Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Jadoo Tona — cover art

Song lyrics

Jadoo Tona

📜 Lyrics

کوئی ایسا جادو ٹونہ کر میرے عِشق میں وہ دیوانہ ہو یوں اُلٹ پَلٹ کر گردش کی میں شمع، وہ پروانہ ہو زرا دیکھ کے چال ستاروں کی کوئی زائچہ کَھینچ قلندر سا کوئی ایسا جَنتر مَنتر پڑھ جو کر دے بَخت سِکندر سا کوئی چِلّا ایسا کاٹ کہ پھر کوئی اُسکی کاٹ نہ کر پائے کوئی ایسا دے تَعویز مُجھے وہ مُجھ پر عاَشق ہو جائے کوئی فَال نِکال کِرشمہ گَر میری راہ میں پُھول گُلاب آئیں کوئی پانی پُھّوُنک کے دِے ایسا وہ پِیئے تو میرے خُواب آئیں کوئی ایسا کالا جادُو کر جو جَگْمَگْ کر دے میرے دن وہ کہے مبارک جلدی آ اَب جِیا نہ جائے تیرے بِن کوئی اَیسِی رَہ پہ ڈال مُجھے جس رَہ سے وہ دِلدار ملے کوئی تَسبِیْح دَمْ دَرود بتا جِسے پڑھوں تو میرا یار مِلے کوئی قابُو کر بے قابُو جِن کوئی سانپ نِکال پَٹاری سے کوئی دَھاگہ کَھینچ پَراندے کا کوئی مَنْکا اکشا دھاری سے کوئی ایسا بول سِکھا دے نا وہ سمجھے خوش گُفتار ہوں میں کوئی ایسا عَمل کَرا مجھ سے وہ جانے ، جان نثار ہوں میں کوئی ڈُھونڈھ کے وہ کَسْتوری لا اُسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں جو مرضی میرے یار کی ہے اُسے لگے میں بِلکُل ویسا ہوں کوئی ایسا اِسم اَعظم پڑھ جو اَشک بَہا دے سَجدوں میں اور جیسے تیرا دَعوا ہے محبوب ہو میرے قدموں میں پر عَامل رُک، اِک بات کَہُوں یہ قدموں والی بات ہے کیا محبوب تو ہے سر آنکھوں پر مُجھ پَتھر کی اوقات ہے کیا اور عامل سُن یہ کام بدل یہ کام بُہت نُقصان کا ہے سب دھاگے اُس کے ہاتھ میں ہیں جو مَالک کُل جہان کا ہے

💡 Meaning & story

Written by Mubarik Siddiqi نظم کی مختصر تشریح (برائے آڈینس) اس نظم میں شاعر نے انسانی نفسیات کی ایک خوبصورت عکاسی کی ہے۔ آغاز میں ایک عاشق کی بے چینی دکھائی گئی ہے جو اپنے محبوب کو پانے کے لیے ہر قسم کے جادو، منتر، تعویذ اور ستاروں کی چال بدلنے پر تلے عامل سے فریاد کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی بھی طرح محبوب اس کی محبت میں دیوانہ ہو جائے اور اس کے قدموں میں آ گرے۔ اصل موڑ (The Turning Point): نظم کا آخری حصہ اس پوری کہانی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔ شاعر اچانک اپنی اوقات اور محبوب کے مقام کو پہچان لیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جس سے محبت ہو، اسے قدموں میں نہیں بلکہ سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کوئی تعویذ یا جادو انسان کی تقدیر نہیں بدل سکتا؛ تمام معاملات کا مالک صرف اللہ ہے اور وہی دلوں کو پھیرنے والا ہے۔ یہ نظم جادو ٹونے جیسے وہم سے نکل کر "عشقِ حقیقی" اور "توکل" کا سبق دیتی ہے۔