Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Farishta Koi Bhi Nahi — cover art

Song lyrics

Farishta Koi Bhi Nahi

📜 Lyrics

مِیری جان! کیا مُجھ کو پہچانتی ہو؟ مِیری رُوح کو اب تو تُم جانتی ہو؟ اگر میں کَبھی غُصّہ دِکھلا بِھی دوں تو کَڑوا کِسی کو سُنا بِھی دوں تو ‏فرِشتہ کوئی بِھی نَہیں اِس زَمِین پَر ہوئے گَردِشِ وَقت سے ہم بھی مَجبور بُرائی کَبھی جو نَظَر آئے مُجھ میں مُصیبَت کی رُت اَگَر اَثَر لائے مُجھ میں ‏مَگر نِیَّتیں مِیری صاف ہیں سَب مِیرے دِل کی معصُومِیت سے واقِف ہے رَب دُعا ہے، خُدایا! مُجھے مَت بُرا جاننا مِیری لَغْزِشوں سے نَہ مُجھ کو پَرکھنا کَبھی بے فِکَر اور کَبھی خُوش ہوں خُوشی میں کَبھی جَیسے اِک آسماں ہوں مَگر پِھر کَبھی غم گھیر لیتے ہیں مُجھ کو پَریشانِ عالَم کر دیتے ہیں مُجھ کو مِیری لَغْزِشوں سے نَہ مُجھ کو پَرکھنا۔۔۔ مُجھے مَت بُرا جاننا۔۔۔

💡 Meaning & story

Reimagine by Mohammad Farooq نغمے کا عنوان: اعترافِ بندگی و معصومیتِ دل تشریح و مقصد: یہ نغمہ ایک ایسے انسان کی پکار ہے جو اپنی خامیوں اور کوتاہیوں سے واقف ہے، مگر اس کا دل میل اور کینے سے پاک ہے۔ اس کلام میں انسانی جذبات کے ان اتار چڑھاؤ کو بیان کیا گیا ہے جو وقت کی گردش اور حالات کی سختیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ مرکزی خیال: 1. انسانی خطا کاری کا اعتراف: شاعر اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ اس زمین پر کوئی بھی فرشتہ نہیں ہے۔ حالات کی تلخی کبھی انسان کو غصے اور کڑواہٹ پر مجبور کر دیتی ہے، لیکن یہ اس کی اصل شخصیت نہیں بلکہ وقت کا جبر ہے۔ 2. خلوصِ نیت: نغمے کا سب سے طاقتور پہلو "نیتوں کا صاف ہونا" ہے۔ یہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کو اس کی ظاہری لغزشوں (غلطیوں) سے نہیں، بلکہ اس کے دل کے ارادوں سے پرکھا جانا چاہیے، کیونکہ رب دلوں کے بھید جانتا ہے۔ 3. جذباتی کشمکش: کلام میں دکھایا گیا ہے کہ انسان کبھی آسمان کی طرح بلند اور خوش ہوتا ہے، تو کبھی زمانے کی پریشانیاں اسے گھیر لیتی ہیں۔ یہ تضاد انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ مقصدِ تخلیق: اس نغمے کو بنانے کا مقصد سامعین کو یہ پیغام دینا ہے کہ کسی کے وقتی غصے یا تلخ رویے کے پیچھے چھپی ہوئی تکلیف اور اس کی اصل معصومیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ خالقِ کائنات سے ایک دعا بھی ہے کہ وہ ہمیں ہماری کوتاہیوں کے بجائے ہماری نیتوں کی بنیاد پر پرکھے۔ مختصر ورژن (Short Version): "یہ نغمہ انسانی روح کی ایک سادہ مگر گہری آواز ہے۔ ہم سب انسان ہیں، فرشتے نہیں، اور زندگی کی گردش کبھی ہمیں تلخ بنا دیتی ہے۔ مگر اس تلخی کے پیچھے ایک معصوم دل اور صاف نیت چھپی ہوتی ہے۔ اس کلام کے ذریعے ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انسان کو اس کی وقتی لغزشوں سے نہیں بلکہ اس کے دل کے خلوص سے پہچاننا چاہیے۔ امید ہے یہ نغمہ آپ کے دل کو چھو لے گا۔"