Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Basant — cover art

Song lyrics

Basant

📜 Lyrics

لو پھر بسنت آئی پھولوں پہ رنگ لائی چلو بے درنگ لب آب گنگ بجے جل ترنگ من پر اُمنگ چھائی پھولوں پہ رنگ لائی لو پھر بسنت آئی آفت گئی خزاں کی قسمت پھری جہاں کی چلے مے گسار سوئے لالہ زار مئے پردہ دار شیشے کے در سے جھانکی قسمت پھری جہاں کی آفت گئی خزاں کی لو پھر بسنت آئی پھولوں پہ رنگ لائی کَھیتوں کا ہر چرندہ باغوں کا ہر پرندہ کوئی گرم خیز کوئی نغمہ ریز سبک اور تیز پھر ہو گیا ہے زندہ باغوں کا ہر پرندہ کَھیتوں کا ہر چرندہ دھرتی کے بیل بُوٹے انداز نو سے پھوٹے ہوا بخت سبز ملا رخت سبز ہیں درخت سبز بن بن کے سبز نکلے انداز نو سے پھوٹے دھرتی کے بیل بُوٹے پھولی ہوئی ہے سرسوں بھولی ہوئی ہے سرسوں نہیں کچھ بھی یاد یونہی بامراد یونہی شاد شاد گویا رہے گی برسوں بھولی ہوئی ہے سرسوں پھولی ہوئی ہے سرسوں لڑکوں کی جنگ دیکھو ڈور اور پتنگ دیکھو کوئی مار کھائے کوئی کُھلکَھلائے کوئی منہ چڑھائے طُفلی کے رنگ دیکھو ڈور اور پتنگ دیکھو لڑکوں کی جنگ دیکھو لو پھر بسنت آئی پھولوں پہ رنگ لائی ہے عشق بھی جنوں بھی مستی بھی جوش خوں بھی کہیں دل میں درد کہیں آہ سرد کہیں رنگ زرد ہے یوں بھی اور یوں بھی مستی بھی جوش خوں بھی ہے عشق بھی جنوں بھی لو پھر بسنت آئی پھولوں پہ رنگ لائی اک نازنیں نے پہنے پھولوں کے زرد گہنے ہے مگر اُداس نہیں پِی کے پاس غم و رنج و یاس دل کو پڑے ہیں سہنے اک نازنیں نے پہنے پھولوں کے زرد گہنے

💡 Meaning & story

نظم: "لو پھر بسنت آئی" – مختصر تشریح یہ نظم بہار کے موسم اور بسنت کے تہوار کی ایک دلکش عکاسی ہے۔ شاعر نے اس میں قدرت کی تبدیلیوں، انسانی جذبوں اور برصغیر کی ثقافت کو بڑے خوبصورت انداز میں سمویا ہے۔ 1. آمدِ بہار اور خوشی کا سماں نظم کے آغاز میں شاعر بتاتے ہیں کہ خزاں کی سختی ختم ہو چکی ہے اور بسنت کی آمد سے کائنات کا رنگ بدل گیا ہے۔ پھول کھل اٹھے ہیں اور ہر طرف ایک تازگی ہے۔ شاعر دریا کے کنارے (لبِ آبِ گنگ) جا کر اس تبدیلی کا لطف اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں۔ 2. قدرت کا نیا روپ بہار آتے ہی زمین سے نئے بیل بوٹے پھوٹ رہے ہیں۔ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہے، گویا درختوں نے سبز لباس (رختِ سبز) پہن لیا ہو۔ کھیتوں کے جانور اور باغوں کے پرندے جو سردی میں سہمے ہوئے تھے، اب چہچہا رہے ہیں اور زندگی کی لہر ہر جاندار میں دوڑ گئی ہے۔ 3. سرسوں کے کھیت اور بسنتی رنگ بسنت کی خاص پہچان سرسوں کے پیلے پھول ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ سرسوں اس قدر کھل کر لہرا رہی ہے جیسے اسے کسی چیز کا غم نہ ہو اور وہ ہمیشہ ایسے ہی شاداب رہے گی۔ 4. پتنگ بازی اور بچپن کی یادیں شاعر نے بسنت کے روایتی کھیل پتنگ بازی کا ذکر بھی کیا ہے۔ آسمان پتنگوں سے بھرا ہے، لڑکے آپس میں پیچ لڑا رہے ہیں۔ کوئی پتنگ کٹنے پر اداس ہے تو کوئی جیتنے پر قہقہے لگا رہا ہے۔ یہ منظر بچپن کی شوخیوں اور خوشیوں کی یاد دلاتا ہے۔ 5. عشق اور جدائی کا پہلو نظم کا اختتام تھوڑا جذباتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جہاں ہر طرف خوشی ہے، وہاں عشق کی دنیا میں کچھ لوگ اداس بھی ہیں۔ ایک نازنین (حسین عورت) نے بسنت کی مناسبت سے پیلے پھولوں کے زیور تو پہن لیے ہیں، لیکن اس کا محبوب پاس نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس کی خوشی ادھوری ہے اور وہ غم و یاس میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ________________________________________ خلاصہ (Conclusion): یہ نظم ہمیں سکھاتی ہے کہ خوشی اور غم زندگی کا حصہ ہیں۔ جہاں قدرت کا حسن اور میلوں کی چہل پہل دل کو لبھاتی ہے، وہیں انسانی دلوں کی اپنی ایک الگ دنیا ہے جو کبھی وصل کی خوشی اور کبھی ہجر کے غم سے عبارت ہے۔