Farooq Music Lyrics & Meaning
← All songs
In Love of Pakistan — cover art

Song lyrics

In Love of Pakistan

📜 Lyrics

حب قومی کا زباں پر ان دنوں افسانہ ہے بادۂ الفت سے پر دل کا مرے پیمانہ ہے جس جگہ دیکھو محبت کا وہاں افسانہ ہے عشق میں اپنے وطن کے ہر بشر دیوانہ ہے جب کہ یہ آغاز ہے انجام کا کیا پوچھنا بادۂ الفت کا یہ تو پہلا ہی پیمانہ ہے ہے جو روشن بزم میں قومی ترقی کا چراغ دل فدا ہر اک کا اس پر صورت پروانہ ہے مجھ سے اس ہمدردی و الفت کا کیا ہووے بیاں جو ہے وہ قومی ترقی کے لیے دیوانہ ہے لطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاں بر خلاف اس کے جو ہو سمجھو کہ وہ دیوانہ ہے نخل الفت جن کی کوشش سے اگا ہے قوم میں قابل تعریف ان کی ہمت مردانہ ہے ہے گل مقصود سے پر گلشن کشمیر آج دشمنی نااتفاقی سبزۂ بیگانہ ہے در فشاں ہے ہر زباں حب وطن کے وصف میں جوش زن ہر سمت بحر ہمت مردانہ ہے یہ محبت کی فضا قائم ہوئی ہے آپ سے آپ کا لازم تہ دل سے ہمیں شکرانہ ہے ہر بشر کو ہے بھروسا آپ کی امداد پر آپ کی ہمدردیوں کا دور دور افسانہ ہے جمع ہیں قومی ترقی کے لیے ارباب قوم رشک فردوس ان کے قدموں سے یہ شادی خانہ ہے

💡 Meaning & story

چکبست برج نرائن کی نظم 1882 -1926 چکبست اردو ادب کے ان شعراء میں سے ہیں جنہوں نے وطن کی محبت کو محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ بنا کر پیش کیا۔ اس نظم کے چند اہم پہلوؤں اور تشریح پر ایک نظر ڈالتے ہیں: مرکزی خیال اور تشریح اس نظم میں چکبست نے 'قومی ہمدردی' اور 'حبِ وطن' کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ وہ اس بات پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ اب لوگوں میں اپنے ملک اور قوم کی ترقی کا شعور بیدار ہو رہا ہے۔ حبِ وطنی کا جذبہ نظم کے آغاز میں ہی وہ کہتے ہیں کہ ہر طرف وطن کی محبت کا چرچا ہے اور ان کا اپنا دل بھی اس الفت کے جام سے لبریز ہے۔ عشق میں اپنے وطن کے ہر بشر دیوانہ ہے یہ مصرع اس دور کی عکاسی کرتا ہے جب برصغیر میں آزادی اور قومی بیداری کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں۔ اتحاد اور یگانگت کی دعوت چکبست نے "لطفِ یکتائی" (اتحاد) کو "دوئی" (فرقہ بندی یا علیحدگی) پر فوقیت دی ہے۔ ان کے نزدیک جو قوم متحد نہیں، وہ ترقی کی راہ پر نہیں چل سکتی۔ لطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاں کشمیر کا ذکر چکبست کا تعلق کشمیری پنڈتوں کے خاندان سے تھا، اسی لیے ان کے کلام میں اکثر کشمیر کی محبت جھلکتی ہے۔ اس نظم میں بھی وہ کشمیر کے "گلشن" ہونے اور وہاں سے نااتفاقی کے خاتمے کی دعا اور امید کرتے ہیں۔ ہے گل مقصود سے پر گلشن کشمیر آج ________________________________________ تکنیکی و ادبی محاسن • صنفِ سخن: یہ ایک نظم ہے جو غزل کی ہیئت میں لکھی گئی ہے (یعنی ہر شعر کا دوسرا مصرع ہم قافیہ و ہم ردیف ہے)۔ • استعارات کا استعمال: انہوں نے 'شمع اور پروانہ'، 'بادہ و پیمانہ' اور 'نخلِ الفت' (محبت کا درخت) جیسے روایتی استعاروں کو قومی اور سیاسی مفاہیم کے لیے بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ • روانی: چکبست کے کلام کی سب سے بڑی خوبی ان کی زبان کی صفائی اور روانی ہے، جو اس نظم میں بھی صاف نظر آتی ہے۔ یہ نظم دراصل ایک ایسی تحریک ہے جو انسان کو اپنی ذات سے باہر نکل کر قوم اور ملک کے لیے سوچنے پر آمادہ کرتی ہے