Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Abhi Toh Mai Jawan Huun — cover art

Song lyrics

Abhi Toh Mai Jawan Huun

📜 Lyrics

ہوا بھی خوش گوار ہے گلوں پہ بھی نکھار ہے ترنم ہزار ہے بہار پر بہار ہے کہاں چلا ہے ساقیا ادھر تو لوٹ ادھر تو آ ارے یہ دیکھتا ہے کیا اٹھا سبو سبو اٹھا سبو اٹھا پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے ادھر چمن کی سمت کر نظر سماں تو دیکھ بے خبر وہ کالی کالی بدلیاں افق پہ ہو گئیں عیاں وہ اک ہجوم مے کشاں ہے سوئے مے کدہ رواں یہ کیا گماں ہے بد گماں سمجھ نہ مجھ کو ناتواں خیال زہد ابھی کہاں ابھی تو میں جوان ہوں عبادتوں کا ذکر ہے نجات کی بھی فکر ہے جنون ہے ثواب کا خیال ہے عذاب کا مگر سنو تو شیخ جی عجیب شے ہیں آپ بھی بھلا شباب و عاشقی الگ ہوئے بھی ہیں کبھی حسین جلوہ ریز ہوں ادائیں فتنہ خیز ہوں ہوائیں عطر بیز ہوں تو شوق کیوں نہ تیز ہوں نگار ہائے فتنہ گر کوئی ادھر کوئی ادھر ابھارتے ہوں عیش پر تو کیا کرے کوئی بشر چلو جی قصہ مختصر تمہارا نقطۂ نظر درست ہے تو ہو مگر ابھی تو میں جوان ہوں یہ گشت کوہسار کی یہ سیر جوئے بار کی یہ بلبلوں کے چہچہے یہ گل رخوں کے قہقہے کسی سے میل ہو گیا تو رنج و فکر کھو گیا کبھی جو بخت سو گیا یہ ہنس گیا وہ رو گیا یہ عشق کی کہانیاں یہ رس بھری جوانیاں ادھر سے مہربانیاں ادھر سے لن ترانیاں یہ آسمان یہ زمیں نظارہ ہائے دل نشیں انہیں حیات آفریں بھلا میں چھوڑ دوں یہیں ہے موت اس قدر قریں مجھے نہ آئے گا یقیں نہیں نہیں ابھی نہیں ابھی تو میں جوان ہوں نہ غم کشود و بست کا بلند کا نہ پست کا نہ بود کا نہ ہست کا نہ وعدۂ الست کا امید اور یاس گم حواس گم قیاس گم نظر سے آس پاس گم ہمہ بجز گلاس گم نہ مے میں کچھ کمی رہے قدح سے ہمدمی رہے نشست یہ جمی رہے یہی ہما ہمی رہے وہ راگ چھیڑ مطربا طرب فزا، الم ربا اثر صدائے ساز کا جگر میں آگ دے لگا ہر ایک لب پہ ہو صدا نہ ہاتھ روک ساقیا پلائے جا پلائے جا ابھی تو میں جوان ہوں

💡 Meaning & story

یہ خوبصورت نظم حفیظ جالندھری کی مشہورِ زمانہ تخلیق ہے، جسے "ابھی تو میں جوان ہوں" کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ یہ نظم اپنی روانی، موسیقی اور زندہ دلی کی وجہ سے اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ ________________________________________ نظم کا مرکزی خیال (Theme) اس نظم کا بنیادی موضوع فطرت کی رعنائی، جوانی کا جوش اور زندگی سے بھرپور لگاؤ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب چاروں طرف بہار ہو، بادل چھائے ہوں اور زندگی اپنے پورے عروج پر ہو، تو انسان کو توبہ اور زہد کی فکر چھوڑ کر ان لمحوں کا لطف اٹھانا چاہیے۔ ________________________________________ اشعار کی مختصر تشریح 1. منظر نگاری اور ساقی سے خطاب ابتدائی بند میں شاعر موسمِ بہار کی خوبصورتی بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہوا خوشگوار ہے اور پھولوں پر نکھار ہے۔ ایسے میں وہ ساقی (شراب پلانے والے) کو پکارتا ہے کہ ادھر ادھر نہ دیکھ، بس جام بھر کر دیتا جا کیونکہ یہ موسم پینے اور پلانے کا ہے۔ 2. شیخ سے مکالمہ اور زہد کا انکار شاعر "شیخ جی" (مذہبی بزرگ) کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ آپ کی عبادت، ثواب اور عذاب کی باتیں اپنی جگہ درست ہوں گی، لیکن جوانی اور عاشقی کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ جب سامنے خوبصورت نظارے ہوں اور فضائیں معطر ہوں، تو انسان کا دل بہکنا فطری بات ہے۔ وہ کہتا ہے: "تمہارا نقطۂ نظر درست ہے تو ہو مگر۔۔۔ ابھی تو میں جوان ہوں" 3. فطرت اور انسانی جذبات شاعر پہاڑوں کی سیر، ندیوں کے کنارے، بلبلوں کے چہچہے اور محبوب کے قہقہوں کا ذکر کرتا ہے۔ وہ زندگی کے ان حسین تجربات کو "حیات آفریں" (زندگی بخشنے والے) قرار دیتا ہے۔ اسے اس بات پر یقین نہیں آتا کہ موت اتنی قریب ہو سکتی ہے کہ وہ ان سب چیزوں کو ابھی چھوڑ دے۔ 4. بے خودی اور مستی کی انتہا آخری حصے میں شاعر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر صرف حال میں جینا چاہتا ہے۔ اسے نہ بلندی و پستی کی فکر ہے اور نہ ہی کائنات کے فلسفوں (وعدۂ الست) سے غرض۔ وہ چاہتا ہے کہ مطرب (گانے والا) ایسا راگ چھیڑے جو دکھوں کو مٹا دے اور ساقی مسلسل پلائے جائے، کیونکہ وہ خود کو ابھی بوڑھا یا ہمت ہارا ہوا تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔