Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Seb Maya Hai — cover art

Song lyrics

Seb Maya Hai

📜 Lyrics

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے اِس عِشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے جو تُم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے سب مایا ہے ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے سب مایا ہے اِک نام تو بَاقی رہتا ہے، گر جان نہیں جب دیکھ لِیا اِس سودے میں نقصان نہیں تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے سب مایا ہے معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قِصہ بھی سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ اِنشا بھی فرہاد بھی جو اِک نہر سِی کھود کے لایا ہے سب مایا ہے کیوں درد کے نامے لِکھتے لِکھتے رات کرو جِس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو اُس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے؟ سب مایا ہے جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں تم جانتے ہو ہم کیوں کر اس کا نام لکھیں دِل اُس کی بھی چوکھٹ چُوم کے واپس آیا ہے سب مایا ہے وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی وہ جِس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی آج اُس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے سب مایا ہے جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حُکم لگایا ہے سب مایا ہے جب دیکھ لِیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے اِس شہر سے دور اِک کُٹیا ہم نے بنائی ہے اور اُس کُٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے سب مایا ہے سب مایا ہے سب مایا ہے

💡 Meaning & story

یہ غزل اردو ادب کے مشہور شاعر ابنِ انشا کی شاہکار تخلیقات میں سے ایک ہے۔ اس کا مرکزی خیال صوفیانہ رنگ اور دنیا کی بے ثباتی (یعنی دنیا کا ختم ہو جانا) ہے۔ "مایا" سنسکرت کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے "دھوکا، فریب یا نظر کا دھوکا"۔ ________________________________________ مرکزی خیال اس غزل میں ابنِ انشا کہتے ہیں کہ اس دنیا میں عشق، محبت، شہرت اور مادی اشیاء سب عارضی ہیں۔ انسان جسے حاصل کرنے کے لیے پوری زندگی تگ و دو کرتا ہے، آخر میں وہ سب مٹی ہو جاتا ہے۔ ________________________________________ اشعار کی تشریح 1. مطلع سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے تشریح: شاعر کہتا ہے کہ اس زندگی میں جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے وہ ایک ڈھلتے ہوئے سائے کی طرح ہے (جو صبح کہیں اور دوپہر کو کہیں ہوتا ہے)۔ عشق میں انسان چاہے کچھ حاصل کرے یا سب کچھ لٹا دے، حقیقت میں ان دونوں کی کوئی مستقل حیثیت نہیں ہے۔ سب ایک سراب ہے۔ 2. فیض کا حوالہ جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے سب مایا ہے تشریح: یہاں انشا صاحب بڑے ہی خوبصورت انداز میں کہتے ہیں کہ چاہے کسی عام انسان کی بات ہو یا فیض احمد فیض جیسے بڑے شاعر کی انقلابی گفتگو—سب لفظوں کا گورکھ دھندا ہے۔ موت اور فنا کے سامنے سب برابر ہے۔ 3. رسوائی کی لذت ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے تشریح: شاعر کہتا ہے کہ عشق میں کبھی کبھار محبوب کا دیدار ہو جاتا ہے یا پھر عشق میں بدنامی ملتی ہے۔ ان دو چیزوں کے علاوہ انسان دنیا میں جو بھی نیکیاں یا "ثواب" اکٹھا کرتا ہے، وہ سب عارضی مفاد ہے۔ اصل حقیقت صرف وہ درد ہے جو انسان محسوس کرتا ہے۔ 4. شمع اور پروانہ اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے تشریح: جب انسان کو یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ زندگی تو ویسے ہی ختم ہو جانی ہے، تو وہ اسے کسی مقصد (شمع) پر قربان کرنے سے نہیں ڈرتا۔ پروانہ جانتا ہے کہ جان تو جانی ہی ہے، کیوں نہ اسے عشق کی آگ میں جلا کر امر کر دیا جائے۔ 5. عشاق کی داستانیں معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشاؔ بھی فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے تشریح: یہاں تاریخ کے بڑے عاشقوں (مجنوں، رانجھا، فرہاد) کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ چاہے کسی نے پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر نکالی ہو یا صحراؤں کی خاک چھانی ہو، ان سب کا انجام ایک ہی تھا۔ وقت نے سب کو مٹا دیا، اس لیے ان کی محنت بھی "مایا" ہی تھی۔ 6. سات سمندر پار کی نار کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے؟ تشریح: یہاں شاعر تھوڑا طنزیہ ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم کیوں راتوں کو جاگ کر جدائی کے خط لکھتے ہو؟ وہ محبوبہ جو تم سے دور ہے، وہ اکیلی نہیں جو بے وفائی کر رہی ہے۔ اس دنیا کی ریت ہی یہی ہے کہ یہاں ہر کوئی کسی نہ کسی سے دھوکا کھاتا ہے۔ 7. چاند نگر کی رانی وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے تشریح: وہ محبوبہ جو کبھی بہت حسین، معصوم اور مغرور تھی، وقت گزرنے کے ساتھ اسے بھی احساس ہو گیا ہے کہ خوبصورتی اور جوانی سب ڈھل جانے والی چیزیں ہیں۔ اب وہ خود اعتراف کرتی ہے کہ "سب مایا ہے"۔ 8. وفا کا دھوکا جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں تشریح: ابنِ انشا کہتے ہیں کہ جو لوگ آج بھی وفاداری کے دعوے کرتے ہیں، وہ اصل میں حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وفا نام کی کوئی چیز مستقل نہیں، بس ایک دوسرے کو تسلی دینے کا ایک طریقہ ہے۔ 9. مقطع (آخری شعر) جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے اس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہے اور اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے سب مایا ہے تشریح: یہ غزل کا سب سے طاقتور حصہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میں نے دیکھ لیا کہ اس دنیا میں کوئی کسی کا نہیں اور ہر انسان بے وفا (ہرجائی) ہے، تو میں نے اس ہجوم سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ میں نے شہر چھوڑ کر ایک جھونپڑی بنا لی ہے اور اس کے دروازے پر یہ سبق لکھ دیا ہے کہ: دنیا کی ہر چیز فانی اور دھوکا ہے۔