھا جائے گا" اس انتہا درجے کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان اصلاح کی امید چھوڑ دیتا ہے۔ ________________________________________ سامعین کے لیے پیغام (The Message) "یہ نغمہ صرف ایک رقص کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ جب ایک قوم اپنی اصل پہچان کھو دیتی ہے اور لہو و لعب میں پڑ جاتی ہے، تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ حفیظ جالندھری نے جہاں رقاصہ کی بے باکی پر چوٹ کی ہے، وہیں ہمیں آئینہ دکھایا ہے کہ قصوروار صرف وہ نہیں، بلکہ وہ معاشرہ ہے جس نے اپنی غیرت کا سودا کر لیا۔"