Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
The Traveler's Dawn — cover art

Song lyrics

The Traveler's Dawn

📜 Lyrics

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مَر جاؤں گی میں تو دریا ہوں سُمندر میں اُتر جاؤں گی تَیرا در چھوڑ کے میں اور کِدھر جاؤں گی گھر میں گھر جاؤں گی صحرا میں بِکھر جاؤں گی تیرے پہِلُو سے جو اُٹھوں گی تو مشکل یہ ہے صِرف اِک شخص کو پاؤں گی جِدھر جاؤں گی اَب تِرے شہر میں آؤں گی مُسافر کی طرح سایۂ ابر کی مانند گُزر جاؤں گی تیرا پیمان وفا راہ کی دِیوار بنا ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گی مَر جاؤں گی چارہ سازوں سے الگ ہے مِرا معیار کہ میں زخم کھاؤں گی تو کچھ اور سنور جاؤں گی اب تو دُھوپ کو گُزرے ہوئے صدیاں گُزریں اَب اُسے ڈُھونڈنے میں تا بہ سَحر جاؤں گی کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مَر جاؤں گی میں تو دریا ہوں سُمندر میں اُتر جاؤں گی زندگی شمع کی مانند جَلاتی ہوں میری جان بُجھ تو جاؤں گی مگر صُبح تو کر جاؤں گی

💡 Meaning & story

کلامِ احمد ندیم قاسمی (نسائی آہنگ) پسِ منظر: یہ خوبصورت غزل اردو ادب کے مایہ ناز شاعر احمد ندیم قاسمی کی تخلیق ہے۔ اصل کلام مردانہ صیغے میں لکھا گیا تھا (مثلاً: "مر جاؤں گا"، "اتر جاؤں گا")۔ یہاں اسے نسائی لہجے (Female Version) میں ڈھالا گیا ہے، جو قاسمی صاحب کے آفاقی پیغام کو ایک نئے اور پُر اثر انداز میں پیش کرتا ہے۔ بند وار تشریح 1. مطلع کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مَر جاؤں گی میں تو دریا ہوں سُمندر میں اُتر جاؤں گی احمد ندیم قاسمی اس شعر میں انسان کی عظمت اور ابدی زندگی کا فلسفہ بیان کرتے ہیں۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ موت میرا خاتمہ نہیں کر سکتی۔ جس طرح دریا سمندر میں مل کر اپنی ہستی مٹاتا نہیں بلکہ وسعت پا کر خود سمندر بن جاتا ہے، میری روح بھی کائنات کی ابدی حقیقت کا حصہ بن جائے گی۔ 2. شعرِ ثانی تَیرا در چھوڑ کے میں اور کِدھر جاؤں گی گھر میں گھر جاؤں گی صحرا میں بِکھر جاؤں گی یہ شعر اس وابستگی کو ظاہر کرتا ہے جہاں منزل اور راستہ صرف ایک ذات سے منسوب ہو۔ اگر میں تمہاری یادوں کے حصار سے باہر نکلی تو میرا اپنا کوئی وجود باقی نہ رہے گا؛ یا تو میں خود میں سمٹ جاؤں گی یا پھر صحرا کی دھول بن کر بکھر جاؤں گی۔ 3. شعرِ ثالث تیرے پہِلُو سے جو اُٹھوں گی تو مشکل یہ ہے صِرف اِک شخص کو پاؤں گی جِدھر جاؤں گی یہ محبت کی اس انتہا کی عکاسی ہے جہاں نظر صرف ایک ہی چہرہ تلاش کرتی ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ تمہارے قرب سے دوری کے بعد بھی دنیا کے ہجوم میں میری آنکھیں صرف تمہارا ہی عکس دیکھیں گی۔ 4. شعرِ رابع اَب تِرے شہر میں آؤں گی مُسافر کی طرح سایۂ ابر کی مانند گُزر جاؤں گی اس شعر میں احمد ندیم قاسمی نے جدائی کے بعد کے وقار کو بیان کیا ہے۔ اب میں تمہارے شہر میں کسی دعوے کے ساتھ نہیں، بلکہ ایک اجنبی مسافر کی طرح آؤں گی اور بادل کے سائے کی طرح خاموشی سے گزر جاؤں گی—نہ کوئی آہٹ ہوگی، نہ کوئی دستک۔ 5. شعرِ خامس تیرا پیمان وفا راہ کی دِیوار بنا ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گی مَر جاؤں گی یہاں وفا کی مجبوری کا ذکر ہے۔ شاعرہ کہتی ہیں کہ تمہارے ساتھ نبھانے کا جو عہد کیا تھا، وہ مجھے مرنے نہیں دیتا۔ زندگی کی مشکلات میں موت ایک آسان راستہ تھا، لیکن تمہاری وفا کا بھرم رکھنا جینے سے بھی زیادہ ضروری ٹھہرا۔ 6. شعرِ سادس چارہ سازوں سے الگ ہے مِرا معیار کہ میں زخم کھاؤں گی تو کچھ اور سنور جاؤں گی قاسمی صاحب کا یہ شعر حوصلے کی انتہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عام لوگ دکھوں سے ٹوٹ جاتے ہیں، لیکن میرا ظرف الگ ہے۔ میں جتنے زخم کھاؤں گی، میری شخصیت میں اتنی ہی نفاست اور پختگی آئے گی۔ ہر صدمہ مجھے نکھار کر ایک نیا روپ دے گا۔ 7. شعرِ ہفتم اب تو دُھوپ کو گُزرے ہوئے صدیاں گُزریں اَب اُسے ڈُھونڈنے میں تا بہ سَحر جاؤں گی یہ شعر امید کی جستجو کا استعارہ ہے۔ طویل عرصے سے زندگی میں جو تاریکی یا مایوسی چھائی ہوئی ہے، اسے ختم کرنے کے لیے میں نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ سحر ہونے تک اس خوشی کی 'دھوپ' کو تلاش کرتی رہوں گی۔ 8. مقطع زندگی شمع کی مانند جَلاتی ہوں میری جان بُجھ تو جاؤں گی مگر صُبح تو کر جاؤں گی یہ غزل کا حاصلِ کلام ہے۔ شاعرہ اپنی زندگی کو ایک شمع کے سپرد کرتی ہیں جو خود پگھلتی ہے تاکہ دوسروں کو روشنی دے سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں بھلے فنا ہو جاؤں، لیکن میری جدوجہد اور میرا کلام آنے والوں کے لیے اندھیروں میں چراغ کا کام کرے گا۔