Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
Moon in Danger — cover art

Song lyrics

Moon in Danger

📜 Lyrics

اِس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہے اُس سے مل کر میں نے جانا روشنی خطرے میں ہے اُس کی صورت دیکھ کر بولا ستاروں سے قمر یار لگتا ہے کہ اپنی نوکری خطرے میں ہے اُس کے ہاتھوں میں چُھری کو دیکھ کر حیران ہوں اُنگلیاں خطرے میں ہیں یا پھر چُھری خطرے میں ہے کیا کہا تم نے اُسے دیکھا ہے اپنے شہر میں یعنی اب تو شہر کا ہر آدمی خطرے میں ہے کون ہِیرا ہے یہاں اور کون ہے ہِیرا نما فرق اِتنا سا بتا کر جوہری خطرے میں ہے آئینہ جب بھی کبھی لایا ہے اُس کے سامنے اپنے ہونے پر خود اپنی ہستی خطرے میں ہے پہلے تو صرف ایک ہم ہی مبتلائے عِشق تھے اَب تو لگتا ہے کہ دُنیا کی خوشی خطرے میں ہے مُسکرائے وہ اگر محفل میں نادانی کے ساتھ پھر تو سمجھو ہر کسی کی سنجیدگی خطرے میں ہے اِک نظر دیکھا تھا اُس نے بس ذرا سا گھوم کر تب سے سب کہتے ہیں دل کی بستی خطرے میں ہے رنگ و خوشبو کی لگی ہے ہوڑ باغ و دشت میں پُھول ڈرتے ہیں کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے جِھیل سی آنکھوں میں اُس کی ڈوب سکتی ہے کبھی روک لو اُس کو کوئی جا کر ندی خطرے میں ہے بے سر و پا شعر کہہ کر خوش تھا میں آج میرؔ جی سپنے میں بولے شاعری خطرے میں ہے

💡 Meaning & story

غزل مع تشریح اس غزل کا مرکزی خیال محبوب کے حسن کی وہ تابانی ہے جو کائنات کی ہر چیز کو ماند کر دیتی ہے، اور اسے ایک مزاحیہ اور شگفتہ رنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ اشعار اور ان کی وضاحت ۱. آئینہ جب بھی کبھی لایا ہے اُس کے سامنے اپنے ہونے پر خود اپنی ہستی خطرے میں ہے تشریح: اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کا حسن اتنا بے مثال ہے کہ جب آئینہ اس کے سامنے آتا ہے، تو اسے اپنی حقیقت پر شک ہونے لگتا ہے۔ آئینہ خود پریشان ہے کہ اصل خوبصورتی تو سامنے کھڑی ہے، میری اپنی کیا حیثیت ہے۔ ۲. پہلے تو صرف ایک ہم ہی مبتلائے عشق تھے اب تو لگتا ہے کہ دُنیا کی خوشی خطرے میں ہے تشریح: شاعر کہتا ہے کہ پہلے تو صرف میں ہی اس کی محبت میں گرفتار تھا، لیکن اب اس کی ادائیں دیکھ کر لگتا ہے کہ پوری دنیا اس پر فدا ہو جائے گی، جس سے سب کا سکون اور خوشی داؤ پر لگ گئی ہے۔ ۳. مسکرائے وہ اگر محفل میں نادانی کے ساتھ پھر تو سمجھو ہر کسی کی سنجیدگی خطرے میں ہے تشریح: یہاں محبوب کی معصوم مسکراہٹ کا ذکر ہے۔ اگر وہ محفل میں ذرا سا مسکرا دے، تو بڑے سے بڑے سنجیدہ اور باوقار لوگ بھی اپنا ہوش کھو بیٹھتے ہیں اور ان کا وقار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ۴. اِک نظر دیکھا تھا اُس نے بس ذرا سا گھوم کر تب سے سب کہتے ہیں دل کی بستی خطرے میں ہے تشریح: محبوب کی ایک سرسری نظر ہی کافی ہے کسی کا دل لوٹنے کے لیے۔ اس کی ایک جھلک نے پورے شہر کے دلوں میں ہلچل مچا دی ہے اور اب ہر کوئی اپنے دل کو سنبھالنے کی فکر میں ہے۔ ۵. رنگ و خوشبو کی لگی ہے ہوڑ باغ و دشت میں پھول ڈرتے ہیں کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے تشریح: یہ ایک خوبصورت استعارہ ہے۔ محبوب کی خوشبو اور رنگت کے سامنے پھولوں کو اپنی وقعت ختم ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ اب لوگ انہیں چھوڑ کر محبوب کی طرف مائل ہو جائیں گے۔