Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Saza — cover art

Song lyrics

Saza

📜 Lyrics

ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تم ہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میں تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں تم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میں اور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیں پس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو بیزار ہو گئی ہو بہت زندگی سے تم جب بس میں کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو تم کو یہاں کے سایہ و پرتو سے کیا غرض تم اپنے حق میں بیچ کی دیوار ہی رہو میں ابتدائے عشق سے بے مہر ہی رہا تم انتہائے عشق کا معیار ہی رہو تم خون تُھُْوْکتِی ہو یہ سُن کر خوشی ہوئی اس رنگ اس ادا میں بھی پرکار ہی رہو میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجات میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو اپنی متاع ناز لٹا کر مرے لیے بازار التفات میں نادار ہی رہو جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکا غم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکا جب میرے سب چراغ تمنا ہوا کے ہیں جب میرے سارے خواب کسی بے وفا کے ہیں پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں تنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں

💡 Meaning & story

یہ جون ایلیا کی ایک انتہائی تلخ، بے باک اور جذباتی کرب سے بھری ہوئی غزل (یا نظم نما اشعار) ہے۔ جون ایلیا اپنی شاعری میں روایتی رومانیت کے بجائے وجودیت (Existentialism)، بیزاری اور خود اذیتی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس کلام کی تشریح درج ذیل نکات میں سمجھی جا سکتی ہے: مرکزی خیال اس غزل کا بنیادی موضوع محبت کی ناکامی نہیں بلکہ محبت کی لایعنیت (Absurdity) ہے۔ شاعر اپنی محبوبہ سے ہمدردی کرنے کے بجائے اسے اپنی اذیت میں برابر کا شریک دیکھنا چاہتا ہے، کیونکہ وہ خود ایک ایسے ذہنی عذاب میں ہے جہاں اسے نہ اپنی پہچان ہے نہ محبوبہ کی۔ اشعار کی تشریح 1. بے چہرگی اور لایعنیت: تم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تم میں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میں جون یہاں انسانی وجود کے بحران کی بات کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی تو ہیں ہی، ہم خود اپنے لیے بھی اجنبی ہیں۔ یہ تعلق کسی مقصد یا پہچان کے بغیر بس ایک بوجھ بن چکا ہے۔ 2. اذیت پسندی (Sadism): تم خون تھوکتی ہو یہ سن کر خوشی ہوئی اس رنگ اس ادا میں بھی پرکار ہی رہو یہ اس غزل کا سب سے متنازع اور چونکا دینے والا شعر ہے۔ یہاں شاعر اپنی محبوبہ کی بیماری یا تکلیف (تپِ دق/ٹی بی کی علامت) پر خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ خوشی کسی دشمنی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس احساس سے پیدا ہوئی ہے کہ تم بھی اسی فنا اور تکلیف کا حصہ ہو جس میں میں جل رہا ہوں۔ وہ اسے اس حال میں بھی "پرکار" (چالاک/تیار) دیکھنا چاہتا ہے۔ 3. خدا ہونے سے انکار: تم جس زمین پر ہو میں اس کا خدا نہیں پس سر بسر اذیت و آزار ہی رہو شاعر صاف کہتا ہے کہ میں کوئی نجات دہندہ یا مشکل کشا نہیں ہوں۔ میں تمہاری تقدیر بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس لیے تمہارا مقدر صرف تکلیف اور دکھ ہے، اور تمہیں اسی میں رہنا چاہیے۔ 4. محبت نجات کا راستہ نہیں: میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجات میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو روایتی شاعر محبت کو سکون اور نجات کہتے ہیں، لیکن جون اس کے برعکس کہتے ہیں کہ محبت کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔ وہ محبوبہ کو وفاداری کے بوجھ سے آزاد کر رہے ہیں، مگر ایک تلخ انداز میں۔ 5. بے بسی اور بیزاری: جب میں تمہیں نشاط محبت نہ دے سکا غم میں کبھی سکون رفاقت نہ دے سکا یہاں شاعر اپنی نااہلی کا اعتراف کرتا ہے کہ وہ نہ تو خوشی دے سکا اور نہ ہی دکھ میں سہارا بن سکا۔ جب وہ خود اندر سے ٹوٹا ہوا ہے اور اس کے "چراغِ تمنا" ہوا کے رحم و کرم پر ہیں، تو وہ کسی اور کی زندگی کیسے روشن کر سکتا ہے؟ 6. حقِ محبت سے محرومی: پھر مجھ کو چاہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں تنہا کراہنے کا تمہیں کوئی حق نہیں آخری حصے میں وہ ایک عجیب منطق پیش کرتے ہیں: جب میں تمہارے لیے کچھ نہیں کر سکتا، تو تمہیں بھی حق نہیں کہ تم میری محبت میں برباد ہو یا اکیلے بیٹھ کر دکھ سہو۔ یہ ایک طرح کا "تارکِ محبت" ہونے کا اعلان ہے۔ خلاصہ جون ایلیا کی یہ غزل ایک اینٹی ہیرو (Anti-hero) کا بیانیہ ہے۔ وہ خود کو "بے مہر" (بے مروت) تسلیم کرتے ہیں اور محبوبہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ اس لاحاصل محبت سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ اپنی متاعِ ناز (عزت و غرور) لٹا کر بازارِ الفت میں کنگال (نادار) ہو جائے۔