💡 Meaning & story
Rewritten & Composed By Mohammad Farooq
نظم کا مفہوم و تشریح: "کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا"
یہ کلام اردو کے عظیم شاعر ابوالاثر حفیظ جالندھری کی تخلیق ہے، جس میں انہوں نے بندگی، عجز و انکساری اور اللہ کی واحد ذات پر بھروسے کو نہایت پُر اثر انداز میں بیان کیا ہے۔
مرکزی خیال:
اس نظم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دنیا کی ہر آس اور ہر سہارا عارضی ہے۔ انسان جب اپنی تمام کوششوں میں ناکام ہو جاتا ہے یا اپنوں کی بے وفائی کا شکار ہوتا ہے، تو اسے صرف ایک ہی در ایسا ملتا ہے جہاں سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، اور وہ ہے "اللہ کا در"۔
اشعار کی مختصر وضاحت:
* توکل اور بندگی: شاعر کا ماننا ہے کہ جب تمام راستے بند ہو جائیں تو دعا ہی وہ واحد راستہ ہے جو معجزے دکھاتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں جو انسان کے دل کے حال سے واقف ہو یا اس کی فریاد سنے۔
* دنیا کی حقیقت: انسان اپنی طرف سے وفا کی ہر حد پار کر لیتا ہے، لیکن دنیا اسے بدلے میں اکثر دکھ اور سزا ہی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ 'اپنے' جن پر انسان سب سے زیادہ بھروسہ کرتا ہے، ان کے طنز اور رویے تیر بن کر دل کو زخمی کرتے ہیں۔
* حقیقی منزل: ساحلِ مراد (کامیابی) صرف اسی کو ملتی ہے جو خدا کو اپنا ملاح (ناخدا) تسلیم کر لے۔ منزل پر پہنچ کر یہ راز کھلتا ہے کہ راستے میں جتنے بھی رہنما نظر آئے، وہ دراصل اسی ایک خالق کے اشارے پر کام کر رہے تھے۔
* تسلیم و رضا: دنیا کو خوش کرنا ایک ناممکن کام ہے۔ اصل سکون تب ملتا ہے جب انسان دنیا کی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر صرف اپنے رب کی رضا میں راضی ہو جائے۔
* خالق کی عظمت: انسان کائنات کی جتنی بھی بلندیوں (سورج اور چاند) تک پہنچ جائے، اسے آخر کار یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ کی ذات کے بغیر سب کچھ ایک خلا ہے، ایک ادھورا پن ہے۔
* دردِ دل اور دنیا کا ردِعمل: مقطع میں شاعر کی ایک تلخ حقیقت بیان ہوئی ہے کہ جب کوئی فنکار یا انسان اپنے دکھ کو "آہ" کی صورت میں بیان کرتا ہے، تو دنیا اسے "واہ واہ" (داد) میں اڑا دیتی ہے، یعنی لوگ فن کی تعریف تو کرتے ہیں مگر فنکار کے درد کو نہیں سمجھتے۔
نتیجہ:
یہ نظم ایک پکار ہے، ایک دعا ہے اور ایک ایسا اعتراف ہے جو انسان کو غرور سے نکال کر اللہ کی محبت کے قریب کر دیتا ہے۔
Lyrics & Meaning