Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Counting Stars — cover art

Song lyrics

Counting Stars

📜 Lyrics

آج کَل مَیں، اپنی نِیندیں کھو رہا ہُوں آج کَل مَیں، اپنی نِیندیں کھو رہا ہُوں خواب اُن باتوں کے، جو ہم بَن سکتے تھے، بُن رہا ہُوں مَیں نے مانگی ہے دُعا، شِدّت کے ساتھ اب نہ گِنیں گے یہ پیسے، ہم گِنیں گے ستارے ہاں، ہم گِنیں گے ستارے! یہ زِندگی ہے ایک کچی ڈور جَیسی مَیں نے اپنی ہستی اِس پار ہے کھینچی میرے چہرے پہ چمکتے ہیں اِشارے ڈھونڈو گے تو مِلیں گے سچ کے نظارے بُوڑھا ہُوں، مگَر اِتنا بھی نہیں جواں ہُوں، مگَر اِتنا نِڈر بھی نہیں اور یہ دنیا اِتنی سادہ بھی نہیں کہ بَس وہی کرے، جو کہا جائے، یہ وہ بادی نہیں کچھ غَلَط کر کے، کُچھ صَحِیح سا لگتا ہے کچھ صَحِیح کر کے، کُچھ غَلَط سا لگتا ہے جھوٹ مَیں بول نہ پاؤں، مَیں چُھپ نہ پاؤں جو چیز مُجھے مارے، وَہی زِندگی دے جائے! آج کَل مَیں، اپنی نِیندیں کھو رہا ہُوں خواب اُن باتوں کے، جو ہم بَن سکتے تھے، بُن رہا ہُوں مَیں نے مانگی ہے دُعا، شِدّت کے ساتھ اب نہ گِنیں گے یہ پیسے، ہم گِنیں گے ستارے یہ پَیسہ لے لو، اسے جَلتا دیکھو دریا میں بہہ گئے، جو سَبَق مَیں نے سیکھے یہ پَیسہ لے لو، اسے جَلتا دیکھو دریا میں بہہ گئے، جو سَبَق مَیں نے سیکھے ہاں، یہ دَولَت لے لو، اسے راکھ ہوتے دیکھو! یہ پَیسہ لے لو، اسے جَلتا دیکھو دریا میں بہہ گئے، جو سَبَق مَیں نے سیکھے اب ہم گِنیں گے ستارے۔۔۔ صرف ستارے۔۔۔

💡 Meaning & story

نغمہ: ستارے گننا (اردو ورژن) - مکمل تشریحCounting Stars تعارف (Overall Theme) یہ نغمہ مادیت پرستی (Materialism) کے خلاف ایک احتجاج اور قلبی سکون کی تلاش کا سفر ہے۔ "پیسے گننا" دنیاوی لالچ اور بوجھ کی علامت ہے، جبکہ "ستارے گننا" خوابوں، سکون اور پاکیزہ مقاصد کی علامت ہے۔ ________________________________________ 1. مکھڑا (Intro & Chorus) "آج کَل مَیں، اپنی نِیندیں کھو رہا ہُوں... اب نہ گِنیں گے یہ پیسے، ہم گِنیں گے ستارے" • تشریح: شاعر کہتا ہے کہ اس کی بے خوابی کی وجہ پریشانی نہیں بلکہ وہ بڑے خواب ہیں جو اسے سونے نہیں دیتے۔ وہ اس عہد کا اظہار کر رہا ہے کہ اب زندگی کا مقصد صرف دولت جمع کرنا نہیں ہوگا، بلکہ وہ ان نعمتوں اور خوابوں کی قدر کرے گا جن کا تعلق روح سے ہے (ستارے)۔ 2. پہلا بند (Verse 1) "یہ زِندگی ہے ایک کچی ڈور جَیسی... ڈھونڈو گے تو مِلیں گے سچ کے نظارے" • تشریح: یہاں زندگی کی نزاکت کو "کچی ڈور" سے تشبیہ دی گئی ہے، یعنی یہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کو دنیا کے بنائے ہوئے خود غرضانہ دائروں سے نکال کر دوسری طرف (سچائی کی طرف) کھینچ لیا ہے۔ اگر انسان مصلحتوں سے باہر نکل کر دیکھے، تو اسے زندگی کی اصل حقیقت اور سچائی نظر آ جائے گی۔ 3. درمیانی بند (Refrain) "بُوڑھا ہُوں، مگَر اِتنا بھی نہیں... کہ بَس وہی کرے، جو کہا جائے" • تشریح: یہ بند خود اعتمادی کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں تجربہ کار اور سمجھدار (بوڑھا) تو ہو گیا ہوں، لیکن میرے اندر کا جوش اور جذبہ (جوانی) ابھی ختم نہیں ہوا۔ وہ اس لکیر کے فقیر بننے والے نظام کو مسترد کرتا ہے جہاں انسان صرف حکم کا غلام بن کر جیتا ہے۔ 4. مابعدِ کورس (Pre-Chorus) "کچھ غَلَط کر کے، کُچھ صَحِیح سا لگتا ہے... جو چیز مُجھے مارے، وَہی زِندگی دے جائے" • تشریح: یہ زندگی کے تضاد کو بیان کرتا ہے۔ کبھی کبھی وہ راستے جنہیں دنیا "غلط" یا "خطرناک" سمجھتی ہے، وہی انسان کو حقیقی خوشی دیتے ہیں۔ آخری مصرعہ ایک عظیم فلسفہ ہے: وہ محنت اور مشقت جو بظاہر ہمیں تھکا دیتی ہے (مار دیتی ہے)، حقیقت میں وہی ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم زندہ ہیں اور کچھ بامقصد کر رہے ہیں۔ 5. دوسرا بند (Verse 2) "تیرے پیار کی تپِش مَیں مَحسُوس کرتا ہُوں... دَولَت کماؤ، اور اسے جَلتے دیکھو" • تشریح: یہاں پیار اور جنون کو ایک طاقت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ "دولت کو جلتے دیکھنا" ایک استعارہ ہے کہ پیسہ صرف ہاتھ کی میل ہے؛ اسے اپنی روح پر حاوی نہ ہونے دو۔ اصل مقصد وہ جنون ہے جو آپ کو متحرک رکھتا ہے۔ 6. جوڑ / برج (Bridge) "یہ پَیسہ لے لو، اسے جَلتا دیکھو... دریا میں بہہ گئے، جو سَبَق مَیں نے سیکھے" • تشریح: یہ نغمے کا سب سے جذباتی حصہ ہے۔ یہاں شاعر اپنے ماضی کے ان تمام فرسودہ سبقوں اور اصولوں سے بیزاری کا اظہار کر رہا ہے جنہوں نے اسے پیسے کا غلام بنایا ہوا تھا۔ وہ ان سب یادوں اور لالچ کو دریا برد (ختم) کر کے ایک آزاد انسان بننا چاہتا ہے۔ ________________________________________ خلاصہ برائے فنکار: جب آپ اسے گائیں، تو یاد رکھیں کہ یہ ایک انقلابی احساس ہے—ایک ایسی آزادی کا جشن جو انسان کو دنیاوی فکروں سے نکال کر کائنات کے حسن (ستاروں) میں گم کر دیتی ہے۔