Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Awakening color — cover art

Song lyrics

Awakening color

📜 Lyrics

مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں میں کاش یہی ایک کام کر جاؤں یہ دشت ترکِ مُحبت یہ تیرے قُرب کی پیاس جو اِذن ہو تو تِری یاد سے گُزر جاؤں میرا وجود میری روح کو پکارتا ہے تیری طرف بھی چَلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں تیرے جمال کا پرتُو ہے سب حَسینوں پر کہاں کہاں تُجھے ڈُھونڈوں کِدھر کِدھر جاؤں میں زندہ تھا کہ تیرا اِنتظار ختم نہ ہو جو تو مِلی ہے تو اَب سوچتا ہوں مَر جاؤں تیرے سوا کوئی شائستا وفا بھی تو ہو میں تیرے در سے جو اُٹھوں تو کِس کے گھر جاؤں یہ سوچتا ہوں کہ میں بُت پرست کیوں نہ ہُوا تُجھے قریب جو پاؤں تو خود سے ڈر جاؤں کسی چمن میں بس اس خوف سے گُزر نہ ہُوا کسی کلی پہ نہ بُھولے سے پاؤں دَھر جاؤں یہ رنگِ وفا، یہ وفا کی بَستی ہے میں اس بَستی میں ہر سُو بِکھر جاؤں میں تیرے قُرب کی پیاس میں جلتا ہوں تیری یاد کے دریا میں اُتر جاؤں میری رُوح کو تیری ہی تلاش ہے میں تیرے جمال میں کھو کر مر جاؤں یہ دنیا اِک عجائب گھر ہے میں اس میں ہر لمحہ نیا رَنگ پاؤں مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں میں کاش یہی ایک کام کر جاؤں یہ جی میں آتی ہے تخلیقِ فن کے لَمحوں میں کہ خون بن کے رَگ سَنگ میں اُتر جاؤں

💡 Meaning & story

احمد ندیم قاسمی: "مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں" (تشریح) مرکزی خیال اس غزل کا مرکزی خیال "فنا اور بقا" کے گرد گھومتا ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ اس کی موت محض ایک خاتمہ نہ ہو، بلکہ وہ اپنے فن اور اپنی محبت کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں میں رنگ بھر دے۔ یہ ایک فنکار کی وہ خواہش ہے جہاں وہ اپنی ذات کو مٹا کر انسانیت اور خوبصورتی میں ضم ہونا چاہتا ہے۔ ________________________________________ اشعار کی تشریح مروں تو میں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں میں کاش یہی ایک کام کر جاؤں • تشریح: قاسمی صاحب مرنے کے بعد بھی زندگی بانٹنے کا ہنر چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے موت آئے تو میری خواہش ہے کہ میرا فن یا میری قربانی کسی اداس چہرے پر مسکراہٹ اور زندگی کی لہر دوڑا دے۔ ایک سچے انسان کا مقصد دوسروں کی زندگی میں خوبصورتی لانا ہونا چاہیے۔ میرا وجود میری روح کو پکارتا ہے تیری طرف بھی چَلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں • تشریح: یہاں انسان کی داخلی کشمکش دکھائی گئی ہے۔ جسم (مادی دنیا) اور روح (عشقِ حقیقی) کے درمیان ایک فاصلہ ہے۔ محبوب کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں میں جو لغزش ہے، وہ دراصل اس کے جاہ و جلال اور اپنی بے مائیگی کا احساس ہے۔ تیرے جمال کا پرتُو ہے سب حَسینوں پر کہاں کہاں تُجھے ڈُھونڈوں کِدھر کِدھر جاؤں • تشریح: یہ شعر وحدت الشہود کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کو کائنات کی ہر خوبصورت چیز میں اپنے محبوب کا عکس نظر آتا ہے۔ جب حسن ہر جگہ بکھرا ہوا ہو، تو کسی ایک جگہ مرکزِ نگاہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں زندہ تھا کہ تیرا اِنتظار ختم نہ ہو جو تو مِلی ہے تو اَب سوچتا ہوں مَر جاؤں • تشریح: یہ انسانی نفسیات کا ایک عجیب پہلو ہے۔ کبھی کبھی انتظار کی لذت وصل (ملنے) کی خوشی سے زیادہ ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب جب کہ مقصدِ حیات حاصل ہو گیا ہے، تو اس انتہا کے بعد زندگی کا کیا کام؟ اب اس خوبصورت موڑ پر فنا ہو جانا ہی بہتر ہے۔ تیرے سوا کوئی شائستا وفا بھی تو ہو میں تیرے در سے جو اُٹھوں تو کِس کے گھر جاؤں • تشریح: یہ شعر محبوب کی یکتائی اور وفاداری کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا میں کوئی دوسرا ایسا ٹھکانہ نہیں جہاں سکون ملے، اس لیے اگر تیرے در سے ہٹ گیا تو در بدر ہو جاؤں گا۔ کسی چمن میں بس اس خوف سے گُزر نہ ہُوا کسی کلی پہ نہ بُھولے سے پاؤں دَھر جاؤں • تشریح: یہ شاعر کی نزاکتِ احساس اور کائنات کی ہر شے سے محبت کی دلیل ہے۔ وہ اتنا حساس ہے کہ کسی کلی کا کچلنا بھی اسے گوارا نہیں۔ یہ شعر ہمدردی اور کائنات کے ہر ذرے کے احترام کا سبق دیتا ہے۔ یہ جی میں آتی ہے تخلیقِ فن کے لَمحوں میں کہ خون بن کے رَگِ سَنگ میں اُتر جاؤں • تشریح: یہ فن کی معراج ہے۔ "رگِ سنگ" (پتھر کی رگ) میں خون بن کر اترنے کا مطلب ہے بے جان چیزوں میں زندگی پھونک دینا۔ ایک فنکار جب کچھ تخلیق کرتا ہے تو وہ اپنی زندگی کا خون اس میں شامل کر دیتا ہے تاکہ وہ فن پارہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جائے۔